Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد کا جی ایس ٹی اجلاس بے فیض

حیدرآباد کا جی ایس ٹی اجلاس بے فیض

تلنگانہ فائدہ سے محروم، سدھاکر ریڈی کانگریس ایم ایل سی کا ردعمل
حیدرآباد۔/10ستمبر، ( سیاست نیوز) سینئر کانگریس پارٹی قائد و رکن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر پی سدھاکر ریڈی نے گزشتہ دن شہر حیدرآباد میں منعقدہ جی ایس ٹی کونسل اجلاس کو بے فیض قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی اور کہا کہ حیدرآباد میں جی ایس ٹی کونسل کا اجلاس منعقد ہونے کے باوجود بھی خود ریاست کیلئے کوئی فائدہ بخش ثابت نہیں ہوا بلکہ ریاستی حکومت کی پیش کردہ تجاویز و مطالبات کو بالکلیہ طور پر نظر انداز کردیا گیا۔ مسٹر سدھاکر ریڈی نے کہا کہ گرانائیٹ، بیڑی اور ہینڈلوم ورکرس کی مشکلات و مسائل اور تکالیف کے تعلق سے مرکزی وزیر فینانس مسٹر ارون جیٹلی نے کم از کم توجہ بھی نہیں دی۔ انہوں نے مرکزی وزیر فینانس کے رویہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جی ایس ٹی کا انسانی بنیادوں پر نفاذ عمل میں لایا جانا چاہیئے اور اگر مرکزی حکومت انسانی بنیادوں پر جی ایس ٹی کا نفاذ عمل میں لائے تو کانگریس پارٹی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن انسانی بنیادوں کے مغائر جی ایس ٹی پر عمل آوری کرنے کی صورت میں کانگریس پارٹی خاموش تماشائی نہیں بنی رہے گی بلکہ حکومت کے طرز عمل و فیصلہ کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کرے گی۔ مسٹر سدھاکر ریڈی نے ریاستی ٹی آر ایس زیر قیادت تلنگانہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انتہائی شرم کی بات ہے کہ سرکاری دواخانوں کا رُخ کرنے والی حاملہ خواتین کی زچگیاں بنچوں پر ہورہی ہیں۔ جبکہ حکومت اس اس بات کا ادعا کرتی ہے کہ نے سرکاری دواخانوں کی کارکردگی میں بہتری پیدا کی گئی ہے جس کی وجہ سے عوام آج سرکاری دواخانوں کا رخ کررہے ہیں۔ لیکن ایک سرکاری دواخانہ میں بنچ پر زچگی ہونے اور نومولود کی موت واقع ہونے پر ہر ایک کا سرشرم سے جھک جاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT