Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / حیدرآباد یونیورسٹی طالب علم کی خودکشی کیخلاف احتجاج

حیدرآباد یونیورسٹی طالب علم کی خودکشی کیخلاف احتجاج

دہلی میں طلبہ تنظیموں کا شاستری بھون تک پُرتشدد مارچ ، واقعہ کی تحقیقات کا حکم

نئی دہلی ۔ 18 جنوری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی ( ایچ سی یو ) کے دلت ریسرچ اسکالر کی مبینہ خودکشی کیخلاف دہلی میں طلبہ کی کثیرتعداد نے وزارت فروغ انسانی وسائل کے باہراحتجاج اور  اپنی شدید برہمی اور غم وغصہ کا اظہار کیا۔ بائیں بازو جماعتوں سے ملحق آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن اور اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا کے علاوہ کانگریس کی نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا نے شاستری بھون تک مارچ منظم کیا اور اس معاملے میں وزیر فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی سے مداخلت کی خواہش کی ۔ احتجاج اُس وقت پُرتشدد شکل اختیار کرگیا جب طلبہ نے رکاوٹوں کو پھلانگ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی اور سکیورٹی عملے پر حملہ کردیا جس کے نتیجہ میں کئی زخمی ہوگئے اور پولیس نے ان طلبہ کو روکنے کیلئے واٹر کینن استعمال کئے ۔ تقریباً 115 طلبہ کو حراست میں لے لیا گیا ۔ ڈی سی پی (نئی دہلی ) جتن نروال نے بتایا کہ کئی پولیس عہدیدار بشمول ایڈیشنل ڈی سی پی اور ایس ایچ او کناٹ پیلس پولیس اسٹیشن زخمی ہوگئے ۔ ایچ سی یو کے طالب علم روہت شرما نے کل خودکشی کرلی تھی اور وہ اُن پانچ طلبہ میں شامل ہیں جنھیں گزشتہ سال یونیورسٹی سے معطل کردیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک اسٹوڈنٹس لیڈر پر حملہ کے مقدمہ میں ملزم بھی تھا۔ ان تمام کو ہاسٹل میں الگ تھلگ رکھا گیا تھا ، بعد ازاں یہ معطلی ختم کردی گئی تھی ۔ اسکالر کی موت پر درج ایف آئی آر میں مرکزی وزیر بنڈارو دتاتریہ اور حیدرآباد یونیورسٹی وائس چانسلر کا نام شامل کیا گیا ہے ۔ یہ مسئلہ اُس وقت سیاسی رُخ اختیار کرگیا جب دلت طلبہ نے یہ الزام عائد کیا کہ دتاتریہ کی ایماء پر امتیازی سلوک کی وجہ سے طالب علم کو خودکشی کرنی پڑی ۔ اس دوران وزارت فروغ انسانی وسائل نے واقعہ کے حقائق کا پتہ چلانے کیلئے دو رکنی ٹیم تشکیل دی ہے ۔ وزارت کی مداخلت کی وجہ سے یہ معاملہ پیش آنے کا دعویٰ بھی مسترد کردیا ۔ اور کہا کہ اُس نے گزشتہ سال اگسٹ میں دو طلبہ تنظیموں کے مابین جھڑپ کے سلسلے میں صرف رپورٹ طلب کی تھی ۔ (متعلقہ خبریں صفحہ 2 اور آخر پر)

TOPPOPULARRECENT