Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں مسلمانوں کی بڑی آبادی کرایہ کے مکانوں میں مقیم

حیدرآباد میں مسلمانوں کی بڑی آبادی کرایہ کے مکانوں میں مقیم

خاندانوں کی تین نسلیں صرف ایک کمرہ میں زندگی بسر کررہی ہیں، چیرمین بی سی کمیشن کا تاثر

حیدرآباد۔16مارچ(سیاست نیوز) تلنگانہ میںمسلمانوں کو 12% تحفظات کی فراہمی کے اسرار رموز کا جائزہ لینے کی غرض سے تشکیل دئے گئے بی سی کمیشن کے وفد نے آج پرانے شہر کے مختلف علاقوں کادورہ کرتے ہوئے عوام سے ملاقات کی اور کمیشن کا جاری کردہ فارم بھی عوام سے پر کروایا۔تین ٹیموں پر مشتمل بی سی کمیشن کے ذمہ داران بی ایس راملو‘ جلوری گوری شنکر او رانجینلو گوڑ نے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے عوام سے راست ملاقات کی۔ بعدازا ں میڈیاسے بات کرتے ہوئے چیرمن کمیشن بی ایس راملو نے کہاکہ ریاست تلنگانہ میںمسلمانوں کی حالت دیگر مقامات کے مسلمانوں سے زیادہ ابتر ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حیدرآباد ی ہونے کے باوجود مسلمانو ں کی آبادی کا بڑا حصہ کرایہ کے مکانوں میںمقیم ہے ۔ انہوںنے مزیدکہاکہ برسوں سے حیدرآباد میں زندگی گذار رہے خاندانوں کی تین نسلوں کا قیام ایک کمرے کے گھر میں ہے اور اکثر کرایہ کے اٹوز چلاتے ہیں ‘ معاشی پسماندگی کے سبب ان کے بچے تعلیم سے بھی محروم ہیں۔ بی ایس راملو نے افسوس کے ساتھ بتایا کہ اضلاعوں میں بھی مسلمانوں کی حالت نہا یت ابتر ہے ۔ راملو نے کہاکہ ہماری ملاقات کے دوران کئی مسلمانوں نے کہاکہ حکومت تلنگانہ کے اقلیتی اقامتی اسکولس جہاں پر پانچویںجماعت سے داخلہ دئے جارہے ہیں مذکورہ اسکولس میںاگر تیسری جماعت سے داخلوں کا آغاز کیاگیا تو ان اسکولوں میںلاکھوں بچوں کا داخلہ ممکن ہے ۔ راملو نے کہاکہ پرانے شہر کے چادرگھاٹ موسیٰ نگر‘ چنچل گوڑہ ہ جیل کے قریب میں واقعہ اوپر بستی ‘ ریاست نگر اور چندرائن گٹہ ‘ چارمینا ر ‘ یاقوت پورہ کے کئی علاقوں میں بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کا نمایاں فقدان ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر مسلمانوں کی حالت میں جنگی خطوط پر تبدیلی کے لئے اقدامات اٹھائیںجائیںتو سب سے پہلے ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کوآگے آنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بڑے پیمانے پر مسلمانوں بناء گیارنٹی کے قرضہ جات کی اجرائی عمل میںلائی جائے۔ راملو نے کہاکہ جو مسلمان کرایہ کے اٹوز ٹیکسی چلارہے ہیںانہیں نئی اسکیم کے تحت بلاسودی قرض کے ذریعہ ٹیکسی فراہم کی جائے اور ڈبل بیڈروم گھروں کی فراہمی کو یقینی بنائی جائے۔راملو نے کہاکہ سدھیر کمیشن کی رپورٹ میں صرف اعداد وشمار ہے مگر حقیقی صورتحال نہایت سنگین ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سلم علاقوں میںمقیم مسلمانوں کی حالت بی ایس طبقے سے خراب ہے بیت الخلاء کی سہولتیں ندارد ہیں او ریاقوت پورہ علاقے میںریلوے پٹریوں کی ایک طرف گھر اور دوسری طرف اسکول ہے اور کئی مرتبہ چھوٹی سے غفلت معصو م بچوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کی وجہ بن گئی ہے۔راملو نے کہاکہ تلنگانہ کے تمام اضلاع او رشہروں میں اعلی معیاری اقامتی اسکولس کا قیام اور تعلیم یافتہ مسلم طبقے کے لئے روزگار کی فراہمی کے لئے ایک سافٹ ویر کمپنی سنٹرز کا قیام ضروری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے دوروں کے موقع پر مقامی نوجوانوں کی جانب سے اس ضمن میںنمائندگی بھی کی گئی ہے۔ بی ایس راملو نے کہاکہ مسلمانوں کے اندر تعلیمی رحجان کا اضافہ کے لئے چوتھی جماعت سے سہ ماہی اسکالر شپ کی اجرائی بھی کمیشن کے تجاویز میںشامل ہے۔بی ایس راملو نے کہاکہ بارہ فیصد تحفظات کمیشن کی اولین ترجیحات میںہے مگر اس سے قبل مسلمانوں کی حالت میںسدھار کے لئے درکار اصلاحات بھی ضروری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پرانے شہر کی عوام نے کھل کر ہم سے بات کی اور اپنے مسائل پیش کئے ۔ انہوں نے اپنے تاثرات میں کہاکہ مسلمان قوم کسی سے کم نہیںہے مگر وسائل کی کمی کے سبب اس حال میںہے ۔ انہوں نے پرزور انداز میںکہاکہ حکومتوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سماجی انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کرتے ہوئے مسلمانوں کوبھی ان کے جمہوری حقوق فراہم کرے ۔انہوں نے حکومت تلنگانہ کے اقلیتی اقامتی اسکولس کے قیام کی ستائش کی اور کہاکہ حکومت کا یہ اقدام کچھ حد تک مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کود ور کرنے میںمددگار ثابت ہوگا اور عوام کی جانب سے اس پر اچھا ردعمل مل رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT