Tuesday , October 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / حینِ حیات کسی متعلق کو محروم کرنا گناہ ہے

حینِ حیات کسی متعلق کو محروم کرنا گناہ ہے

سوال: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر کچھ گز اراضی کے مالک ہیں۔ انکے متعلقین میں ایک لڑکا اور چار لڑکیاں ہیں۔ اور ان تمام کی شادیاں ہوچکی ہیں۔اب بکر اپنی زندگی ہی میں اپنی جائیداد اولاد میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔
ایسی صورت میں شرعًا کیا حکم ہے ؟ بینوا توجروا
جواب: صورتِ مسئول عنہا میں مالکِ جائداد بکر کی حینِ حیات انکی جائیداد میں انکی اولاد کا کوئی حق وحصہ نہیں، کیونکہ وارث کا حق بعد وفات مورث ہوتا ہے، زندگی میں نہیں۔ درمختاربرحاشیہ ردالمحتار جلد۵ کتاب الفرائض میں ہے: وھل اِرث الحی من الحی أم من المیت ؟ ألمعتمد الثانی۔
اگر بکر اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہتے ہیں، تو یہ ’’ھبہ‘‘ یا ’’عطاء‘‘ ہے۔ اپنے لئے جو مناسب سمجھے رکھ لیکر بقیہ اپنی تمام اولاد کے درمیان بلالحاظ لڑکا ، لڑکی سب کو برابر برابر یا کسی کو نقصان پہنچانا مقصود نہ ہوتو کسی کو کم یا کسی کو زائد بھی دے سکتے ہیں، جسکو دیا جائے اس کاحصہ متعین کرکے اپنا قبضہ ہٹاکر اسکے قبضہ میں دینا ہوگا۔ اور کسی بھی وارث کو بالکلیہ محروم نہ کرے، کیونکہ ایسا کرنا گناہ ہے۔ درمختار برحاشیہ ردالمحتار جلد ۴ کتاب الہبۃ میں ہے: وفی الخانیۃ لابأس بتفضیل بعض الاولاد فی المحبۃ لأنھا عمل القلب وکذا فی العطایا ان لم یقصد بہ الاضرار وان قصدہ سوی بینھم یعطی البنت کالابن عندالثانی وعلیہ الفتوی ولو وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز و اثم۔
نو مسلم خاتون کا دوبارہ مرتد ہوجانا
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ غیرمسلم شخص اور اس کی بیوی غیرمسلمہ نے اسلام قبول کیا، غیرمسلم شخص کا اسلامی نام حامد اور غیرمسلمہ خاتون کا اسلامی نام ہندہ رکھا گیا ۔ اب ہندہ اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کرلی اور ایک دوسرے غیر مسلم شخص سے ناجائز تعلقات بھی قائم کرلی ہے۔
ایسی صورت میں کیا وہ (اسلامی نام ہندہ ،) حامدکی بیوی برقرار رہے گی یا نہیں؟ کیا مذکورہ دونوں کا رشتہ نکاح باقی رہے گا یا نہیں ؟
جواب: شرعاً ارتداد کے ساتھ ہی رشتہ ازدواج منقطع ہوجاتا ہے ۔ تاتارخانیہ ج۳ صفحہ۱۷۷ میں ہے : اذا ارتد احد الزوجین وقعت الفرقۃ بینھما فی الحال۔
صورتِ مسئول عنہا میں ہندہ نے جس تاریخ کو اسلام چھوڑدی اور سابقہ ہندو مذہب اختیار کرلی اسی تاریخ سے وہ مرتدہ ہوچکی اور اُسی وقت سے اس کا رشتۂ نکاح حامدسے بالکلیہ ختم ہوچکا، اُسی تاریخ ِارتداد سے وہ ( ہندہ) حامدکی بیوی باقی نہیں رہی۔
نکاح میں کیا نامحرم گواہ رہ سکتا ہے ؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دورِ حاضر میں نکاح کے وقت نوجوانوں کی گواہی کو افضلیت دی جارہی ہے، اس لئے چچا زاد ، خالہ زاد ، ماموں زاد بھائیوں کو گواہ میں شامل کیا جارہا ہے ۔
ایسی صورت میں کیا نکاح میں نامحرم گواہ رہ سکتا ہے ؟
جواب: گواہ کا عاقل و بالغ ہونا ، آزاد ہونا اور مسلمان ہونا ضروری ہے۔ محرم اور غیر محرم کی کوئی قید نہیں۔ اس لئے چچا زاد ، خالہ زاد ، مامو زاد بھائی جبکہ وہ عاقل و بالغ آزاد مسلمان ہوں، گواہ ہوسکتے ہیں۔ فقط واﷲأعلم

TOPPOPULARRECENT