Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد و سکندرآباد میں وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ

حیدرآباد و سکندرآباد میں وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ

موسمی تبدیلی کے اثرات، کالیرا کے مریضوں کی نشاندہی ، تیز بخار و دیگر علامتیں
حیدرآباد 10 جولائی (سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں آئی تبدیلی کے سبب وبائی امراض پھیلنے کے خدشات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے جاری شدید گرمی کے بعد اچانک آرہی تیز رفتار موسمی تبدیلی کے اثرات بچوں پر تیزی سے نمایاں ہونے لگے ہیں۔ دو یوم قبل شہر میں کالیرا کے 4 مریضوں کی نشاندہی کی گئی جس کے فوری بعد دونوں شہروں کے سرکردہ دواخانوں سے تفصیلات حاصل کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مثبت پائے گئے چار کالیرا کے مریضوں کا علاج فیور ہاسپٹل میں کیا جارہا ہے اور اِس مرض کی علامتوں کے ساتھ مزید 10 مریض رجوع ہوئے ہیں جن کی ابتدائی تشخیص کے بعد اِس بات کی توثیق کی گئی ہیکہ مذکورہ مریض کالیرا میں مبتلا نہیں ہیں لیکن وبائی امراض کے سبب تیز بخار و دیگر علامتیں اِن میں پائی جارہی ہیں۔ اِس کے علاوہ دست و قئے کا شکار مریض جو دواخانہ سے رجوع ہورہے ہیں اُن کے طبی معائنہ جات میں کوتاہی نہیں کی جارہی ہے کیوں کہ کالیرا سے نمٹنے کے لئے فوری طور پر مرض کی نشاندہی ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر کے شنکر سپرنٹنڈنٹ فیور ہاسپٹل کے بموجب کالیرا کے 4 مریضوں کی تشخیص کو وبائی قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی خوفزدہ ہونے کی ضرورت ہے

کیوں کہ موسمی تبدیلیوں کے دوران اِس طرح کے امراض کا پایا جانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ شہر کے دیگر خانگی ہاسپٹلوں سے رجوع ہونے والے مریضوں میں بھی اِن علامتوں کا شکار مریض رجوع ہورہے ہیں لیکن اُن کا خانگی طور پر بہتر علاج کروائے جانے کے سبب وہ معمولی بیماری کے طور پر دیکھے جارہے ہیں۔ ڈاکٹرس نے بتایا کہ اچانک موسمی تبدیلیوں کے اثرات بچوں پر جلد مرتب ہوتے ہیں اِسی لئے بچوں کو موسمی تبدیلیوں سے بچانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے تاکہ بچے کسی بھی وبائی امراض کا شکار نہ ہونے پائیں۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں ہلکی اور تیز رفتار بارش کے علاوہ موسم میں آئی اچانک ٹھنڈک سے محفوظ رہنے کے لئے ضروری ہیکہ رات کے اوقات میں گرم لباس کے استعمال کو ترجیح دیں اور موسم گرما کے د وران استعمال کی جانے والی اشیائے تغذیہ میں یکسر تبدیلی لانے سے گریز کرتے ہوئے بتدریج غذائی عادات کو تبدیل کیا جائے۔ غذائی عادات میں یکسر تبدیلی سے بھی دست و قئے کے علاوہ دیگر موسمی بیماریوں کا خدشہ لاحق رہتا ہے اِسی لئے ایسا کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT