Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں سعودی کونسلیٹ قائم کرنے کی مساعی

حیدرآباد میں سعودی کونسلیٹ قائم کرنے کی مساعی

حج 2016 کے بعد دورہ سعودی عرب ، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا عزم
حیدرآباد ۔ 4۔ اگست (سیاست  نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ حیدرآباد میں سعودی کونسلیٹ کے قیام کے سلسلہ میں سعودی حکام سے بات چیت کیلئے وہ ایام حج کے بعد سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمود علی نے کہا کہ سعودی کونسلیٹ کے حیدرآباد میں قیام سے نہ صرف تلنگانہ بلکہ آندھراپردیش اور کرناٹک کے عوام کو بھی سہولت ہوگی ۔ حج اور عمرہ کے علاوہ ویزا سے متعلق دیگر مسائل کی یکسوئی کیلئے ممبئی یا دہلی جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ہند کیلئے کونسلیٹ کے طور پر حیدرآباد کا انتخاب کیا جاسکتا ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کونسلیٹ کے قیام کے سلسلہ میں مرکز سے نمائندگی کی ہے۔ وزارت خارجہ نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔ تاہم حکومت سعودی عرب کی منظوری باقی ہے ۔ محمود علی نے کہا کہ وہ سعودی حکام سے بات چیت کیلئے حج کے بعد سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جدہ اور دیگر شہروں میں ہندوستانی ورکرس کے مسائل کے سلسلہ میں انہوں نے وزیر خارجہ سشما سوراج سے بات چیت کی ہے ۔ سعودی عرب نے 9000 متاثرہ ہندوستانی ورکرس میں 30 فیصد کا تعلق تلنگانہ سے ہے۔ مرکز سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ نہ صرف ان کی واپسی کا انتظام کریں بلکہ لیبر ڈپارٹمنٹ کی مداخلت سے ان کے بقایہ جات اور تنخواہوں کی ادائیگی کا انتظام کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حیدرآباد میں کونسلیٹ قائم ہوگا تو مسائل کی یکسوئی میں سہولت ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ مکہ مکرمہ میں منہدم کی گئی حیدرآبادی رباطوں کے عوض میں متبادل عمارتوں کے حصول کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اگر یہ کوشش کامیاب ہوجائیں تو آئندہ 3 تا 5 برسوں میں نظام اسٹیٹ سے تعلق رکھنے والے تمام عازمین حج کیلئے رباط میں مفت رہائش کا انتظام کردیا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ حج 2016 ء کیلئے 690 عازمین حج کیلئے رباط کے انتظامات کو قطعیت دی جاچکی ہے اور ناظر رباط مزید 200 عازمین کیلئے علحدہ عمارت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس طرح جاریہ سال 900 عازمین کیلئے رباط میں قیام کی سہولت فراہم ہوگی۔ مفت قیام کے علاوہ مفت طعام اور دیگر سہولتیں بھی مفت فراہم کی جائیں گی۔

TOPPOPULARRECENT