Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد کی ترقی ، خوبصورتی و صفائی کیلئے 100 روزہ خصوصی مہم

حیدرآباد کی ترقی ، خوبصورتی و صفائی کیلئے 100 روزہ خصوصی مہم

8000 کیلو میٹر طویل سڑکیں، 111 کیلو میٹر طویل اسکائی ویز کی تعمیر کا فیصلہ، جی ایچ ایم سی کا پہلا اجلاس عام
حیدرآباد 15 مارچ (سیاست نیوز) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے پہلے جنرل باڈی اجلاس کا آج میئر کی صدارت میں انعقاد عمل میں آیا۔ جی ایچ ایم سی انتخابات کے بعد مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے جنرل باڈی اجلاس کا یہ پہلا موقع تھا جہاں نئے چہروں بالخصوص خواتین کی مساوی تعداد موجود تھی۔ صفائی، سوچھ حیدرآباد اور بلدیہ کے 100 دن ترقی کے منصوبہ پر گرما گرم مباحث اور شوروغل کے درمیان کئی ایک قراردادیں منظور کرلی گئیں۔ جن میں موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ اور شاہ حاتم تالاب کے کام بھی شامل ہیں۔ تاہم جنرل باڈی اجلاس کی کارروائی کا آغاز شہدائے تلنگانہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد کیا گیا۔ میئر، ڈپٹی میئر، کمشنر اور تمام کارپوریٹرس و اعلیٰ عہدیداروں نے تلنگانہ کے شہیدوں کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی منائی اور کارروائی کا آغاز کیا۔ اس موقع پر میئر حیدرآباد بنتورا موہن نے تمام اراکین سے خواہش کی کہ وہ ترقی کے معاملہ میں تعاون کریں اور سنہرے تلنگانہ کی تعمیر میں بہترین رول ادا کریں۔ انھوں نے کہاکہ تلنگانہ کے قیام میں 1500 افراد کی قربانیوں کو ہمیں یاد رکھنا چاہئے اور حیدرآباد کو عالمی معیار کے شہر کے طرز پر ترقی دینے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ انھوں نے بلدیہ کے جنرل باڈی اجلاس میں منظور کردہ قرارداد کی تفصیلات بیان کیں اور کہاکہ منظوری اور عمل آوری کے لئے قرارداد کو چیف منسٹر کے دفتر روانہ کردیا جائے گا۔ انھوں نے اسٹراٹیجک روڈ ڈیولپمنٹ پلان (ایس آر ڈی پی) کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ بلدی حدود میں 8 ہزار کیلو میٹر سڑکوں کی تعمیر کی جائے گی۔ تقریباً چھ ہزار کروڑ کی لاگت سے عمل میں لائے جارہے اس پراجکٹ میں سڑکوں کی تعمیر و ترقی کے علاوہ اسکائی وے تعمیر کئے جائیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ آؤٹر رنگ روڈ کے اندرونی اہم راستوں میں 2500 کیلو میٹر سڑک تعمیر کی جائے گی۔ چونکہ 1200 کیلو میٹر کا احاطہ بلدی حدود میں آتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سڑکوں کے اہم پراجکٹ کو منصوبہ بند طریقہ سے 625 کیلو میٹر طویل تعمیر کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اس پراجکٹ کے تحت 111 کیلو میٹر اسکائی وزیر، 160 کیلو میٹر اہم سڑکیوں، اہم راستوں پر سیکشن (لنکس) سڑکیں۔ اس کے علاوہ گریٹر حیدرآباد کی تعمیر کے لئے 54 مقامات پر جنکشنس تعمیر کئے جائیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ 10 نئے قبرستانوں کی تعمیر، فی کس ایک کروڑ سے عمل میں لائی جائے گی۔ تین کروڑ کے اخراجات سے 50 بس بے تعمیر کئے جائیں گے۔ (سلسلہ صفحہ 8 پر)

TOPPOPULARRECENT