Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں کاروبار کیلئے مسلمان 10% سود ادا کرنے پر مجبور

حیدرآباد میں کاروبار کیلئے مسلمان 10% سود ادا کرنے پر مجبور

اضلاع میں سطح غربت کی زندگی عام ، سدھیر کمیشن کے روبرو مسلمانوں کے نمائندے پیش
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز )  مسلمانوں کی معاشی اور سماجی پسماندگی کی زمینی حالت معلوم کرنے کے لیے قائم کردہ سدھیر کمیشن سے آج تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کے علاوہ مسلم تنظیموں نے اس بات کا مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے کے لیے بی سی کمیشن کا قائم ہونا بہت ضروری ہے ۔ تاکہ مسلمانوں کو پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات مل سکیں اور سدھیر کمیشن کے روبرو پیش ہونے والے تمام قائدین و مسلم نمائندوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسلمانوں کا ایک باقاعدہ اور جامع مواد کے بعد اگر بی سی کمیشن مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرتا ہے تو یہ عدالتی رسہ کشی سے پاک ہوگا ۔ قائد کانگریس محمد علی شبیر کی قیادت میں کانگریس وفد نے کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ سلم ، مارکٹ ، سرکاری اسکولس کے علاوہ مسلم اکثریتی علاقوں کا دورہ کرے تاکہ انہیں مسلمانوں کی غربت کا پتہ چلے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مسلمان غریب ٹھیلے والا روزانہ 10 فیصد سے زیادہ شرح سود پر رقم حاصل کرتے ہوئے اپنا کاروبار ٹھیلہ بنڈی پر کرتا ہے ۔ یہ تو پرانے شہر حیدرآباد کی حالت ہے جہاں پر مسلمان اکثریت میں بسے ہوئے ہیں ۔ اس کی بہ نسبت اضلاع اور دیہاتوں میں جہاں روزگار کے مواقع اور وسائل بھی کم ہوتے ہیں ، ان مقامات پر مسلمان سطح غربت سے نیچے کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔ ۔

TOPPOPULARRECENT