Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں مزید تین سرکاری دواخانوں کے قیام کا فیصلہ

حیدرآباد میں مزید تین سرکاری دواخانوں کے قیام کا فیصلہ

عہدیداروں کو اراضی کی نشاندہی کرنے چیف منسٹر کی ہدایت ، شہر کی کئی بستیاں دواخانوں سے محروم
حیدرآباد۔ 18 اگسٹ ( سیاست نیوز ) شہر حیدرآباد میں تیزی سے بڑھ رہی آبادی اور شہری حدود میں ہورہے اضافہ کو دیکھتے ہوئے حکومت نے حیدرآباد کے حدود میں مزید تین سرکاری دواخانے قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلہ کے ساتھ ہی عہدیداروں کو ہدایت دی جا چکی ہے کہ وہ شہر کے مختلف مقامات پر نئے سوپر اسپشالیٹی ہاسپٹل کے قیام کیلئے اراضی کی نشاندہی کریں۔ چیف منسٹر کی جانب سے دی گئی اس ہدایت کے فوری بعد عہدیدار سرگرم ہو چکے ہیں ۔ شہر حیدرآباد میں فی الحال عثمانیہ دواخانہ ‘ گاندھی ہاسپٹل اور کنگ کوٹھی دواخانہ موجود ہے۔ ان دواخانوں کے علاوہ مزید تین دواخانوں کے قیام کے منصوبہ کے ساتھ ہی ضرورت اس بات کی ہے کہ پرانے شہر کے گنجان آبادی والے علاقوں میں اراضیات کی نشاندہی کرواتے ہوئے دواخانوں کے قیام کیلئے نمائندگی کی جائے کیونکہ شہری آبادی میں ہونے والے اضافہ اور شہری حدود میں وسعت کے سبب شہر کے کئی نواحی علاقوں سے شہری دواخانہ عثمانیہ پہنچنے پر مجبور ہیں ۔ شاہین نگر‘ اسمعیل نگر‘ ایرہ کنٹہ‘ پہاڑی شریف‘ حسن نگر‘ راجندر نگر‘ مہیشورم ‘ عطاپور کے علاوہ کئی نو آبادیاتی علاقوں میں جہاں امراء و متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے عوام موجود ہیں وہیں ان علاقوں میں غریب عوام کی بھی بڑی تعداد رہائش اختیار کئے ہوئے ہے جو خانگی دواخانوں کے اخرجات برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہیں ان کیلئے یہ ضروری ہے کہ ان علاقوں سے قریب ایک بڑے سرکاری دواخانہ کے قیام کو یقینی بنایا جائے ۔ حسن نگر راجندر نگر جیسے گنجان آبادی والے علاقوں میں آج بھی معیاری طبی سہولتیں موجود نہیں ہیں جبکہ یہ بستیاں آباد ہوئے 25برس سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے شہر میں تین سوپر اسپشالیٹی دواخانوں کے قیام کا منصوبہ خوش آئند ہے لیکن اب فوری طور پر منتخبہ عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کی اس تجویز کو اپنے علاقہ میں قابل عمل بنانے کے اقدامات کریں تاکہ علاقہ کے عوام کے ساتھ اطراف و اکناف کے عوام بھی اس سہولت سے استفادہ کر سکیں۔ ریاستی حکومت نے دواخانوں کی تعمیر کے لئے اراضیات کی نشاندہی کا عمل شروع کرنے کی ہدایت دی ہے تو ایسی صورت میں منتخبہ عوامی نمائندوں کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر اپنے علاقوں میں موجود سرکاری اراضیات کی نشاندہی کروائیں اور حکومت پر اس بات کیلئے دباؤ ڈالیں کہ بہر صورت تین میں ایک دواخانہ کی پراجکٹ پرانے شہر کے گنجان آبادی والے علاقہ میں شروع کیا جائے کیونکہ اس پراجکٹ کے آغاز سے طبی سہولتوں کی عوام تک بہ آسانی رسائی ممکن ہو سکے گی۔ حکومت کی جانب سے نئے دواخانوں کے قیام و تعمیر کیلئے جاریہ سال کے بجٹ میں گنجائش فراہم کرنے کے اشارے دیئے گئے ہیں تو ایسی صورت میں آئندہ سال کے اوائل میں پراجکٹ کا عملی طور پر آغاز ممکن ہے۔ پرانے شہر کے گنجان آبادی والے علاقوں میں رہنے والے شہری جو اپنے علاقوں میں بڑے سرکاری دواخانوں کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں انہیں بھی چاہئے کہ وہ نہ صرف اپنے علاقہ سے منتخبہ عوامی نمائندوں کو نمائندگی پیش کریں بلکہ ریاستی حکومت کو بھی راست طور پر عرضداشت روانہ کرتے ہوئے اپنے علاقوں میں دواخانہ کے قیام کیلئے نمائندگی کریں تاکہ حکومت کی توجہ اس جانب بھی مبذول ہو سکے۔

TOPPOPULARRECENT