Wednesday , August 16 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد کو گوداوری سے پانی کی سربراہی کے اقدامات

حیدرآباد کو گوداوری سے پانی کی سربراہی کے اقدامات

میدک تک پانی لانے کا تجربہ کامیاب رہا، 15 ڈسمبر سے باقاعدہ آغاز
حیدرآباد۔/11نومبر، ( سیاست نیوز) دریائے گوداوری سے شہر حیدرآباد کو پانی سربراہ کرنے کیلئے عملی اقدامات کا آغاز ہوچکا ہے جبکہ گزشتہ ماہ کریم نگر ضلع میں گوداوری سے پانی کی شہر حیدرآباد منتقلی کیلئے شروع ہوئے کاموں کے نتیجہ میں فی الوقت ضلع میدک تک پانی کی منتقلی کو یقینی بنایا جاسکا۔ اور سب سے پہلے راما گنڈم منڈل کے ایلم پلی پراجکٹ سے 1.6کیلو میٹر فاصلہ پر واقع ’ مُرمورو‘ پمپ ہاؤز کیلئے ٹرائیلس کئے گئے۔ باوثوق سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی۔ گزشتہ ماہ 27اکٹوبر کو مرمورو موضع سے 57کیلو میٹر کے فاصلہ پر واقع پومکل منڈل ( ضلع کریم نگر ) ریزروائیر ( ذخیرہ آب ) کو پانی پمپ کیا گیا  اور اس پانی کو دو مرحلوں کے دوران کامیابی کے ساتھ پانی پمپ کئے جانے پر پومکل تا ملارم میں واٹر ٹریٹمنٹ مرکز تک بھی پانی پمپ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ 48کیلو میٹر فاصلہ پر واقع موضع ملارم، ( چناکوڈور منڈل ) ضلع میدک تک گذشتہ دن گوداوری کا پانی پہنچایا گیا ہے۔ جبکہ ملارم کو بھاری مقدار میں پانی پہنچ جانے پر پانی سے چار اسٹلنگ چامبرس بڑے تالاب میں تبدیل ہوچکے ہیں اور اس پانی کو پینے کے قابل بنانے کیلئے ملارم ٹریٹمنٹ پلانٹ میں اقدامات کئے جارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ15یوم تک تجرباتی اساس پر اقدامات کئے جائیں گے اور اس دوران اگر کوئی نقائص و خامیاں ظاہر ہونے کی صورت میں انہیں دور کردیا جائے گا۔ بعد ازاں وہاں سے پانی براہ کونڈا پاک پمپنگ سنٹر تا گھن پور، میڑچل منڈل ( ضلع رنگاریڈی ) کے بعد پھر وہاں سے شہر میں رنگ میانس کے ذریعہ مختلف مقامات کو پانی سربراہ کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر حیدرآباد کو پانی پہونچنے تک ایک ہی پمپ چلایا جائے گا اور پھر ایک ہفتہ بعد دوسرے پمپ کے ساتھ ساتھ سلسلہ وار اساس پر چھ پمپس چلائے جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ چھ پمپس کے ذریعہ 176 ایم جی ڈی پانی شہر حیدرآباد کو سربراہ کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ لہذا  15ڈسمبر تک کسی بھی نوعیت کے مسائل پیدا نہ ہونے جیسے اور پانی سربراہ کرنے کیلئے حیدرآباد میٹرو واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ عہدیدار منصوبہ جات مرتب کرنے سے متعلق اقدامات کئے ہیں۔ اس طرح بہت جلد دریائے گوداوری کے پانی سے شہر حیدرآباد کے عوام استفادہ کرسکیں گے۔

TOPPOPULARRECENT