Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد کی پسماندگی کیلئے تلگودیشم اور کانگریس ذمہ دار

حیدرآباد کی پسماندگی کیلئے تلگودیشم اور کانگریس ذمہ دار

ہر غریب کو مکان ، ہر گھر کو پانی، حیدرآباد کی تہذیب کا تحفظ۔ چیف منسٹر کے سی آر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/28جنوری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حیدرآباد کی پسماندگی اور بنیادی سہولتوں کی کمی کیلئے تلگودیشم اور کانگریس کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس گریٹر حیدرآباد کو عالمی معیار کے شہر کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ رکھتی ہے لہذا عوام کو چاہیئے کہ وہ ٹی آر ایس کو بلدیہ پر اقتدار کا موقع فراہم کریں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کانگریس، تلگودیشم اور بی جے پی کی جانب سے رائے دہندوں سے کئے جارہے وعدوں کو مضحکہ خیز قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پارٹیاں جو وعدے کررہی ہیں ان میں زیادہ تر وعدوں کا تعلق حکومت سے ہے۔ ٹی آر ایس چونکہ ریاست میں برسراقتدار ہے لہذا وہ عوام سے کئے گئے وعدوں کی باآسانی تکمیل کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے کانگریس کو 40سال اور تلگودیشم کو 17سال اقتدار عطا کیا لیکن انہوں نے شہر کی حالت بدلنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے برقی صورتحال میں بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سابق میں حیدرآباد جنریٹر، انوینٹر، کنورٹر اور اسٹیب لائزر کا شہر تھا لیکن آج تلنگانہ حکومت نے 24گھنٹے برقی سربراہی کو یقینی بناتے ہوئے وعدہ کی تکمیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبہ کو بھی بلاوقفہ برقی سربراہ کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ سابق حکمرانوں نے حیدرآباد کی جھیلوں اور تالابوں کو ختم کردیا اور صاف ستھرے ماحول کو گندگی میں تبدیل کردیا۔ عوام کو جاننا چاہیئے کہ اس صورتحال کیلئے کون ذمہ دار ہیں۔ چیف منسٹر نے رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ اپوزیشن کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ انہوں نے ہر گھر کو نل کنکشن کی فراہمی کا وعدہ دہرایا اور کہا کہ مشن بھگیرتی کے تحت کرشنا اور گوداوری سے حیدرآباد کو پانی منتقل کرتے ہوئے ہر گھر کو کنکشن دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس وعدہ کی عدم تکمیل کی صورت میں دوبارہ ووٹ نہیں مانگے گی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حیدرآباد جو کبھی باغوں کا شہر تھا اب وہاں آلودگی اور گندگی دیکھی جارہی ہے۔ حیدرآباد جو موتیوں، تالابوں اور جھیلوں کی شہر کی حیثیت سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا تھا اسے سابق حکمرانوں نے نظرانداز کردیا۔ گریٹر حیدرآباد کی آبادی ایک کروڑ سے زائد ہوچکی ہے لیکن شہریوں کیلئے صرف 7مارکٹس ہیں۔ حکومت مزید 200مارکٹس کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے۔ گریٹر حیدرآباد میں 250عوامی ٹائیلٹس تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب کیلئے رنگاریڈی ضلع میں قبرستانوں کی جگہ فراہم کی جائے گی جس کیلئے ضلع کلکٹر رنگاریڈی کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اور خانگی دواخانوں کے پاس مریضوں کے رشتہ داروں کیلئے خصوصی شیلٹرس تعمیر کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 50 ہمہ مقصدی کمیونٹی ہالس کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں آر ٹی سی کیلئے نئی عصری بسوں کی خریدی اور مسافرین کی سہولت کیلئے بس بیز تعمیر کئے جائیں گے۔ مشن کاکتیہ کے تحت گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 169 تالابوں اور جھیلوں کے تحفظ اور ان کے احیاء کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ ٹرین سے سفر کرنے والے مسافرین کی سہولت کیلئے شہر کے دونوں جانب ریلوے کے نئے ٹرمینلس تعمیر کئے جائیں گے۔ حیدرآباد انٹرنیشنل ایرپورٹ پر نیا رن وے تعمیر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ایم ڈی اے کے ذریعہ حیدرآباد کی ترقی کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے جس کے تحت حیدرآباد ’ پلان سٹی‘ بن کر ابھرے گا۔ چیف منسٹر نے دعویٰ کیا کہ ملک کی کسی بھی ریاست میں 40,000 کروڑ سے فلاحی اسکیمات کا آغاز نہیں کیا گیا ہے لیکن تلنگانہ حکومت ترقی کے ساتھ فلاح و بہبود پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے ہر غریب خاندان کو ڈبل بیڈ روم مکانات فراہم کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ کلیان لکشمی، شادی مبارک، 1000روپئے وظیفہ اور ہر فرد کو راشن کارڈ پر 6 کیلو چاول کی فراہمی کا عوام کی جانب سے خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسکیمات کے عوض میں گریٹر حیدرآباد کے رائے دہندے ٹی آر ایس کی تائید کریں گے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ اپوزیشن پر تنقیدوں کے ذریعہ ووٹ حاصل کرنے پر یقین نہیں رکھتے بلکہ وہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے رجوع ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کا ایجنڈہ ترقی اور فلاح ہے اور اسی بنیاد پر گریٹر حیدرآباد میں اسے کامیابی حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جو پارٹیاں حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہی ہیں وہ عوام پر ان کا فیصلہ چھوڑتے ہیں۔ چیف منسٹر نے امن و ضبط کی صورتحال میں بہتری اور خواتین کے تحفظ کیلئے ’ شی ٹیموں ‘ کی تشکیل کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں آبی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے 2 ذخائر آب کی تعمیر کی جائے گی جو 40 ٹی ایم سی پانی کے ذخیرہ کی صلاحیت کے حامل ہوں گے۔ ان ذخائر آب کے ذریعہ برقی کی تیاری بھی کی جائے گی۔ انہوں نے تلگودیشم کے اس وعدہ کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ بلدیہ کے ذریعہ پانی کی سربراہی عمل میں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی سربراہی مجلس بلدیہ کا کام نہیں بلکہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی ذمہ داری ہے جو حکومت کے تحت ہے۔ بورڈ کے صدرنشین چیف منسٹر ہوتے ہیں۔ انہوں نے ناقابل عمل وعدے کرنے پر اپوزیشن پر نکتہ چینی کی۔ کے سی آر نے چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے حیدرآباد کی ترقی کے وعدوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ انہیں حیدرآباد کے بجائے آندھرا پردیش کے شہروں کی فکر کرنی چاہیئے۔ عوام چندرا بابو نائیڈو کے وعدوں پر بھروسہ کرنے والے نہیں ہیں کیونکہ حیدرآباد میں 9برس تک چیف منسٹر رہنے کے باوجود انہوں نے شہر کی ترقی کیلئے کچھ نہیں کیا۔ چیف منسٹر نے صحافیوں کیلئے عصری کالونی کی تعمیر کا اعلان کیا اور کہا کہ ڈبل بیڈ روم سے زیادہ رقبہ پر محیط مکانات تعمیر کرتے ہوئے صحافیوں کے حوالے کئے جائیں گے۔ اس اسکیم کیلئے صحافیوں کو بھی اپنے حصہ کے طور پر معمولی رقم ادا کرنی ہوگی۔ حکومت اس اسکیم کی تفصیلات کا جلد اعلان کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈبل بیڈ روم اسکیم کے استفادہ کنندگان کے انتخاب کا اختیار عہدیداروں کو دیا گیا ہے اور اس میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوگی۔ اگر ایک بھی غیر مستحق کا انتخاب کیا گیا تو ذمہ دار عہدیدار کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT