Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد سارے ملک میں اردو زبان کا سب سے بڑا اور مثالی مرکز

حیدرآباد سارے ملک میں اردو زبان کا سب سے بڑا اور مثالی مرکز

راجندر سنگھ بیدی صدی سیمینار کا اختتام: پروفیسر ایس اے شکور ‘ پروفیسر اشرف رفیع اور دوسروں کا خطاب
حیدرآباد ۔ 9 ۔ مئی : ( پریس نوٹ ) : اردو کے ممتاز اور منفرد فکشن رائٹرراجند سنگھ بیدی صدی تقاریب کے سلسلہ میں منعقدہ دو روزہ قومی سیمینار آج اختتام کو پہونچا ۔ ساہتیہ اکیڈیمی نئی دہلی کے زیر اہتمام تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ سیمینار کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ایس اے شکور ڈائریکٹر سکریٹری تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی نے کہا کہ حیدرآباد میں سیمینار بہت کم ہوتے ہیں ۔ گزشتہ سال اکیڈیمی نے جشن تلنگانہ کے سلسلہ میں دو روزہ سیمینار کروایا تھا‘ اس کے بعد یہ سیمینار ہوا ہے جو بہت کامیاب ثابت ہوا۔ اس میں راجندر سنگھ بیدی کے فن اور ان کے شخصیت کے بہت سے پہلو اجاگر کئے گئے۔ انہوںنے اس سیمینار کے انعقاد پر ساہتیہ اکیڈیمی کو مبارک باد بھی پیش کی۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ سارے ملک میں حیدرآباد اردو کا سب سے بڑا مرکز ہے‘ جہاں ایک طرف تلنگانہ میں 2. 24لاکھ بچے اردو میں تعلیم حاصل کررہے ہیں وہیں یہاں اردو کے 1582 مدارس‘ 82کالجوں کے علاوہ یونیورسٹیوں میں اردو کی تعلیم و تدریس ہوتی ہے۔ اردو کے بڑے اخبارات یہاں سے شائع ہوتے ہیں‘ اردو کے چیانل ہیں‘ اردو یونیورسٹی بھی یہیں پر قائم ہے۔ حیدرآباد میں ہر روز اردو کی کوئی نہ کوئی محفل‘ ادبی اجلاس اور مشاعروں کا اہتمام ہوا کرتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ تلنگانہ کے چیف منسٹر شری کے چندر شیکھر راؤ کو جو خود بھی اردو داں ہیں‘ اردو زبان اور تہذیب اور اس کے فروغ سے گہری دلچسپی ہے۔ انہوں نے اس موقعہ پر اردو اکیڈیمی کی سرگرمیوں پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی ‘ اور کہا کہ اردو کی ترق اور ترویج کے لئے اکیڈیمی کئی کام کررہی ہے۔ راجند ر سنگھ بیدی صدی سیمینارکانفرنس ہال ہوٹل گرانڈ پلازا ‘ نامپلی میں منعقد ہوا۔ آج دوسرے دن تین اجلاس ہوئے۔ پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر شافع قدوئی نے کی جبکہ اس میں پروفیسر طارق چھتاری‘ پروفیسر مولا بخش‘ اور ڈاکٹر فیروز عالم نے مقالے پیش کئے۔ دوسرے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر خالد قادری نے کی ‘ اس اجلاس میں جناب نظام صدیقی‘ جناب شمیم طارق اور جناب رحمٰن عباس نے مقالے پیش کئے۔ تیسرا اور آخری اجلاس منعقد ہوا‘ جس کی صدارت پروفیسر اشرف رفیع نے کی‘ انہوں نے کہا کہ اب تک جو مقالے پیش کئے گئے ان میں بیدی کے فن او رحیات کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی گئی ہے لیکن بیدی پر ابھی بہت کچھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے اردو کا مرکز ہونے کی ایک وجہہ یہ ہے کہ یہاں نظام سابع نے جو مضبوط سنگ بنیاد رکھا تھا اس کی بدولت اردو کا موقف مستحکم ہے‘ اگرچہ سابق حکمرانوں نے اس زبان کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی ‘ لیکن موجودہ چیف مسنٹر اردو کی ترقی سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ ڈاکٹروسیم بیگم‘ ڈاکٹر حبیب نثار اور جناب فیاض رفعت نے مقالے پیش کئے۔ پروگرام کی کارروائی سا ہتیہ اکیڈیمی کے پروگرام آفیسر ڈاکٹر مشتاق صدف نے کی۔ آج کے سیمینار میں ادیبوں‘ دانشوروں‘ صحافیوں‘ شاعروں اور محبان اردو کی بڑی تعداد شریک تھی جن میں فکنش نگار رتن سنگھ‘ ممتاز افسانہ نگار پروفیسر بیگ احسا س‘ جناب نظام صدیقی‘ جناب شمیم طارق‘ جناب موسیٰ رضا‘ڈاکٹر مصطفیٰ کمال ‘جناب سید شاہ نور الحق قادری‘ جناب ا یس کے افضل الدین‘ جناب رؤف خیر‘ جناب محسن جلگانوی قابل ذکر ہیں۔

TOPPOPULARRECENT