Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد شہر شراب کے مرکز میں تبدیل

حیدرآباد شہر شراب کے مرکز میں تبدیل

پاش علاقوں میں شراب کے مالس کا قیام، شراب کلچر کے ذریعہ سرمایہ داروں کو راغب کرنے کی کوشش
حیدرآباد 14 فروری (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد اب صرف ٹیکنالوجی کے مرکز ، رئیل اسٹیٹ تجارت کے مرکز یا پھر کسی اور مرکز کے نام سے بھی نہیں جانا جارہا ہے بلکہ شہر اب عالمی معیار کی شراب کی فروخت کا مرکز بھی بن چکا ہے۔ شہر حیدرآباد جو کسی زمانے میں ہیرے اور موتیوں کا شہر کہلاتا تھا وہ شہر 400 سال کی تاریخ میں مختلف ادوار سے گزرتا ہوا آج عالمی معیار کی شراب کے مرکز میں تبدیل ہوچکا ہے۔ شہر کے اطراف پاش آبادیوں میں اب شراب کے مالس کھلنے لگے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں شاپنگ مالس کلچر عام ہوا اور شاپنگ مالس کے بعد انٹرٹینمنٹ مالس معہ تھیٹرس بنائے جانے لگے لیکن اب مادھاپور، جوبلی ہلز جیسے علاقوں میں شراب کے مالس کھولے جاچکے ہیں جن میں عالمی معیار کی ہر طرح کی شراب کی فروخت کیلئے پیش کی جارہی ہے۔ گزشتہ ایک برس کے دوران شہر حیدرآباد میں شراب کی فروخت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے لیکن اس کے لئے ذمہ دار صرف شہریوں کو نہیں بلکہ حکومت کو بھی تصور کیا جارہا ہے۔ چوں کہ حکومت کی جانب سے معیاری شراب کی فروخت اور کلب کلچر کے فروغ کے ذریعہ سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شہر حیدرآباد میں پلے بوائے کلب کے آغاز کے بعد ہی اِس بات کے خدشات پیدا ہوچکے تھے کہ شہر حیدرآباد جوکہ تہذیبی اقدار کا مرکز ہے اِس میں کسی طرح سے دراڑ ڈالی جارہی ہے لیکن پلے بوائے کلب کے آغاز پر ہوئی کچھ ہنگامہ آرائی کے بعد یہ معاملہ یکدم سے ختم ہوگیا مگر اب شراب کو جس انداز میں فروغ دیا جارہا ہے اُس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہر کے تہذیبی اقدار سے زیادہ حکومت کو آمدنی اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی عزیز ہے۔ شہریوں کی جانب سے گزشتہ چند ماہ کے دوران غیر معیاری شراب کی فروخت کے خلاف چلائی گئی محکمہ آبکاری کی مہم پر زبردست ردعمل حاصل ہوا اور شہریوں نے اس مہم کی ستائش بھی کی۔ لیکن اس مہم کے ساتھ ساتھ محکمہ آبکاری نے غیر معیاری شراب کے خاتمہ کی کوشش تو کی لیکن معیاری اور عالمی برانڈس کی شراب کو فروغ دینے کے لئے بھی رعایتیں فراہم کرنا شروع کردیں جس کے منفی نتائج برآمد ہونے کے خدشات میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ میاں پور، مادھاپور، جوبلی ہلز جیسے علاقوں میں قائم کئے جارہے شراب کے مالس سے اخلاقی اقدار میں گراوٹ پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور آزادی کے ساتھ نوجوانوں کو شراب میسر آنے سے سماج میں مزید بُرائیاں پھیل سکتی ہیں۔ جماعت اسلامی ہند کی جانب سے گزشتہ برس کے اواخر میں ہوئے قومی اجتماع کے دوران امیر جماعت مولانا سید جلال الدین عمری نے اجتماع کی روئیداد سے واقف کراتے ہوئے اس بات کا بھی مطالبہ کیا تھا کہ نہ صرف ریاست تلنگانہ بلکہ ملک بھر میں شراب پر مکمل امتناع عائد کیا جائے چونکہ شراب تمام بُرائیوں کی جڑ ہے۔ جماعت اسلامی کے اس اجتماع میں شراب پر مکمل پابندی عائد کرنے کے متعلق مہم چلانے پر بھی غور کیا گیا تھا لیکن جس شہر میں منعقد ہوئے عظیم الشان اجتماع میں شراب کے متعلق اتنے سخت فیصلے کئے گئے اُسی شہر میں عالمی معیار اور برانڈ کی شراب کے مراکز کا قیام عمل میں آچکا ہے اور اُسے زبردست فروغ بھی حاصل ہورہا ہے جوکہ ملت اسلامیہ کے علاوہ مذہبی و سیاسی تنظیموں کے سربراہان کے لئے لمحہ فکر ہے۔

TOPPOPULARRECENT