Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد کے پرانے شہر میں کانگریس پارٹی کو زبردست عوامی تائید

حیدرآباد کے پرانے شہر میں کانگریس پارٹی کو زبردست عوامی تائید

اقلیتوں کی ترقی پر نمائندگی کی تشہیر ، بلدیہ کے متوقع اعلامیہ کے پیش نظر وارڈس قائدین کا اجلاس
حیدرآباد۔ 28 ڈسمبر (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات کیلئے اعلامیہ کی اجرائی کو صرف 2 دن باقی ہیں، ایسے میں کانگریس پارٹی نے انتخابی حکمت عملی کی تیاری کیلئے تمام 150 وارڈس کے اہم قائدین کے ساتھ مشاورت کا آغاز کردیا ہے۔ صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی اور قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے شہر سے تعلق رکھنے والے قائدین سے مشاورت کی اور فیصلہ کیا گیا کہ کانگریس کے روایتی مضبوط حلقوں کے علاوہ پرانے شہر کے وارڈس پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے۔ پارٹی کو یقین ہے کہ اُسے بلدی انتخابات میں پرانے شہر میں زبردست عوامی تائید حاصل ہوگی کیونکہ عوام ٹی آر ایس حکومت کی عدم کارکردگی اور عوامی مسائل کی یکسوئی میں شہر کی مقامی جماعت کی ناکامی سے ناراض ہے۔ پارٹی نے شہر کی ترقی اور کانگریس کی جانب سے مختلف سطح پر مسلم اقلیت کو دی گئی نمائندگی کے بارے میں تشہیری مہم کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ شہر میں مختلف اہم مراکز پر ہورڈنگس نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس کے علاوہ شہر کی ترقی میں کانگریس حکومت کے رول کے بارے میں عوام میں پمفلٹس تقسیم کئے جائیں گے۔ پارٹی نے 4% مسلم تحفظات اور پیشہ ورانہ کورسیس میں اقلیتی طلبہ کیلئے فیس بازادائیگی جیسے کانگریس کے کارناموں کو عوام تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی نے سوشیل میڈیا کے ذریعہ انتخابی مہم کا عملاً آغاز کردیا جس میں مختلف اہم عہدوں پر مسلمانوں کو دی گئی نمائندگی کو واضح کیا گیا۔ پارٹی نے بتایا کہ ملک بھر میں کانگریس کے مسلم ارکان پارلیمان کی تعداد 14 ہے، جبکہ مقامی جماعت کا صرف ایک رکن پارلیمان ہے۔ ملک میں کانگریس کے مسلم ارکان اسمبلی کی تعداد 70 ہے اور مسلم ارکان قانون ساز کونسل کی تعداد 20 ہے  جبکہ مقامی جماعت کے حیدرآباد اور مہاراشٹرا میں جملہ 9 ارکان اسمبلی اور 2 ارکان کونسل ہیں۔ اس تقابلی جائزہ کے ذریعہ کانگریس پارٹی اقلیتی رائے دہندوں تک پہنچنے کی کوشش کررہی ہے۔ کانگریس کی جانب سے صدرجمہوریہ، نائب صدر، گورنر، چیف منسٹر، مرکزی وزراء اور ریاستی وزراء کے عہدوں پر مسلمانوں کو فائز کرنے کی تفصیلات بھی رائے دہندوں تک پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پارٹی کو یقین ہے کہ سوشیل میڈیا میں جس طرح مثبت ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے، اس سے رائے دہندوں کے کانگریس کی جانب جھکاؤ کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسی دوران محمد علی شبیر نے گریٹر حیدرآباد انتخابات میں کانگریس کی شاندار کامیابی کا دعویٰ کیا اور کہا کہ پہلی مرتبہ پرانے شہر میں کانگریس کا مظاہرہ غیرمتوقع اور حوصلہ افزاء رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت میں شہر اور بالخصوص پرانے شہر کی ترقی کیلئے جن اسکیمات اور پروجیکٹس کا آغاز کیا تھا، مقامی جماعت اس پر اپنی دعویداری پیش کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کاموں کا سہرا حکومت کے سَر ہوتا ہے جو بجٹ منظور کرتی ہے، لیکن مقامی جماعت اس سرکاری بجٹ کو اپنی ذاتی رقم کے طور پر پیش کرتے ہوئے رائے دہندوں کی تائید حاصل کرنے کوشاں ہے۔ محمد علی شبیر نے مذہبی جلسوں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی شدت سے مخالفت کی اور کہا کہ حال ہی میں جشن میلادالنبیؐ کے موقع پر منعقدہ جلسہ کو سیاسی فائدے کیلئے استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان جلسوں کے انعقاد کا مقصد سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں کو عوام سے روبرو کرنا اور انہیں عمل کی تلقین کرنا ہے لیکن مقامی جماعت نے اس مقدس جلسوں کو سیاسی جلسہ میں تبدیل کردیا اور اس مقدس اسٹیج کو سیاسی حریفوں کو برا بھلا کہنے کیلئے استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ہائی کمان کی ہدایت پر پارٹی پرانے شہر میں پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی پرانے شہر میں مقامی جماعت کے متبادل کے طور پر اُبھرے گی۔

TOPPOPULARRECENT