Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / حیدرآباد کی مقامی جماعت مسلمانوں کے بجائے بی جے پی کیساتھ

حیدرآباد کی مقامی جماعت مسلمانوں کے بجائے بی جے پی کیساتھ

بہار انتخابات میں 400کروڑ روپئے کا معاہدہ ہوا تھا، یو پی انتخابات میں بھی ووٹ کاٹنے کا خفیہ معاملہ، نظام آباد میں ڈگ وجئے سنگھ اور محمد علی شبیر کا خطاب

مرکزی و ریاستی حکومتوں کا وعدوں سے انحراف

حیدرآباد۔ 19فبروری(سیاست نیوز) ہندوستان کے سیکولر عوام کو منقسم کرنے کیلئے حیدرآباد کی مقامی جماعت، قومی سطح سے لے کر علاقائی سطح تک فرقہ پرستوں کے ساتھ ہاتھ ملا چکی ہے۔ اس جماعت نے بی جے پی کے ساتھ انتخابی معاہدہ کیا ہے جس کی وجہ سے اُترپردیش کے انتخابات میں ووٹ کاٹنے کا کام کیا جارہا ہے اور اسی جماعت نے بہار انتخابات میں 400 کروڑ روپئے کے عوض بی جے پی کے ساتھ سازباز کرلیا تھا۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا کانگریس کے جنرل سیکریٹری ،پردیش کانگریس اُمور کے انچارج ڈگ وجئے سنگھ نے نظام آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس جلسہ میں پردیش کانگریس کے صدر اُتم کمار ریڈی ، قانون ساز کونسل کے اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر ، قانون مقننہ کے اپوزیشن لیڈر جاناریڈی ، اے آئی سی سی کے سکریٹری آر سی کونتیا کے علاوہ دیگر قائدین بھی موجود تھے ۔ مسٹر ڈگ وجے سنگھ نے حیدرآباد کی مقامی جماعت کا بار بار نام لیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور اس کے درمیان اتحاد ہے جس کی وجہ سے یہ اُترپردیش کے انتخابات میں ووٹ کاٹنے کا کام کر رہی ہے اور جماعت کے قائد مقننہ مسلمانوں کو جذباتی تقریر کے ذریعہ ورغلاتے ہوئے ووٹ کاٹ رہے ہیں۔ بہار کے انتخابات سے قبل بی جے پی اور مقامی جماعت کے درمیان معاہدہ ہوا ہے۔ رات 3بجے بی جے پی کے قومی صدر کے مکان پر قائد مقننہ پہنچ کر 400کروڑ روپئے میں معاہدہ کرتے ہوئے انتخابات میں اپنی جماعت کے اُمیدواروں کو ٹھہرا یا گیا اور بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی کھلے عام تحریرلکھتے ہوئے اس بات کو واضح کیا ہے اور یہ جماعت مسلمانوں کے بجائے بی جے پی کا خفیہ طور پر ساتھ دے رہی ہے لہٰذا مسلمان حیدرآباد کی اس مقامی جماعت کے بہکاوے میں نہ آئیں ۔ مقامی جماعت کے قائد مقننہ اور رکن پارلیمنٹ اپنے فائدے کیلئے مسلمانوں کے مفادات کے خلاف کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت انتخابات سے قبل 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک ا س پر عمل آوری نہیں کی گئی ہے ۔نہ صرف مسلمان بلکہ ایس ٹی طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دونوں حکومتیں عوام کو گمراہ کرنے کے سوا کوئی بھی ٹھوس کام نہیں کیا ہے ۔ ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندرمودی نوٹ بندی کے ذریعہ ارب پتیوں کو فائدہ پہنچایا ۔ کوئی بھی امیر آدمی لائن میں ٹھہرا نہیں ،اور سرمایہ داروں کو بنک مینیجرس نے رقم فراہم کی۔ صرف درمیانی طبقہ کے افراد کو بنک کے لائن میں ٹھہرنا پڑا۔ رشوت کے خاتمہ اور کالادھن کو لانے ، دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے نوٹ بندی کا اعلان کیا گیا۔ لیکن کسی مقام پر رشوت ستانی کا خاتمہ نہیں ہوا ہے ۔

 

روپیوں کے بدلے میں سونا بطور رشوت لیا گیا اور دہشت گردوں کے پاس سے 2ہزار روپئے کے نئے نوٹ برآمد ہوئے ۔ اور پے ٹی ایم ، کریڈیٹ کارڈ کو فروغ دینے سے ان کمپنی کے مالکین کو فائدہ حاصل ہور ہا ہے ۔ ڈگ وجئے سنگھ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کے 8 نومبر کے بعد چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے اُن کے پاس موجودہ 1000اور 500روپئے کے نوٹوں کو نظر میں رکھتے ہوئے پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس کی مخالفت کی تھی، لیکن وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد نوٹ بندی کی تائید کرنا شروع کر دیا۔ ریاستی حکومت عوام کی فلاح و بہبودی سے زیادہ خاندانی فلاح و بہبودی سے دلچسپی رکھتے ہیں اور اپنے لڑکے ، لڑکی ، بھانجے کی ترقی پر توجہ دے رہے ہیں۔ 100دنوں میں نظام آباد ضلع سے واحد نظام دکن شوگر فیاکٹری کی احیاء کا اعلان کرتے ہوئے اس سے بھی چیف منسٹر نے انحراف کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ علیحدہ ریاست تلنگانہ حصول کیلئے کانگریسی قائدین نے جدوجہد کی تھی اور کانگریسی قائدین کے جدوجہد کے نتیجہ میں سونیا گاندھی نے علحدہ ریاست تلنگانہ کا قیام عمل میں لایا تھا لیکن اس کا فائدہ کے سی آر کو ہوا ہے ۔عوام اس بات کو محسوس کررہے ہیں۔ 2019ء کے انتخابات میں کانگریس کی کامیابی یقینی ہے ۔ اس موقع پر قانون ساز کونسل کے اپوزیشن محمد علی شبیر نے اپنے جذباتی تقریر میں کہا کہ حیدرآباد کی مقامی جماعت ، بی جے پی اور ٹی آر ایس ایک جیسی جماعت ہے اور اسی جماعت نے بی جے پی کے صدر امیت شاہ سے خفیہ طور پر معاہدہ کیا ہے ۔اس جماعت کو مسلمانوں سے کوئی بھی ہمدردی نہیں ہے اور انہوں نے تحفظات کی مخالفت کی ہے اور اس بات کا ثبوت موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جذباتی تقریر کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنا ان کی عادت ہے ۔خودقائد مقننہ پولیس کی بھاری جمعیت کے ساتھ رہتے ہیں اور تقریر میں پولیس کو ہٹانے کی بات کرتے ہیں۔ نظام آباد کی عوام نے بھی اس جماعت کو انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا تو ٹی آر ایس سے ساز باز کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کیا اور بد عنوانیوں میں ملوث ہے ۔ اُردو کے فروغ کو فراموش کر دیا۔ نظام آباد اُردو کا گہوارہ ہے اور یہاں پر کانگریس کے دور میں اُردو کمپیوٹر سنٹر قائم کئے تھے اور آج ضلع میں کمپیوٹر سنٹر بند پڑے ہیں اور جماعت کے قائدین خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ رکن پارلیمنٹ کے کویتا پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے دور میں تلنگانہ یونیورسٹی ، میڈیکل کالج، گپتہ علی ساگر، پاسپورٹ آفس کاماریڈی میں ڈیری ٹکنالوجی ، چھوٹ پلی ہنمنت ریڈی لفٹ ایری گیشن کے علاوہ 400کے وی سب اسٹیشن قائم کئے گئے لیکن ٹی آر ایس کے دور میں ایک بھی ترقی کاکام انجام نہیں دیا گیا۔ یونیورسٹی میں لکچررس کی بھرتی ، میڈیکل کالج میں ڈاکٹر کے تقررات کے علاوہ سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل کے قیام کے اعلان سے انحراف کیا گیا۔ 4فیصد تحفظات کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں طلبہ کو فائدہ حاصل ہو رہا ہے ۔ اس موقع پر صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے نظام شوگر فیاکٹری کے احیاء میں حکومت ناکام ثابت ہوئی اور اسمبلی میں اس بات سے اتفاق بھی کیا۔ اسکالرشپس ،فیس ریمبرسمنٹ کے علاوہ دیگر نا کامیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ حکومت اپنی تشہیر پر جو پیسہ خرچ کر رہی ہے وہ فیس ریمبرسمنٹ پر خرچ کر ے گی تو بہتر ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT