Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد کے قبرستانوں کی حالت ابتر، حرمت قبور کی پامالی

حیدرآباد کے قبرستانوں کی حالت ابتر، حرمت قبور کی پامالی

وقف بورڈ کی لاپرواہی آشکار، کوڑا کرکٹ کا انبار، ناجائز قبضہ جات
حیدرآباد 10 جون (سیاست نیوز) دونوں شہروں میں قبرستانوں کی حالت انتہائی دگرگوں ہوتی جارہی ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ آئے دن قبرستانوں پر قبضوں کے علاوہ حرمت قبور کی پامالی کی شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں لیکن ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے قبرستانوں کے تحفظ پر توجہ نہ دیئے جانے کے سبب شہری حدود میں موجود قبرستانوں کی حالت انتہائی ابتر ہوتی جارہی ہے۔ ملک پیٹ پانی کی ٹانکی سے افضل نگر پہونچنے والی سڑک پر موجود قبرستان میں برقی ٹرانسفارمر کی تنصیب کے بعد یہ دیکھا گیا ہے کہ جس جگہ ٹرانسفارمر نصب کیا گیا ہے اُس حصہ میں نیچے قبر واضح نظر آرہی ہے لیکن اُس پر توجہ نہیں دی گئی۔ اِسی طرح ریس کورس کے عقب میں واقع اِس قبرستان میں موجود کچرے کی نکاسی کے لئے متعدد مرتبہ توجہ مبذول کروائے جانے کے باوجود کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں جوکہ نہ صرف وقف بورڈ بلکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کی لاپرواہی کی مثال ہے۔ اسی سڑک پر واقع ایک شمشان گھاٹ کی مکمل حصار بندی کی گئی ہے لیکن اِس مسلم قبرستان کی حصاربندی کے لئے علاقہ کے منتخبہ عوامی نمائندوں سے بھی نمائندگی کی جاچکی ہے لیکن کوئی اِس مسئلہ کی جانب توجہ نہیں دے رہا ہے۔ مقامی عوام کے بموجب مذکورہ قبرستان کو کچرے کی کنڈی میں تبدیل کرتے ہوئے اِس قبرستان کی نشانیوں کو مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اِسی لئے یہ ضروری ہے کہ اِس مسلم قبرستان کو جو شہر کے بیچوں بیچ واقع ہے فوری طور پر بچانے کے اقدامات کئے جائیں اور ریاستی وقف بورڈ کے ساتھ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کو چوکسی اختیار کرتے ہوئے واحد نگر علاقہ میں موجود اِس قبرستان کی حصاربندی اور صفائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ علاقہ کے عوام کو تدفین میں سہولت ہو اور قبرستان کی حرمت کو پامال ہونے سے بچایا جاسکے۔ اس علاقہ میں واقع دو شمشان گھاٹ کی حصاربندی میں جو جستجو اور مستعدی کا مظاہرہ متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے کیا گیا ہے اُسی طرح مستعدی کا مظاہرہ اگر وقف بورڈ، مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ساتھ منتخبہ عوامی نمائندوں کی جانب سے کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ملک پیٹ جیسے علاقہ میں موجود قبرستان کی وسیع و عریض اراضی کو محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT