Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد کے اطراف ٹریفک سے پاک سڑک کی تعمیر کا فیصلہ

حیدرآباد کے اطراف ٹریفک سے پاک سڑک کی تعمیر کا فیصلہ

12 مقامات سے شہر میں داخل ہونے کے راستے، جی ایچ ایم سی سے 5 ہزارکروڑ کے خرچ کا تخمینہ
حیدرآباد۔ 25 اکتوبر (سیاست نیوز) شہر کے اطراف بہت جلد 41 کیلومیٹر سگنل اور ٹریفک سے پاک سڑک کی تعمیر کا جی ایچ ایم سی نے منصوبہ تیار کیا ہے۔ آوٹر رِنگ روڈ سے متصل اس سڑک کی تعمیر اور تقریباً 12 مقامات سے شہر میں داخل ہونے کے راستے فراہم کرنے کے منصوبہ کو قطعیت دی جاچکی ہے۔ اس منصوبہ پر پہلے مرحلے میں 5 ہزار کروڑ روپئے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب رودِ موسیٰ کے مشرق تا مغرب تعمیر کئے جانے والے اس کاریڈور کو آوٹر رِنگ روڈ سے جوڑنے کا منصوبہ ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو خانگی کنسلٹنسی کی جانب سے تفصیلی پراجیکٹ رپورٹ حاصل ہوچکی ہے جس میں 12 جنکشن ناگول، گول ناکہ، عنبرپیٹ، چادر گھاٹ، پرانا پل، نیا پل کے علاوہ مسلم جنگ پل شامل ہے جہاں سے شہر میں داخل ہونے اور آوٹر رنگ روڈ سے جوڑنے والی سڑک کا راستہ موجود رہے گا۔ عہدیداراس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ 41 کیلومیٹر طویل اس سڑک کی تعمیر کیلئے کس طرح فنڈس اکٹھا کئے جائیں اور جائیدادوں کے حصول کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے۔ ذرائع کے بموجب 41 کیلومیٹر طویل اس کاریڈور کی تعمیر کا جو تخمینہ لگایا گیا ہے، اس کے مطابق فی کیلومیٹر 100 کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے جس میں جائیداد کے حصول کی قیمت بھی شامل ہے۔ چادر گھاٹ، عنبر پیٹ، پرانا پل اور نیا پل کے قریب ناجائز قبضہ جات کی برخاستگی بھی ضروری سمجھی جارہی ہے چونکہ نئی سڑک کی تعمیر کی صورت میں ان علاقوں میں موجود قبضہ جات کی برخاستگی اور جائیدادوں کا حصول بے انتہا ضروری ہے۔ سروجنی دیوی ہاسپٹل مانصاحب ٹینک تا آرام گڑھ چوراہا موجود پی وی این آر ایکسپریس وے کے طرز پر اس نئے کاریڈور کا منصوبہ ہے۔ 11 کیلومیٹر طویل پی وی این آر ایکسپریس وے سے ٹریفک مسائل دور ہونے کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد تیار کئے گئے اس پراجیکٹ میں موسیٰ ندی کے کنارے سے اس طرز کے کاریڈور کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسٹراٹیجک روڈ ڈیولپمنٹ پلانٹ کے تحت بلدیہ اس منصوبہ کو قابل عمل بنانے کیلئے حکومت سے رجوع ہوچکی ہے، اور حکومت کی جانب سے منصوبہ کو ہری جھنڈی دکھایا جانا باقی ہے۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اگر اس منصوبہ کو منظوری دیتے ہیں تو ایسی صورت میں حیدرآباد کے مختلف علاقوں کو جوڑنے کیلئے علیحدہ رِنگ روڈ کی تعمیر ممکن ہوسکتی ہے۔ محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے اس پراجکٹ کے قابل عمل ہونے کا جائزہ لینے کے علاوہ درکار مالیہ کے متعلق بھی غور کیا جارہا ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاع کے بموجب نیو ڈیولپمنٹ بینک برکس کے ذریعہ قرضے کے حصول کے متعلق بھی غور کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 1200 کروڑ روپئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے فکسڈ ڈپازٹ کرتے ہوئے اس منصوبہ کو قابل عمل بنانے کا آغاز ہوگا جبکہ مابقی رقومات کے حصول کے لئے بلدیہ اپنے ہی ذرائع استعمال کرے گی جبکہ برکس سے قرضہ کے حصول کے متعلق دوسرے مرحلے میں درکار 7 تا 8 ہزار کروڑ روپئے کی منظوری پر حکومت سے مشاورت کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT