Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں 1100 درخواست گذاروں کو شادی مبارک اسکیم سے محروم کرنے کی سازش

حیدرآباد میں 1100 درخواست گذاروں کو شادی مبارک اسکیم سے محروم کرنے کی سازش

عہدیداروں کے بہانے، غریب و مستحق خاندانیں فکرمند، درخواست کے ساتھ ادخال کردہ اسناد لاپتہ
حیدرآباد۔ 21 ۔ نومبر (سیاست نیوز) حیدرآباد میں شادی مبارک اسکیم کے تقریباً 1100 درخواست گزاروں کو امداد سے محروم کرنے کی سازش کی جارہی ہے اور متعلقہ عہدیدار یہ بہانہ بنارہے ہیں کہ درخواست گزاروں نے اسنادات کی نقل دفتر میں داخل نہیں کی۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس حیدرآباد کے حکام نے 1106 ایسی درخواستوں کی نشاندہی کی جنہوں نے اپنے اسنادات کی ہاٹ کاپی دفتر میں جمع نہیں کی۔ عہدیدار اس بہانہ ان درخواستوں کو مسترد کرنے کی تیاری میں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں میڈیا کے ذریعہ درخواست گزاروں کو اطلاع دی گئی کہ وہ اپنی درخواستیں فوری داخل کردیں ورنہ انہیں مسترد کردیا جائے گا ۔ عہدیداروں کا یہ رویہ اس اعتبار سے غیر ذمہ دارانہ ہے کہ وہ غریب مستحق خاندانوں سے ربط قائم کئے بغیر ہی درخواستوں کو مسترد کرنے کی تیاری میں ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حیدرآباد میں زیر التواء درخواستوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کو دیکھتے ہوئے کام کے بوجھ کو کم کرنے یہ کارروائی کی جارہی ہے۔ آن لائین درخواست داخل کرنے کے بعد درخواست گزار کی تمام تفصیلات بشمول فون نمبرس اقلیتی بہبود کے پاس دستیاب رہتا ہے۔ اگر کسی درخواست گزار نے ہاٹ کاپی داخل نہیں کی تو محکمہ کی جانب سے انہیں فون پر ربط قائم کرتے ہوئے اطلاع دی جاسکتی ہے یا پھر انہیں مکتوب روانہ کیا جاسکتا ہے۔ برخلاف اس کے کہ یہ توقع کرنا کہ میڈیا کے ذریعہ اطلاع کرنا کافی ہے، اس سے مستحق خاندانوں کے امداد سے محروم ہونے کا اندیشہ بڑھ چکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی درخواست گزار سے فون پر ربط قائم نہیں کیا گیا حالانکہ صرف ایک دن میں تمام ایسے درخواست گزاروں سے ربط قائم کیا جاسکتا ہے جنہوں نے اپنی ہاٹ کاپی داخل نہیں کی ہے ۔ اپنی ذمہ داری سے بچنے اور غریبوں کی امداد کے جذبہ کی کمی کا نتیجہ ہے کہ عہدیدار ایسی درخواستوں کو مسترد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ شادی مبارک اسکیم کے کئی منظورہ درخواست گزار امداد کے حصول کے سلسلہ میں روزانہ اقلیتی بہبود کے دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن انہیں تشفی بخش جواب دینے والا کوئی نہیں۔ بعض عہدیدار یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جن افراد نے ہاٹ کاپی داخل نہیں کی، دراصل وہ مستحق نہیں ہیں، حالانکہ کئی افراد نے شکایت نہیں کی کہ ہاٹ کاپی داخل کرنے کے باوجود انہیں امداد منظور نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی بہبود کے دفتر میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کا کوئی نظم نہیں ہے جس کے باعث غریب خاندانوں کی جانب سے داخل کردہ اسنادات لاپتہ ہوچکے ہیں اور ان سے دوبارہ جمع کرنے کی خواہش کی جارہی ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ 1106 خاندانوں سے فون پر ربط قائم کرنے کی ہدایت دیں تاکہ غریب خاندان حکومت کی امداد سے محروم نہ رہ سکیں۔ حیدرآباد میں ابھی تک 8211 درخواستیں رجسٹر کی گئیں جن میں 5455 درخواستوں کو منظوری دی گئی ۔ 61 درخواستیں مسترد کی جاچکی ہیں اور 2695 درخواستیں زیر التواء ہیں۔ 240 منظورہ درخواستوں پر متعلقہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیسر آفیسر کی دستخط باقی ہے۔ درخواستوں کی جانچ کیلئے حج کمیٹی کے 9 ملازمین کی خدمات حاصل کی گئی تھیں لیکن ایک ہی دن میں ان کی خدمات کو واپس کردیا گیا ۔ حکومت نے اس اسکیم میں درمیانی افراد کے رول اور رقومات کے مطالبہ کی شکایت پر اسے منڈل ریونیو آفیسرس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلہ کے باوجود بھی اقلیتی بہبود کے بعض عہدیدار اپنی سفارشی درخواستوں کی منظوری کے کوشاں ہیں حالانکہ تمام درخواستیں متعلقہ ایم آر اوز کو روانہ کردینی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT