Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد یونیورسٹی کے معطل ارکان فیکلٹی کی بھوک ہڑتال

حیدرآباد یونیورسٹی کے معطل ارکان فیکلٹی کی بھوک ہڑتال

انتظامیہ پر ذات پات کے تعصب کا الزام، احکام کی منسوخی کا مطالبہ
حیدرآباد 14 جون (پی ٹی آئی) یونیورسٹی آف حیدرآباد (یو او ایچ) کے دو معطل شدہ فیکلٹی ارکان نے یونیورسٹی کی جانب سے اپنی معطلی کے خلاف غیر معینہ مدت کی بھوک ہرتال شروع کردی۔ جنھیں رواں سال مارچ کے دوران 48 گھنٹوں سے زائد پولیس حراست میں رہنے کی بنیاد پر معطل کیا گیا تھا۔
انھوں نے یونیورسٹی احاطہ کے باہر بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔ اس دوران ایس سی / ایس ٹی ٹیچرس فورم نے الزام عائد کیاکہ انتقامی جذبہ کے تحت ان دونوں اساتذہ کو معطل کیا گیا ہے اور اُنھوں نے اس فیصلہ کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے۔ امبیڈکر اسٹڈیز سنٹر کے سربراہ اور شعبہ پولٹیکل سائنسیس کے فیکلٹی رکن کے وی آر رتنم اور شعبہ ریاضی کے فیکلٹی رکن تتھاگتا سینو گپتا کو گزشتہ روز معطلی کی نوٹس دی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ انھوں نے 48 گھنٹوں تک پولیس حراست میں رہنے کے باوجود یونیورسٹی حکام کو مطلع نہیں کیا تھا۔ پولیس نے انھیں 22 مارچ کو حراست میں لیا تھا۔ درج فہرست طبقات و قبائل سے تعلق رکھنے والے ٹیچرس کے فورم نے اپنے بیان میں کہاکہ ’’رتنم اور سینو گپتا نے ذات پات کے تعصب پر مبنی غیر منصفانہ معطلی کے خلاف غیر معینہ مدت کی زنجیری بھوک ہڑتال شروع کی ہے‘‘۔ واضح رہے کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اپا راؤ کی طویل رخصت سے واپسی کے بعد ان کی سرکاری رہائش گاہ کا محاصرہ کرنے والے احتجاجیوں نے 22 مارچ کو پولیس کو گھسیٹا  تھا۔

TOPPOPULARRECENT