Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں صاف اور معیاری پانی کی سربراہی

حیدرآباد میں صاف اور معیاری پانی کی سربراہی

پرانے شہر کو نظرانداز کرنے کا الزام مسترد: کے ٹی آر
حیدرآباد۔/22ڈسمبر، ( سیاست نیوز) وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے آج قانون ساز اسمبلی میں پرانے شہر کو نظرانداز کرنے مجلسی ارکان کے الزام کو مسترد کردیا اورکہا کہ حکومت کی بہتر کارکردگی کے سبب بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس کو 100 ڈیویژنس پر شاندار کامیابی حاصل ہوئی ہے جو اب تک کے بلدی انتخابات کا ایک ریکارڈ ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ پرانے شہر میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو عوام کی زبردست تائید حاصل ہوئی ہے جس کا اندازہ بلدی نتائج سے ہوا ہے۔ وقفہ سوالات کے دوران مجلس کے فلور لیڈر اکبر اویسی نے پانی کی سربراہی اور سیوریج لائنس کی تبدیلی کے مسئلہ پر پرانے شہر کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے باوجود ابھی بھی کنٹراکٹس آندھرائی لوگوں کے پاس ہیں اور ان کے علاقوں کو پانی کی بہتر سربراہی عمل میں آرہی ہے جبکہ تلنگانہ عوام اور پرانا شہر متاثر ہے۔ اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ حکومت کبھی بھی پرانے اور نئے شہر کے تناظر میں نہیں سوچتی اور نہ ہی آندھرا و تلنگانہ اب کوئی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے خود واضح کردیا کہ حیدرآباد میں بسنے والا ہر شخص تلنگانہ کا بیٹا ہے لہذا کسی علاقہ سے امتیاز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہ کہ حکومت کے اقدامات کے نتیجہ میں پرانے شہر میں ٹی آر ایس کو جو کامیابی حاصل ہوئی وہ تاریخ میں کسی برسراقتدار پارٹی کے مظاہرہ سے بہتر ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ کیلئے جدوجہد کی گئی اور علحدہ ریاست حاصل ہوئی لہذا اب آندھرا اور تلنگانہ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ٹی آر ایس نے شہر میں پانی، برقی کی موثر سربراہی اور لاء اینڈ آرڈر پر قابو پاتے ہوئے ان ہی موضوعات پر بلدی انتخابات کا سامنا کیا تھا اور پرانے شہر میں پارٹی کو عوام کی تائید حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں معیاری اور صاف پانی کی سربراہی حکومت کا مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے بعض مسائل حکومت کو وراثت میں ملے ہیں اور حکومت تمام مسائل کی یکسوئی کیلئے اقدامات کررہی ہے۔ پرانے شہر کو نظرانداز کرنے کی نفی کرتے ہوئے کے ٹی آر نے بتایا کہ بہادر پورہ اسمبلی حلقہ میں 2014 تا 2016 علی الترتیب 172 ، 181 اور 46 کام منظور کئے گئے۔ حلقہ چندرائن گٹہ میں 135، 105 اور 65 جبکہ چارمینار میں 122، 88 اور 32 کام منظور کئے گئے۔

TOPPOPULARRECENT