Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں محکمہ اقلیتی بہبود کے سرکاری پوسٹ میٹرک ہاسٹلس کی ابتر صورتحال

حیدرآباد میں محکمہ اقلیتی بہبود کے سرکاری پوسٹ میٹرک ہاسٹلس کی ابتر صورتحال

لڑکیوں کے ہاسٹلس کی تجویز پر عمل نظر انداز ، ضلعی سطح کے طلبہ کو کئی مشکلات کا سامنا
حیدرآباد۔ 12 جون (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے ریاست بھر میں اقلیتوں کے لیے اقامتی اسکولس کا آغاز کیا جارہا ہے۔ لیکن حیدرآباد میں محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے چلنے والے دو سرکاری پوسٹ میٹرک ہاسٹلس کا جائزہ لیں تو وہاں کی ابتر صورتحال سے اندازہ ہوگا کہ عہدیداروں کو اقلیتوں کے ہاسٹلس چلانے میں کس قدر سنجیدگی ہے۔ اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلباء کے لیے اعلی تعلیم جاری رکھنے کی سہولت فراہم کرنے حکومت نے اعظم پورہ اور ملے پلی کے علاقوں میں دو پوسٹ میٹرک اقلیتی ہاسٹلس کا آغاز کیا۔ یہ ہاسٹلس گزشتہ دو برسوں سے قائم ہیں۔ حکومت نے نامپلی میں لڑکیوں کے لیے پوسٹ میٹرک ہاسٹلس کی تجویز رکھی تھی لیکن آج تک اس کا آغاز نہیں ہوسکا۔ اعظم پورہ اور ملے پلی میں واقع پوسٹ میٹرک ہاسٹلس میں میدک، نظام آباد، محبوب نگر، نارائن پیٹ، کریم نگر اور دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلباء موجود ہیں لیکن ہاسٹلس میں صحت و صفائی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا کوئی نظم نہیں جس کے باعث طلباء کو کئی ایک مشکلات کا سامنا ہے۔ چوں کہ یہ طلباء اضلاع سے اپنے گھربار اور خاندان سے دور رہ کر اعلی تعلیم حاصل کرنے کے مقصد سے ان ہاسٹلس میں مقیم ہیں وہ ان تکالیف کو برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ ان ہاسٹلس میں آئی ٹی آئی سے لے کر ایم ٹیک تک تعلیم حاصل کرنے والے طلباء موجود ہیں۔ دونوں ہاسٹلس میں طلباء کی تعداد مقررہ کوٹے سے کم ہے۔ 50 کی گنجائش والے ان ہاسٹلس میں اعظم پورہ میں 30 اور ملے پلی میں 35 طلباء مقیم ہیں۔ ہاسٹلس میں وارڈن کے علاوہ صفائی کے عملے کا انتظام ہے لیکن بتایا جاتا ہے کہ وارڈنس روزانہ موجود نہیں رہتے اور صفائی کا عملہ مہینے میں ایک مرتبہ بمشکل صفائی اور خاص طور پر ٹائلٹس کی صفائی کا کام انجام دیتا ہے۔ ان حالات میں طلباء کا ہاسٹلس میں قیام دوبھر ہوچکا ہے۔ روزہ دار طلباء کو اس گندگی میں وضو اور غسل کے لیے سخت دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ اعظم پورہ ہاسٹل میں پینے کے پانی کا تک مناسب انتظام نہیں۔ ہاسٹل میں دن کے اوقات میں تاریکی چھائی رہتی ہے کیوں کہ برقی بلبس اور ٹیوب نہیں لگائے گئے۔ دونوں ہاسٹلس کا انتظام اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت ہے اور طلباء نے شکایت کی کہ کسی بھی عہدیدار کو ہاسٹل کا دورہ کرتے ہوئے ضروریات کا جائزہ لینے کی زحمت نہیں ہوئی۔ سماجی کارکن ظہور خالد نے دونوں ہاسٹلس کا معائنہ کرتے ہوئے تصاویر اور ویڈیو کے ساتھ محکمہ اقلیتی بہبود اور منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن سے نمائندگی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت حیدرآباد میں موجود پوسٹ میٹرک بوائز ہاسٹلس کی عدم تشہیر کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ ان ہاسٹلس کے بارے میں تمام اضلاع میں تشہیر کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء جن کالجس میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، ان ہاسٹلس کا فاصلہ ان سے کافی دوری پر ہے۔ لہٰذا انہیں کالجس سے قریب قائم کیا جانا چاہئے۔ طلبہ کو تمام ضروریات کی تکمیل کے لیے 1200 روپئے میس چارجس دیئے جاتے ہیں جو ناکافی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں ہاسٹلس میں طلباء کو صرف 1000 روپئے ادا کیئے جارہے ہیں۔ ہاسٹلس میں حکومت کی جانب بیڈ کا انتظام نہیں جس کے باعث طلباء فرش پر سونے پر مجبور ہیں۔ ایک کمرے میں 7 تا 8 طلباء فرش پر سورہے ہیں اور روم کے باہر گندگی اور عدم صفائی کے نتیجہ میں بدبو پھیلی ہوئی ہے۔ ٹائلٹس کی ابتر صورتحال ناقابل بیان ہے۔ ہاسٹل میں پانی کا انتظام نہ ہونے کے سبب اعظم پورہ ہاسٹل کے طلباء دوسری عمارت سے 20 لیٹر پانی حاصل کرتے ہوئے سیڑھیوں کے راستے سے ہاسٹل کی دوسری منزل پہنچنے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی مسائل طلباء کو درپیش ہیں۔ طلباء اور اولیائے طلباء نے محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری اور ڈپٹی چیف منسٹر سے اپیل کی ہے کہ وہ اچانک ہاسٹلس کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیں۔ ظہور خالد ان ہاسٹلوں میں بہتر سہولتوں کے لیے مسلسل نمائندگی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہاسٹلس میں طلباء کی تعداد 100 ہوجاتی ہے تو حکومت کی جانب سے پکوان کا انتظام کرنا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT