Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب ساری دنیا کے لیے مثال

حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب ساری دنیا کے لیے مثال

مسلمانوں پر حملوں کو روکنے آواز اٹھانا وقت کا تقاضہ ، جناب زاہد علی خاں کا خطاب

حیدرآباد۔2اگست(سیاست نیوز) حیدرآباد کی گنگاجمنی تہذیب اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی سارے دنیاکے لئے ایک مثال ہے اور اس کو قائم رکھنے کے لئے امن پسندشہریوںاور ریاست کی برسراقتدار حکومت کو بھی موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جہاں پر مرکزی حکومت کی جانب سے قومی یکجہتی کونسل اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کمیٹیوں کو بند کرنے کاسلسلہ شروع ہوا ہے وہیں تلنگانہ میںریاستی سطح پر دس معزز شہریوں اور دانشواروں کا انتخاب عمل میںلاتے ہوئے تلنگانہ قومی یکجہتی کونسل اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کمیٹی کے قیام سارے ملک کے لئے ایک مثال بن جائے گی۔ اس عظیم کام کے لئے ادارے سیاست کا بھی حکومت کو تعاون حاصل رہے گا۔آج یہاں ادارے سیاست اور بیت الامداد کے اشتراک سے پوٹی سری راملو یونیورسٹی میں قومی یکجہتی اور ملک کی خاطر ہماری ذمہ داریوں کے عنوان پر منعقدہ جلسہ عام سے صدارتی خطاب کے دوران مدیر اعلی روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خان نے ان خیالات کا اظہار کیا۔جلسہ میںمہمان خصوصی کی حیثیت سے جگر گوشہ مولانا عبدالکریم پاریکھ مرحوم ‘ممتاز صنعت کار او رقرآنی اسکالر جناب عبدالمجاد پاریکھ ناگپور نے شرکت کی ۔ جناب سید عزیز پاشاہ سابق رکن پارلیمنٹ راجیہ سبھا‘ وممتاز اردو داں نانک سنگھ نشترنے بھی اس جلسہ عام سے خطاب کیاجبکہ رکن قانون ساز کونسل جناب محمد فاروق حسین نے اعزازی مہمان کی حیثیت سے جلسہ میںشرکت کی۔ جلسہ کی کاروائی ممتاز صحافی جناب عابد صدیقی نے چلائی ۔

اپنے سلسلے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے جناب زاہدعلی خان نے اگر حکومت کی جانب سے اس ضمن میں کوئی پہل نہیںکی جاتی ہے تو حسب روایت سیاست اس کام کا بیڑھ اٹھائے گا اور تلنگانہ کی قدیم او رعظیم گنگاجمنی تہذیب کو فروغ او راستحکام پہنچانے کے لئے ریاستی قومی یکجہتی کونسل اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کمیٹی کاقیام عمل میںلانے کے لئے ریاستی سطح کے بین مذہبی جلسہ عام منعقد کرتے ہوئے اس کی پہل کی جائے گی۔ جناب زاہد علی خان نے کہاکہ حیدرآباد شہر کے قلب میںکھڑا ہوکر چار مینار جس کے مینار چاروں مینار مسلمانوں‘ ہندو‘ سکھ‘ او رعیسائی سے موسوم ہیںاپنے ہاتھ اٹھاکر حیدرآباد کی سلامتی کے لئے دعائیںکررہے ہیں اور ایسے نازک دور میںسارے ملک کے امن پسندوں کی نظریں حیدرآباد کی طرف ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایسے حالات میںہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بے قصور اورمظلوموں کے ساتھ ہونے والی بربریت کے خلاف اپنی روایتوں کی مناسبت سے آواز اٹھائیں اور سارے ملک میںامن کے پیغام کو عام کرنے کاکام کریں۔جناب زاہد علی خان نے کہاکہ دادری کے اخلاق سے لیکر جنید کے قتل تک ہی معاملہ ختم نہیںہوا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ این ڈی ٹی وی کے مشاہدے کے دوران اس بات کا پتہ چلاکہ آج ایک او رواقعہ پیش آیا ہے جس میں بیف کے شبہ پر ایک مسلمان کو لکڑی سے اس قدر پیٹا گیا ہے کہ وہ بیہوش ہوگیا ۔ جناب زاہدعلی خان نے کہاکہ گائے کے متعلق مسلمانوں کے ذہنیت کو عام کرنے کے لئے مولانا عبدالکریم پاریکھ مرحوم کی ایک کتاب وقت کی اہم ضرورت بن گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ گائے کے متعلق مسلمانوں کی رائے پر مشتمل ایک جامعہ کتاب مرحوم نے لکھی تھی اگر اس کتاب کا ایک نسخہ بھی مجھے مل جائے تو ہزار وں کی تعداد میں اس کتاب کی اشاعت کرواکر مسلمانوں اور دیگر طبقات میںتقسیم کی جائے گی۔ انہوں نے اس موقع پر جناب عبدالماجد پاریکھ سے مذکورہ کتاب کا نسخہ فراہم کرنے کو بھی کہا۔انہوں نے کہاکہ حیدرآباد کی گنگاجمنی روایتوں او رفرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ میںجس کام کی شروعات میرے والد محترم( جناب عابد علی خان مرحوم)بانی سیاست نے کی تھی‘ اس کام کو آگے لے جانے کی ذمہ داری بھی مجھ پر عائد ہوتی ہے اور اس کام کو کسی بھی صورت میںانجام دیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت اس کام کے لئے آگے آتی ہے تو بہتر ہے ہم حکومت کاتعاون کرنے کے لئے تیار ہیںورنہ ذاتی طور پر امن اور بھائی چارے کو فروغ دینے والے اس کاروان کو ہم آگے لیکر بڑھیںگے اور اس میں امن پسندشہری جس کا تعلق اکثریتی طبقے سے ہے جو آج خاموش کے اس تشویش ناک دور میںخاموشی اختیار کئے ہوئے ان کا بھی تعاون ہمیں حاصل رہے گا۔ جنا ب زاہد علی خان نے کہاکہ اب تک ادارے سیاست چار ہزار لاوارث مسلم نعشوں کی تجہیز وتکفین کا کام انجام دے چکا ہے ۔ انہو ںنے کہاکہ نہ صرف مرنے والوں بلکہ زندہ لوگوں کے لئے بھی ادارے سیاست کام کرتا ہے ۔ جنا ب زاہد علی خان نے بتایاکہ عیسائی پادری سے بات کرنے کے بعد میںارادہ کرلیا ہے کہ ہمارا بھی ایک اعلی شان بیت المعمرین قائم کیا جائے ۔

انہوں نے کہاکہ بتایاکہ4.5کروڑ کی لاگت سے تیار کیاجانے والے شاندار بیت المعمرین کی تعمیر آخری مراحل میں ہے اور بہت جلد اسکو شروع بھی کردیاجائے گا۔ جناب زاہد علی خان نے کہاکہ کروڑہا روپئے تعلیم کو فروغ دینے میںخرچ کئے جاتے ہیںجن میںمستحق مسلم طلبہ وطالبات کے ساتھ غیر مسلم لڑکے او رلڑکیاں بھی شامل ہیںجن کو ادارے سیاست کی جانب سے اسکالر شپ فراہم کی جاتی ہے۔جنا ب زاہد علی خان نے کہاکہ انگریزی کے بشمول نوزبانو ں میںقرآن مجید کا ترجمہ سیاست کی ویب سائیڈ پر موجود ہے ۔ انہو ںنے بتایاکہ دنیا کے 340ممالک ‘ 3500شہروں کے 30لاکھ لوگ ہماری ویب سائیٹ کے ذریعہ سیاست کا مطالعہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اسپینی زبان میںبھی قرآن مجیدکا ترجمہ ویب سائیٹ پر شامل کرنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔ جناب زاہد علی خان نے کہاکہ میںاپنی آخری سانس تک اسلامی تعلیمات کی روشنی میںمذہبی اور سماجی خدمات کو انجام دیتا رہوںگا۔جناب عبدالماجد پاریکھ نے قرآنی آیت کی روشنی میں انسانیت کودی گئی ذمہ داریوں کااس موقع پر ذکر کیا۔انہوں نے کہاکہ قرآن کسی ایک مخصوص مذہب کے لئے نازل کی گئی آسمانی کتاب نہیںہے بلکہ یہ سارے انسانیت کے ایک مثال راہ ہے ۔ انہو ںنے کہاتمام آسمانی صحیفوں میںایک بات واضح طور پر کہی گئی ہے کہ انسانیت سب سے اعلی درجہ پر فائز ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ آج ہر مذہب کی لوگ بالخصوص مذہب کے ٹھکیدار اپنے ماننے والے کو راست جنت میںپہنچنے کا خواب دیکھا رہے ہیںجبکہ عملی میدان میںان کے ہاتھ خالی ہیں۔ جناب عبدالماجد پاریکھ نے کہاکہ دنیاکی کوئی آسمانی کتاب بھی ان چیزوں کی اجازت نہیںدیتی تو دنیا بھر میںرونماء ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہندو مذہب کے وید او رپران میں بھی سارے سماج کا ایک خاندان قراردیاگیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ان حالات میں انسانیت سوز حرکتیں تشویش کا باعث ضرور ہیں مگر ان کا حل قرآنی ارشادات کی روشنی میںضرورتلاش کیاجاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم قرآن کی تعظیم اورتکریم میںکوئی کسر باقی نہیںرکھتے مگرقرآن کو دل میں دماغ میںاتارنے کاکام نہیں کرتے۔انہوں نے کہاکہ انسانی رشتوںکا خاتمہ سماجی زوال کی انتہا تک پہنچ گیا ہے۔ جناب سیدعزیز پاشاہ نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ نازک دور میںقومی یکجہتی لڑکھڑا رہی ہے ۔

 

انہوں نے کہاکہ این ڈی اے دوم اقتدار میںآنے کے بعد قومی یکجہتی کونسل کو برخواست کردیاگیا ۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی من مانی انداز میںملک کے حالات کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ انہوں نے گائے کے نام پر سیاست کرنے کا بی جے پی کو ذمہ دار ٹھراتے ہوئے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ گائے کے نام پر قتل وغارت گری کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کی اپیل وزیراعظم نریندر مودی کررہے ہیں۔جناب سیدعزیز پاشاہ نے کہاکہ دادری کے اخلاق سے لیکر بلب گڑ میںمعصوم جنید خان کے قتل تک بے قصوراور نہتے مسلمانوں پر ہجوم کی جانب سے کئے جانے والے 28بے رحمانہ واقعات پیش آئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نریندر مودی حکومت نے گائو رکھشکوں کی فلاح وبہبود کے لئے 75لاکھ کا فنڈ مختص کیاہے اور کہتی ہے کہ گائے کے نام پر ہونے والے تشدد کو سیاسی رنگ نہ دیاجائے ۔ نانک سنگھ نشتر نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے قومی سالمیت کے لئے امن پسند اورسیکولر ہندوستانیوں کے اتحادکی حمایت کی ۔ تلگوکے شاعر جناب عبدالرشید نے بھی اس موقع پر ایک نظم سنائی۔ مولانا عبدالکریم پاریکھ کی سونح حیات کی جانب زاہد علی خان کے ہاتھوں رسم اجرائی عمل میں آئی۔ منتظمین کی جانب سے تمام مہمانو ںکو تہنیت پیش کی گئی ۔ قومی ترانے پر جلسہ کا اختتام عمل میںآیا۔

TOPPOPULARRECENT