Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد کو عالمی معیار کا بنانے مکانات کی نمبر اندازی ضروری

حیدرآباد کو عالمی معیار کا بنانے مکانات کی نمبر اندازی ضروری

جی ایچ ایم سی کے تعطل کا شکار منصوبہ پر عمل آوری کا جائزہ

حیدرآباد 18 اکٹوبر (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں موجود مکان نمبرات کو عصری اور آسان بنانے کا منصوبہ عرصہ دراز سے تعطل کا شکار بنا ہوا ہے۔ سال 2011 ء میں بھی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے اِس منصوبہ کا ازسرنو آغاز کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن تاحال منصوبہ میں کسی قسم کی پیشرفت ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ اس سے  قبل بھی جی ایچ ایم سی کی جانب سے حیدرآباد میں موجود تمام مکان نمبرات کی تبدیلی اور آسان نمبرات کی فراہمی کا اعلان کیا گیا تھا جس پر عمل آوری ممکن نہیں ہوپائی۔ 1990 ء کی دہائی میں بھی بلدیہ کی جانب سے شہر کے مکانوں پر نمبرات آویزاں کئے گئے تھے اور علاقہ واری اساس پر اُنھیں تفویض کیا گیا تھا اور اس سلسلہ میں نمبرات لگانے پر لاکھوں روپئے خرچ کئے گئے تھے۔ اِس منصوبہ میں ہوئی ناکامی کے بعد بلدی عہدیداروں نے ایک مرتبہ پھر اِس منصوبہ کو قابل عمل بنانے کے لئے ماہرین سے مشاورت کی لیکن ہر مرتبہ یہ مشاورت ناکام ثابت ہوتی رہی۔ سال 2011 ء میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ جی ایچ ایم سی حدود میں موجود گلیوں کے لئے نمبر کی تخصیص کے ساتھ مکان نمبرات کی حوالگی کو یقینی بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔ اُس وقت کے کمشنر جی ایچ ایم سی مسٹر ایم ٹی کرشنا بابو نے باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر مکان کے لئے علیحدہ منفرد نمبر دیا جائے گا تاکہ مکان نمبرات کو بہ آسانی تلاش کیا جاسکے۔ پرانے شہر کے علاوہ ایل بی نگر، اوپل، راجندر نگر، کوکٹ پلی، ملکاجگیری اور کاپرا میونسپلٹی میں اندرون 3 ماہ نمبرات الاٹ کرنے کا عمل مکمل کرنے کے متعلق منصوبہ تیار کیا گیا تھا لیکن 4 سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اِس عمل کو مکمل نہیں کیا جاسکا ہے۔ سابق کمشنر بلدیہ نے ماہرین سے مشاورت کے متعلق بتایا تھا کہ شہر کی 647 آبادیوں و محلہ جات کو 254 محلہ جات میں تقسیم کرتے ہوئے اُن کے اہم علاقوں کے نام کا اعلان کرتے ہوئے علاقوں کے نمبرات مختص کئے جائیں گے اور علاقوں میں موجود مکان نمبرات کی حوالگی کا عمل شروع ہوگا۔ علاوہ ازیں شہر کے نواحی علاقوں میں 393 آبادیوں و محلوں میں بھی یہ عمل اندرون دو سال مکمل کرلیا جائے گا۔ نئے مکان نمبرات کی حوالگی کے سلسلہ میں بلدیہ نے ملک کے مختلف شہروں کا مطالعاتی دورہ بھی کیا جن میں احمدآباد، چینائی اور بنگلور جیسے شہر شامل ہیں۔ حیدرآباد میں مکان نمبرات طویل ہونے کے باعث ہونے والی دشواریوں کے مدنظر بلدیہ کی جانب سے متعدد مرتبہ یہ منصوبہ تیار کیا گیا تھا لیکن اس منصوبہ پر عمل آوری یقینی بنانے کے سلسلہ میں کوئی اقدامات ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بلدیہ کے پاس موجود منصوبے کے مطابق شہر کے مختلف محلہ جات کے نقشوں کے اعتبار سے نئے نمبرات کی حوالگی کا منصوبہ ہے۔ علاوہ ازیں نئے نمبرات کی فراہمی کے متعلق شہر کی تاریخی عمارتوں کو بھی اِس میں شامل کرنے کا ارادہ ہے اور تمام تاریخی عمارتوں کو منفرد نمبرات حوالہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے لیکن اِن فیصلوں کو قابل عمل بنانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ شہر کے بیشتر علاقوں میں موجود گلیوں کو بھی علیحدہ نمبرات تفویض کئے جائیں۔ سابق میں شہر کے کئی محلوں میں موجود گلیوں کو علیحدہ نمبرات تفویض کرتے ہوئے بورڈ آویزاں کئے گئے تھے لیکن یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہوپایا۔ اِسی لئے بلدی عہدیدار اِس منصوبہ کو سختی سے قابل عمل بنانے کے لئے اقدامات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔ عالمی معیار کے شہروں میں پتہ بالخصوص مکان نمبر بہ آسانی بتایا جاسکتا ہے اِسی لئے شہر حیدرآباد کو عالمی معیار کے شہروں میں شامل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ شہر کے مکان و دوکان کو آسان پتے فراہم کرنے کے اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT