Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / حیدرآباد کے کئی علاقوں میں آبی بحران، عوام کا کوئی پرسان حال نہیں

حیدرآباد کے کئی علاقوں میں آبی بحران، عوام کا کوئی پرسان حال نہیں

نلوں کی طرح گلے بھی خشک ہونے لگے،30سال بعد ذخائر آب مکمل خشک

انتخابات کے موقع پر ہر گھر تک پانی پہنچانے کے اعلانات کرنے اور سبز باغ دکھانے والے قائدین لاپتہ

حیدرآباد۔ 20اپریل (سیاست نیوز) کاش دوبارہ انتخابات آجائیں اور ہم اپنے نمائندوں سے یہ کہہ سکیں کہ ہمارے نلوں کی طرح ہمارے گلے بھی خشک ہونے لگے ہیں۔ چونکہ پرانے شہر کے عوام کی یہ بدقسمتی ہے کہ ان علاقوں کے نمائندے انتخابی مہم کے دوران ہی مسائل کے حل کے تیقنات دیتے نظر آتے ہیں اور انتخابات سے قبل ہی کروڑہا روپئے لاگتی تعمیری و ترقیاتی کاموں کے افتتاح انجام دیئے جاتے ہیں جو دوبارہ انتخابی عمل کے آغاز تک بھی تکمیل کو نہیں پہنچتے۔ شہر حیدرآباد کے کئی علاقے آبی قلت سے دو چار ہیں لیکن کوئی پریشان حال عوام کا پرسان حال نہیں ہے اور نہ ہی مسئلہ کی یکسوئی کیلئے موثر نمائندگی کی جا رہی ہے۔30سال بعد شہر کے بڑے ذخائر آب خشک ہوگئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے شہر کے ہر گھر تک پانی پہنچانے کے اعلانات کیئے جا رہے ہیں اور دوران انتخابی مہم ہر امیدوار مسائل کے حل کی بات کر رہا تھا مگر آج شہر کے کئی علاقوں کے عوام کو درپیش پانی کی قلت سے راحت پہنچانے کیلئے کوئی موجود نہیں ہے۔ شہر حیدرآباد میں ایسی آبادیاں بھی پائی ج رہی ہے جہاں 10دن میں ایک مرتبہ پانی سربراہ کیا جا رہا ہے لیکن اس مسئلہ پر کوئی توجہ دینے کے بجائے قائدین گرمائی تعطیلات میں مصروف ہیں جبکہ عوام بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں۔

سلم علاقوں میں سربراہی آب روک دیئے جانے یا پھر قلت پیدا ہونے کی صورت میں ٹینکرس کے ذریعہ پانی کی سربراہی یقینی بنائی جاتی تھی لیکن جاریہ موسم گرما میں محکمہ آبرسانی کی جانب سے اس مسئلہ پر بھی توجہ نہیں دی جارہی ہے بلکہ ٹینکر کیلئے درخواست کرنے کے دو تین یوم بعد سربراہی کو یقینی بنانے میں معذوری کا اظہار کیا جانے لگا ہے۔ حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ ‘ مہیشورم ‘ یاقوت پورہ کے علاوہ دیگر مقامات سے وصول ہونے والی شکایات کے مطابق کئی علاقوں بندلہ گوڑہ ‘ اسمعیل نگر ‘ محمد نگر ‘ غوث نگر ‘ قباء کالونی ‘ شاہین نگر ‘ عیدی بازار‘ تالاب کٹہ میں پانی کی قلت شدت اختیار کرتی جا رہی ہے ۔زیر زمین سطح آب میں آرہی گراوٹ مستقبل کیلئے خطرہ ضرور ہے لیکن ان علاقوں میں عوام جن مسائل کا شکار ہیں ان میں سب سے اہم مسئلہ پانی کا بن چکا ہے اور کوئی اس مسئلہ کو حل کروانے سنجیدہ نہیں ہے۔مقامی عوام کا کہنا ہے کہ متعدد مرتبہ منتخبہ نمائندوں کو توجہ دلوائے جانے کے باوجود مسئلہ کا حل دریافت کرنے کے اقدامات سے گریز کیا جا رہا ہے چونکہ اب مستقبل قریب میں کوئی انتخابات نہیں ہیں اور نہ ہی عوام کے درمیان پہنچ کر وعدے و اعلانات کرنے ہیں اسی لیئے نمائندگی کے مدعی اس سنگین مسئلہ کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے یہ تصور کر رہے ہیں کہ عوام اس مسئلہ کو بھی بہت جلد فراموش کردیں گے لیکن شائد سیاسی قائدین تک یہ بات نہیں پہنچ رہی ہے کہ جن لوگوں نے مسائل کے حل کی آس لگائے ا نہیں ووٹ دیئے ہیں وہی عوام آج منتخبہ عوامی نمائندوں کو گالی دینے لگے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ جن لوگوں نے آس دکھائی تھی وہ لاپتہ ہیں اور ان لوگوں کے نمائندے عوام کی ان مشکلات کو حل کرنے کے بجائے پانی کی فروخت کرتے ہوئے ان میں اضافہ کر رہے ہیں جس پرعوام میں شدید برہمی پائی جاتی ہے۔چندرائن گٹہ و مہیشورم کے علاقوں میں سینکڑوں مکانوں کے قریب بڑے بڑے بیارل رکھے گئے ہیں تاکہ پانی آنے کی صورت میں فوری جمع کیا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT