Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں واقع اداروں پر آندھرا پردیش بھی حقدار

حیدرآباد میں واقع اداروں پر آندھرا پردیش بھی حقدار

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا
نئی دہلی ۔ 19 ۔ مارچ : ( سیاست ڈاٹ کام ) : سپریم کورٹ نے آج کہا ہے کہ نو تشکیل ریاست تلنگانہ دارالحکومت حیدرآباد میں واقع اداروں پر اپنے مکمل حق کا دعویٰ نہیں کرسکتی جس میں آندھرا پردیش کا بھی برابر حصہ ہے ۔ آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے درمیان اثاثہ جات اور واجبات کی تقسیم کے معاملہ پر دورس نتائج کے حامل ایک فیصلہ میں عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو کالعدم قرار دیا ہے ۔ جس نے یہ فیصلہ صادر کیا تھا کہ آندھرا پردیش اسٹیٹ کونسل آف ہائیر ایجوکیشن کے دفاتر چونکہ تلنگانہ میں واقع ہے لہذا اس کے بینک اکاونٹ منجمد کردینے حکومت تلنگانہ کا اقدام حق بجانب ہے ۔ اس کیس میں ریاست تلنگانہ نے ماقبل تقسیم اے پی ایس سی کے تمام فنڈس اور اثاثہ جات پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کیا تھا اور یہ گنجائش قانون تشکیل جدید 2014 کے نفاذ کے وقت فراہم کی گئی ہے ۔ قبل ازیں ہائی کورٹ میں ریاست تلنگانہ کے وکلاء نے یہ استدلال پیش کیا تھا حیدرآباد میں متحدہ آندھرا پردیش کے جو ادارے قائم کئے گئے تھے تقسیم کے بعد حکومت آندھرا پردیش کا ان پر کوئی حق نہیں رہتا ۔ تاہم جسٹس وی گوپالا اور جسٹس ارون مصرا پر مشتمل سپریم کورٹ بنچ نے کہا اگر ان دلائل کو تسلیم کرلیا گیا تو قانون کا دفعہ 47 بے اثر ہوجائے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT