Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / حیدرآباد یونیورسٹی میں کنہیا کمار کو داخلے سے روک دیا گیا

حیدرآباد یونیورسٹی میں کنہیا کمار کو داخلے سے روک دیا گیا

مودی حکومت پر جمہوریت کے قتل کا الزام، جے این یو اسٹوڈنٹس یونین لیڈر کا خطاب،یونیورسٹی کو اچانک 3دن تعطیل، برقی اور آبرسانی سربراہی مسدود

حیدرآباد۔ 23 مارچ (سیاست نیوز)  حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں آج جے این یو اسٹوڈنٹس لیڈر کنہیا کمار کو داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ کنہیا کمار کی آمد سے قبل بھاری تعداد میں پولیس کی تعیناتی کے ذریعہ یونیورسٹی انتظامیہ نے کیمپس کے تمام راستوں کو بند کروادیا تھا ۔ بھاری پولیس جمعیت کے باوجود اے بی وی پی کارکنوں نے کنہیا کمار کی آمد کے ساتھ ہی ’’کنہیا کمار واپس جاؤ‘‘ ، ’’ملک کا غدار کنہیا کمار‘‘ جیسے نعرے لگائے۔ صبح سے جاری یونیورسٹی انتظامیہ اور طلبہ کے درمیان متصادم رویہ کے درمیان یونیورسٹی انتظامیہ نے 26 مارچ تک یونیورسٹی کو تعطیلات کا اعلان کرتے ہوئے برقی و آبی سربراہی بند کردی۔ جس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی میں موجود تمام میس بند کردیئے گئے۔ انچارج رجسٹرار کی جانب سے ایک مکتوب کمشنر کو روانہ کیا گیا تھا جس میں سیاست دانوں، بیرونی افراد، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور دیگر تعلیمی اداروں و جامعات کے یونین قائدین کے داخلہ پر پابندی عائد کرنے کی اطلاعات فراہم کی گئی تھیں جس پر عمل کرتے ہوئے پولیس نے نہ صرف روہت ویمولہ کی موت کے خلاف جاری احتجاج میں شرکت کے لئے پہونچے کنہیا کمار کو یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی بلکہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بھی باب الداخلہ پر ہی روک دیا گیا۔  ملک میں فرقہ پرستی، نسلی تعصب، ذات پات سے آزادی تک جنگ جاری رہے گی۔ مودی حکومت ’’ جمہوریت کا قتل‘‘ کررہی ہے

اور  طلبہ کو یونیورسٹیز میں نشانہ بناتے ہوئے آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین قائدکنہیا کمار نے آج حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت اور یونیورسٹی کے باہر موجود طلبہ سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ کنہیا کمار نے ایچ سی یو کیمپس میں داخلہ کی اجازت نہ دیئے جانے کو جمہوری اقدار کا قتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طالب علم کو جامعہ میں جانے سے روکا جارہا ہے۔ مرکزی حکومت منصوبہ بند انداز میں مخالف آر ایس ایس نظریات رکھنے والے طلبہ کو نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاٹھی چارج، جیل، دواخانے یا مقدمات کے ذریعہ طلبہ کی اِس  تحریک کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ روہت ویمولہ کی موت پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کنہیا کمار نے کہا کہ جب تک روہت ویمولہ کو انصاف نہیں ملتا، یہ جدوجہد جاری رہے گی اور سماجی مساوات کیلئے طلبہ متحدہ طور پر جدوجہد کرتے رہیں گے اور اُنھیں عوام کے اُن تمام طبقات کی تائید حاصل ہے جو آر ایس ایس کے نظریات سے اختلاف رکھتے ہیں اور آزادیٔ اظہار خیال کے حق کے تحفظ کے لئے کوشاں ہیں۔ کنہیا کمار نے اس موقع پر مرکزی حکومت سے استفسار کیا کہ آخر کتنے روہت ماروگے؟۔ ساتھ میں انہوں نے ایک نعرہ لگایا ’’ تم کتنے روہت ماروگے ہر گھر سے روہت نکلے گا۔‘‘پولیس کی جانب سے کئے گئے بے رحمانہ لاٹھی چارج پر بھیگہرے دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے  انہوں نے بتایا کہ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ طاقت کے ذریعہ طلبہ کی آواز کو دبایا جاسکتا ہے وہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ روہت ویمولہ کی موت پر مرکز کے رویہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کنہیا کمار نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ جن افراد کے اشارہ  پر کام کررہا ہے، وہ سب پر عیاں ہے۔  یونیورسٹی انتظامیہ کا حکومت کے اشارہ پر کام کرنا یونیورسٹی کی خود مختاری کے لئے خطرہ ثابت ہوگا۔

انہوں نے ’’روہت ایکٹ‘‘ کے نفاذ کا مطالبہ کیا اور کہاکہ جب تک جامعات میں حقوق کا تحفظ ممکن نہیں بنایا جائے گا اور مساوات پیدا نہیں کئے جائیں گے اُس وقت تک کامیابی کا تصور ممکن نہیں ہوسکتا۔ کنہیا کمار نے اپنے منفرد انداز میں یونیورسٹی کے باب الداخلہ کے باہر نعرے لگائے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا قائد  ڈاکٹر کے نارائنا، قومی صدر اے آئی ایس ایف سید ولی اللہ قادری اور دیگر موجود تھے۔ ڈاکٹر کے نارائنا نے پولیس کی جانب سے یونیورسٹی میں داخلہ پر عائد کردہ پابندی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت اپنے اختیارات کا بیجا استعمال کررہی ہے۔ روہت ویمولہ کی ماں نے یونیورسٹی انتظامیہ کے رویہ پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ’’روہت ایکٹ‘‘ کے نفاذ تک طلبہ کی جدوجہد جاری رہے گی اور ان کے خاندان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ یونیورسٹی کیمپس میں صبح کی اولین ساعتوں میں ہی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کو روک دیا گیا تھا اور وائس چانسلر اَپا راؤ نے تدریسی عملہ کے ہمراہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے کہا کہ اب یونیورسٹی میں ان کے احکام کے مطابق ہی سرگرمیاں انجام دی جاتی رہیں گی ۔ قبل ازیں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین طلبہ سے اظہار یگانگت کے لئے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی پہونچے تھے ، اُنھیں کیمپس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ سابق رکن راجیہ سبھا جناب سید عزیز پاشاہ کو یونیورسٹی کے باب الداخلہ سے حراست میں لیتے ہوئے نامپلی پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔ جبکہ جناب سید عزیز پاشاہ نے بتایا کہ وہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں خدمات انجام دے رہے غیر تدریسی عملہ کی یونین کے صدر ہیں، اس کے باوجود اُنھیں یونیورسٹی میں داخل ہونے نہیں دیا گیا۔
برائے مہربانی غذا اور پانی یونیورسٹی گیٹ تک پہنچائیں
احتجاجی طلباء کی سوشیل میڈیا پر اپیل، میس بند ہونے سے تکالیف کا سامنا
حیدرآباد 23 مارچ (سیاست نیوز) حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں احتجاج کررہے ہزاروں طلبہ رات دیر گئے تک بھی کھانے سے محروم رہے اور سوشیل میڈیا کے ذریعہ طلبہ نے اپنے ہمدردوں سے اپیل کی کہ وہ یونیورسٹی کے باب الداخلہ تک غذائی پیاکٹس اور پانی پہونچائیں تاکہ احتجاجی طلبہ کو غذا فراہم کی جاسکے۔ یونیورسٹی میں میس بند اور طلبہ کو پکوان کی اجازت نہ دیئے جانے کے سبب پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی جانب سے سماجی رابطہ کی ویب سائٹس اور اپلی کیشنس بالخصوص فیس بُک اور واٹس اپ کا استعمال کرتے ہوئے عوام سے یہ اپیل کی گئی کہ وہ احتجاجی طلبہ کے لئے غذا کا انتظام کریں اور غذائی پیاکٹس و پانی کی بوتل یونیورسٹی باب الداخلہ تک پہنچائیں جہاں سے طلبہ تنظیموں کے ذمہ داران یہ پیاکٹس حاصل کرلیں گے۔ اس سلسلہ میں یونیورسٹی کے ذرائع نے بتایا کہ جو طلبہ یونیورسٹی کے احاطہ میں غذا تیار کرنے میں مصروف تھے اُنھیں پولیس نے روک دیا اور معطل شدہ طلبہ کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کی گئی۔ یونیورسٹی کے تمام راستوں پر سکیوریٹی میں زبردست اضافہ کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے احتجاجی طلبہ کی آمد و رفت مفلوج ہوچکی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بھی داخلہ ہونے کی اجازت نہ دیئے جانے کے سبب طلبہ یونیورسٹی کے احاطہ میں پریشان حال ہیں جنھیں غذا کی فراہمی ناگزیر ہے۔ اس پیغام کے عام ہوتے ہی یونیورسٹی کے باب الداخلہ پر کئی لوگ غذائی پیاکٹس پہنچانے لگے۔ طلبہ کے بموجب 24 مارچ کو بھی میس بند رکھے جانے والے ہیں جس کی وجہ سے دشواریوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT