Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں مسلم تحفظات کیلئے ’سیاست ‘کی تحریک میں شدت

حیدرآباد میں مسلم تحفظات کیلئے ’سیاست ‘کی تحریک میں شدت

دبیرپورہ یوتھ ویلفیر اسوسی ایشن اور سوشیل ویلفیر ڈیولپمنٹ وفود کی تحصیلداروں سے نمائندگی
حیدرآباد۔ 15 اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کے مسلمانوں کو 12% تحفظات کی فراہمی کیلئے ٹی آر ایس حکومت کے وعدہ کو یقینی بنانے روزنامہ سیاست کی جانب سے چلائی جارہی تحفظات کی تحریک میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں مختلف تنظیموں اور گروپس کی جانب سے متعلقہ تحصیلداروں کو نمائندگی کے ساتھ یادداشتیں پیش کی جارہی ہیں۔ دبیرپورہ یوتھ اینڈ ویلفیر اسوسی ایشن کے وفد نے چارمینار منڈل کے تحصیلدار مسٹر ملیش کو یادداشت پیش کی، سوشیل ویلفیر ڈیولپمنٹ آف انڈیا کے وفد نے تحصیلدار عنبرپیٹ شریمتی ایس سندھیا سے ملاقات کرکے انہیں یادداشت پیش کی۔ دبیرپورہ یوتھ اینڈ ویلفیر اسوسی ایشن نے اپنی یادداشت میں حکومت تلنگانہ کی توجہ مسلم تحفظات کی جانب مبذول کرائی ہے۔ سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں مسلم اقلیت کے لئے 12% تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا کہ برسراقتدار آنے پر مسلمانوں کو 12% تحفظات دیئے جائیں گے۔ اقتدار کے 16 ماہ گذر جانے کے باوجود چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ اپنے وعدہ پر عمل نہیں کررہے ہیں۔ وفد نے اپنی یادداشت میں مزید کہا کہ جسٹس سچر کمیٹی کے ساتھ ساتھ منڈل کمیشن کی رپورٹس پر بھی غور کیا جانا چاہئے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو مسلم تحفظات کیلئے گہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں نے علیحدہ ریاست تلنگانہ کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ تلنگانہ تحریک کے دوران کے سی آر نے یہ وعدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کو 12% تحفظات فراہم کئے جائیں گے اور مزید یہ کہ ایک مسلم فرد کو ڈپٹی چیف منسٹر بنایا جائے گا۔ چندر شیکھر راؤ نے مسلمان کو ڈپٹی چیف منسٹر بناکر اپنا ایک وعدہ پورا کیا ہے لہذا انہیں دوسرا تحفظات سے متعلق وعدہ بھی پورا کرنا ہوگا۔ مسلمانوں کے معاشی، تعلیمی اور روزگار کے مسائل حل کرنے میں ٹی آر ایس حکومت دلچسپی رکھتی ہے لیکن اپنے فیصلہ اور وعدہ کو روبہ عمل لانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد اُلجھن کا شکار ہے اور موجودہ حکومت کے رویہ سے فکرمند ہے۔ مسلمانوں کا خیال ہے کہ آیا کے سی آر حکومت اپنا وعدہ پورا کرے گی یا نہیں۔ دبیرپورہ یوتھ اینڈ ویلفیر اسوسی ایشن کے وفد نے مزید کہا کہ وہ مسلمانوں کو تحفظات کیلئے روزنامہ سیاست کی جدوجہد میں حصہ لیتے ہوئے اس تحریک کو مضبوط بنائے گی۔ اسوسی ایشن کے نمائندہ حبیب العیدروس نے بتایا کہ دستور ہند کے آرٹیکل 16 اور 17 میں ہندوستان کے تمام عوام کو یکساں نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ روزگار اور تعلیم میں مسلمانوں کو بھی یکساں حصہ ملنا چاہئے۔ سوشیل ویلفیر ڈیولپمنٹ آف انڈیا کے وفد میں معتمد انجمن قادریہ مولانا غلام صمدانی  علی قادری ، حیات حسین حبیب ، صاحب زادہ الحاج ذبیح اللہ حسینی ، اسلم عبدالرحمن اور محمد عبدالصمد شامل تھے۔ اس وفد میں تحصیلدار عنبرپیٹ شریمتی ایس سندھیا سے ملاقات کرتے ہوئے تحفظات کے سلسلے میں یادداشت پیش کی اور چندر شیکھر راؤ کے وعدہ کی جانب توجہ دلائی۔

TOPPOPULARRECENT