Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد کے خواتین کو فنی تعلیم اور خود روزگار سے آراستہ کرنے کا عزم

حیدرآباد کے خواتین کو فنی تعلیم اور خود روزگار سے آراستہ کرنے کا عزم

نلگنڈہ کی محترمہ صالحہ جعفر مئیر آف لابیتھ لندن کی دفتر سیاست میں آمد ، چیاریٹی کے ذریعہ مختلف منصوبے
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔ 9 مئی۔ لندن لامبیتھ مئیر کی جانب سے وصول کی جانے والی امداد حیدرآباد میں ضرورتمندوں پر خرچ کی جائیں گی ۔ مئیر آف لامبیتھ محترمہ صالحہ جعفر نے آج روزنامہ سیاست کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو کے دوران یہ بات بتائی۔انہوں نے بتایا کہ مئیر چیاریٹی میں وصول کی جانے والی رقومات کو انہوں نے شہر حیدرآباد میں خواتین کی تکنیکی تعلیم اور چھوٹے خود روزگار منصوبوں پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلہ سے کونسل کو واقف بھی کروا دیا گیا ہے جس کی ستائش کی جا رہی ہے۔ محترمہ صالحہ جعفر نے بتایا کہ وہ 2014میں لندن لمبیتھ کونسل کے لئے کونسلر منتخب ہوئی تھیں اور اب انہیں لیبر پارٹی ارکان نے ایک سالہ معیاد کیلئے مئیر منتخب کیا ہے۔ 2016-2017معیاد کیلئے منتخب ہونے پر انہوں نے اپنی پارٹی سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 20برسوں سے کمیونیٹی سرویس میں مصروف ہیں اور مختلف طریقوں سے خدمت خلق انجام دے رہی ہیں ۔ لندن لامبیتھ کونسل کیلئے منتخب ہونے والی پہلی مسلم مئیر محترمہ صالحہ جعفر نے کہا کہ وہ نلگنڈہ میں پیدا ہوئیں اور کافی مشکل حالات سے گزرنے کے بعد اس مقام پر پہنچی ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر جاری پر تشدد نظریات کو معاشرے کے لئے ناسور قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک نوجوانوں کی بہتر کونسلنگ نہیں ہوتی اس وقت تک انہیں استحصال کا شکار ہونے سے بچایا نہیں جا سکتا۔ نوجوانوں میں سخت گیر نظریات کے فروغ کیلئے انہوں نے انٹرنیٹ کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ انٹرنیٹ کے ذریعہ ایسے مواد کی تشہیر کر رہیں ہیں جو نوجوانوں کو ورغلانے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ محترمہ صالحہ جعفر نے بتایا کہ ان کے علاقہ میں کئی ایک مسائل موجود ہیں لیکن ان میں سب سے بڑا مسئلہ امکنہ کا ہے جسے فوری طور پر حل کیا جانا ضروری ہے اسی لئے ان مسائل کے حل کا منصوبہ تیار کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لیبر پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ لندن لامبیتھ میں جلد از جلد 10ہزار مکانات کی تعمیر عمل میں لائی جائے۔ تاکہ عوامی ضروریات کو پورا کرنے کے وعدے کی تکمیل ہو سکے۔ اپنی رضاکارانہ تنظیم کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ فیملیز اگینسٹ سٹریس اینڈ ٹراما کے ساتھ کام کرتی رہی ہیں تاکہ ذہنی تناؤ میں مبتلاء خاندانوں کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔مئیر لندن لامبیتھ نے بتایا کہ نوجوان اگر کوشش کرتے ہوئے منزل کے حصول کی سمت گامزن رہیں تو ممکن ہے کہ انہیں منزل حاصل ہوجائے لیکن ہمت ہار کر خاموش ہونے والوں کو کبھی منزل حاصل نہیں ہوتی اسی لئے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھیں۔انہوں نے لندن لامبیتھ میں نسلی اور لسانی موقف کے متعلق کئے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ لندن کے اس خطہ میں مختلف مذاہب کے ماننے والے اور دنیا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد آباد ہے جس کا اندازہ اس علاقہ میں بولی جانے 57زبانوں سے لگایا جا سکتا ہے جن میں اردو ‘ عربی ‘ انگریزی کے علاوہ مختلف آفریقی ممالک کی زبانیں بھی شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT