Sunday , July 23 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد کے مختلف اسمبلی حلقوں میں اقامتی اسکولس کا افتتاح

حیدرآباد کے مختلف اسمبلی حلقوں میں اقامتی اسکولس کا افتتاح

مسلم اقلیت کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی دور کرنے چیف منسٹر فکرمند ، جناب محمود علی کا خطاب
حیدرآباد۔15جون(سیاست نیوز) نائب وزیراعلی تلنگانہ ریاست الحاج محمد محمودعلی نے آج گریٹر حیدرآباد کے مختلف اسمبلی حلقہ جات میںنئے اقامتی اسکولس کا افتتاح عمل میں لایا۔جناب محمد محمودعلی کے ہمراہ تلنگانہ اقلیتی اقامتی تعلیمی ادارہ جات سوسائٹی کے سکریٹری بی شفیع اللہ کے علاوہ چیرمن ریاستی اقلیتی مالیتی کارپوریشن سیداکبر حسین اور مقامی ٹی آر ایس قائدین کی کثیرتعداد بھی موجود تھی۔ جناب محمد محمودعلی نے بنڈلہ گوڑہ ‘ مغل پورہ ‘ لنگر ہاوز میں نئے اقامتی اسکول کا افتتاح انجام دیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب محمد محمود علی نے کہاکہ حکومت تلنگانہ ریاست کے نونہالوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کی غرض سے اقامتی اسکولس کا قیام عمل میںلارہی ہے ۔ جناب محمد محمودعلی نے مزیدکہاکہ تعلیم کے ذریعہ پسماندگی جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی جدوجہد میںکامیابی ممکن ہے۔ انہوں نے کہاکہ جو قوم تعلیم سے محروم ہوجاتی ہے تاریخ کے اوراق میںبھی ان کا نام ونشان نہیںملتا۔ جناب محمد محمودعلی نے مزیدکہاکہ علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل سے قبل ہی ہمارے عظیم قائد کے چندرشیکھر رائو علاقہ تلنگانہ کی مسلم اقلیت کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی دور کرنے کے لئے کافی فکر مند تھے اور اقتدار حاصل ہونے کے بعد انہوں نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اقامتی اسکولس کے نظریہ کو تلنگانہ میںفروغ دینے کی شروعات کی اور بڑی حدتک کامیاب رہا ۔ جناب محمد محمودعلی نے کہاکہ کسی بھی قوم کی ترقی کیلئے تعلیم کو نہایت ضروری ہے جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیںوہ تعلیم کی وجہ سے ترقی یافتہ ہیں جنہوں نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اس سے استفادہ کرتے ہوئے دنیا میں اپنا مقام بنایا ۔ نائب وزیر اعلی نے مزید کہا کہ ریاست تلنگانہ سے نا خواندگی کے مکمل خاتمے کیلئے بالخصوص مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کے لیے وزیراعلیٰ کے سی آر نے اقلیتی اقامتی اسکولوں کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنے خطاب کے دوران محمد محمود علی نے کہاکہ تلنگانہ میں اقامتی اسکولوں کا قیام ملک کی دیگر ریاستوں کے لئے ایک مثال ہے حکومت کی اس تعلیمی پالیسی کو دیکھتے ہوئے دیگر ریاستوں کی حکومتیں بھی اس پر غور کررہی ہیں ۔ نائب وزیر اعلی نے کہا کہ ان اقامتی اسکولس میں معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لئے بہترین تربیت یافتہ اساتذہ کا انتخاب عمل میں لایا جا رہا ہے مزید کھیل کود وغیرہ کے مواقع بھی طلباء کو فراہم کئے جا رہے ہیں اور اسکول میں طلباء کو معیاری غداء کے ساتھ ہر قسم کی سہولت دی جارہی ہے جس کے باعث اقلیتی اقامتی اسکولوں کو لیکر عوام میں جوش وخروش دیکھاجارہاہے یہی وجہ کہ اقامتی اسکولوں میں داخلوں کے لیے قرعہ اندازی کا سہارا لینے پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ جاریہ سال حکومت کی جانب سے 71نئے اقامتی اسکولس کا قیام عمل میں لایا گیا جبکہ عوام کی اپنے بچوں کے ان اسکولس میں داخلے کے متعلق دلچسپی کے پیش نظر آنے والے سال اس میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ محمد محمود علی نے بتایا کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے اقلیتی اقامتی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے ایک طالب علم پر ایک لاکھ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ سوسائٹی سکریٹری بی شفیع اللہ نے اقامتی اسکولس میں داخلوں کے خواشمند عوام کو مایوس نہ ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہ سوسائٹی کے موقع پرداخلے کی سہولت فراہم کی جس سے استفادہ اٹھاتے ہوئے مذکورہ اسکولس میںداخلہ حاصل کیاجاسکتا ہے۔چیرمن فینانس کارپوریشن سید اکبر حسین نے بھی افتتاحی تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کے اقدام کا قابل تحسین قراردیا اور کہاکہ جس انداز میںٹی ایم آر ای ائی ایس کام کررہا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے آنے والے دنوں میں ریاست تلنگانہ کے صدفیصد اقلیتی تعلیمی یافتہ ہوجائیں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT