Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد ، سکندرآباد اور رنگاریڈی کے مکانات کی ازسرنو نمبر اندازی

حیدرآباد ، سکندرآباد اور رنگاریڈی کے مکانات کی ازسرنو نمبر اندازی

منفرد نمبرات مختص کرنے کی تجویز، جی ایچ ایم سی کے اقدامات کا آغاز
حیدرآباد 4 مارچ (سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ رنگاریڈی کے علاقہ جات ایل بی نگر، اوپل، راجندر نگر، کوکٹ پلی، قطب اللہ پور، ملکاجگیری اور کاپرا میں مکانوں کی ازسرنو نمبر اندازی کے متعلق بلدیہ کو رپورٹ موصول ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہر حیدرآباد میں بہت جلد نمبر اندازی کے کام کا آغاز کیا جائے گا اور تمام مکانات کو منفرد نمبرات کی تخصیص کے عمل کی شروعات ہوگی۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب حیدرآباد میں طویل مکان نمبرات کے باعث پتہ ڈھونڈنے میں ہونے والی مشکلات کو دور کرنے کے لئے خانگی ایجنسی کے ذریعہ کروائے گئے سروے کے بعد بلدیہ نے منفرد نمبرات کی تخصیص کا فیصلہ کیا ہے۔ سابق میں بھی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہر میں محلہ واری اساس پر منفرد نمبرات کی تخصیص کے ذریعہ نمبر اندازی کی گئی تھی لیکن منصوبہ ناکام ہونے کے بعد صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ازسرنو سرکل واری اساس پر نمبر اندازی کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بہت جلد نئے نمبرات کی تخصیص کے عمل کے آغاز کو منظوری فراہم کرتے ہوئے شہر میں آسان نمبرات اور عمارت واری اساس پر نمبرات کی تخصیص کو یقینی بنانے کا عمل شروع کیا جائے گا کیوں کہ حکومت کی جانب سے شہر حیدرآباد کو عالمی معیار کے شہروں کی فہرست میں شامل کرنے کے لئے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن شہر حیدرآباد کی سڑکوں، محلوں کے پتوں کے متعلق ہونے والی اُلجھن کو دُور کرنا بھی بے انتہا ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں گورنر آندھراپردیش و تلنگانہ مسٹر ای ایس ایل نرسمہن نے بھی متعدد مرتبہ مختلف پروگرامس میں اِس بات پر توجہ مبذول کروائی تھی کہ شہر حیدرآباد کے محلوں اور سڑکوں کے ناموں کے متعلق واضح بورڈس نہیں ہیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے اگر بلدی حدود میں موجود مکانوں کو منفرد نمبر اندازی کے پروگرام کا آغاز کیا جاتا ہے یا سرکل یا محلہ کی بنیاد پر نمبرات مختص کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں پتہ ڈھونڈنے میں ہونے والی دشواریاں دور ہوں گی۔ سابق میں جی ایچ ایم سی کی جانب سے شہر کی تاریخی عمارتوں کو بھی منفرد نمبرات دیئے جانے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا لیکن یہ منصوبہ بھی صرف دستاویزات تک محدود رہا۔ اِس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوپائی جس کی وجہ سے شہر میں موجود تاریخی عمارتوں کی نمبر اندازی کا کام بھی ادھورا ہے۔

TOPPOPULARRECENT