Saturday , April 29 2017
Home / مذہبی صفحہ / خاتم النبینﷺ کی طبیعت اور عیسائی مذہب کی خوش فہمی

خاتم النبینﷺ کی طبیعت اور عیسائی مذہب کی خوش فہمی

گزشتہ ہفتہ مورخہ ۹ مارچ۲۰۱۷؁ء بروز پنجشنبہ امریکہ کے نارتھ کیرولینا ویزلین کالج میں ایک بین مذہبی پروگرام میں بحیثیت مہمان مقرر شرکت کا موقعہ ملا جس میں مجھے ’’قرآن مجید کی روشنی میں حضرت ابراھیم خلیل اﷲ علیہ السلام کی شخصیت ‘‘ کے زیرعنوان تقریر کی دعوت دی گئی ۔ تقاریر کے بعد سوال و جواب کے سیشن کا آغاز ہوا ۔ اگرچہ پورے اطمینان و وقار سے اسلام سے متعلق جوابات دیئے گئے لیکن وقفہ وقفہ سے میزبان مقرر کو گرما گرم مباحث کو تھمانے کی کوشش کرنی پڑرہی تھی ۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃو السلام کو نعوذ باﷲ خدا کا بیٹا اور نجات دہندہ تصور کرتے ہیں اور جو اس عقیدہ کا قائل نہ ہو وہ سخت برہم ہوجاتے ہیں۔ عیسائیوں کو حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃو السلام کی پیار و محبت اور رحمت و اُلفت پر مبنی تعلیمات پر فخر و ناز ہے ، وہ اسلام کے اعتدال پر مبنی فطرت کے عین مطابق قوانین و تعلیمات پر انگشت نمائی کرتے رہتے ہیں۔ آئندہ ہفتہ اسی کالج میں ایک پروگرام ’’حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃو السلام کی شخصیت قرآن اور بائبل کی روشنی میں‘‘ منعقد ہونے والا ہے ۔ اس ضمن میں خطبات اسلامیہ مدراس مرتبہ  سید سلیمان ندوی کا مطالعہ کررہا تھا ۔ مرتب نے ۱۹۲۵؁ ء میں سیرت نبوی کے اہم آٹھ مختلف پہلوؤں پر انگریزی مدارس کے طلباء اور عام مسلمانوں کیلئے یہ خطبات ہفتہ وار دیئے تھے ۔ ان خطبات کے اہتمام کا اہم مقصد انگریزی کالجس اور مدارس میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی ذات گرامی پر نامور عیسائی اسکالرس کے منعقد ہونے والے علمی و تحقیقی خطبات کے مقابل میں حضرت نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی جامع ہستی کو علمی و تحقیقی اور معقول انداز میں پیش کرنا تھا ۔ اس کتاب کا ایک اقتباس درج ذیل ہے :

’’آج سے تیس چالیس برس پہلے پٹنہ کے مشہور واعظ اسلام  حسن علی مرحوم ’’نوراسلام ‘‘ نام سے ایک رسالہ نکالتے تھے ۔ اس میں انھوں نے اپنے ایک ہندو تعلیم یافتہ دوست کی رائے لکھی ہے کہ اس نے ایک دن ماسٹر صاحب سے کہاکہ ’’میں آپ کے پیغمبر کو دنیا کا سب سے بڑا کامل انسان تسلیم کرتا ہوں ‘‘ ۔انھوں نے پوچھا : ’’ہمارے پیغمبر کے مقابلے میں تم حضرت عیسیٰؑ کو کیا سمجھتے ہو ؟‘‘ ۔ اس نے جواب دیاکہ ’’محمد(ﷺ) کے مقابلے میں عیسیؑ ایسے معلوم ہوتے ہیں ، جیسے کسی دانائے روزگار کے سامنے ایک بھولا بھالا بچہ بیٹھا ہو ، میٹھی میٹھی باتیں کررہا ہو‘‘ ۔ انھوں نے دریافت کیا کہ ’’تم کیوں پیغمبر اسلام کو دنیا کا کامل انسان جانتے ہو ؟ ‘‘ اس نے جواب دیا کہ مجھ کو ان کی زندگی میں بیک وقت اس قدر متضاد اور متنوع اوصاف نظر آتے ہیں جوکسی ایک انسان میں تاریخ نے کبھی یکجا کرکے نہیں دکھائے ۔ بادشاہ ایسا کہ ایک پورا ملک اس کی مٹھی میں ہو اور بے بس ایسا کہ خود اپنے کو بھی اپنے قبضہ میں نہ جانتا ہو بلکہ خدا کے قبضہ میں ، دولتمند ایسا ہوکہ خزانے کے خزانے اونٹوں پر لدے ہوئے اس کے دارالحکومت میں آرہے ہوں اور محتاج ایسا کہ مہینوں اس کے گھر میں چولھا نہ جلتا ہو اور کئی کئی وقت اس پر فاقے سے گزرجاتے ہیں( فقر اختیار ہے اضطراری نہیں) سپہ سالار ایسا ہوکہ مٹھی بھر نہتے آدمیوں کو لے کر ہزاروں غرق آہن فوجوں سے کامیاب لڑائی لڑا ہو اور صلح پسند ایسا کہ ہزاروں پرجوش جاں نثاروں کی ہمرکابی کے باوجود صلح کے کاغذ پر بے چوں چرا دستخط کردیتا ہو ، شجاع اور بہادر ایسا ہو کہ ہزاروں کے مقابلہ میں تن تنہا کھڑا ہو اور نرم دل ایسا کہ کبھی اس نے انسانی خون کا ایک قطرہ بھی اپنے ہاتھ سے نہ بہایا ہو ، باتعلق ایسا ہوکہ عرب کے ذرہ ذرہ کی اس کو فکر ، بیوی بچوں کی اس کو فکر ، غریب و مفلس مسلمانوں کی اس کو فکر ، خدا کی بھولی ہوئی دنیا کے سدھارنے کی اس کو فکر ، غرض سارے سنسار کی اس کو فکر ہو اور بے تعلق ایسا کہ اپنے خدا کے سوا کسی اور کی یاد اس کو نہ ہو اور اس کے سوا ہرچیز اس کو فراموش ہو ، اس نے کبھی اپنی ذات کے لئے اپنے برا کہنے والوں سے بدلہ نہیں لیا اور اپنے ذاتی دشمنوں کے حق میں دعائے خیر کی اور ان کا بھلا چاہا ۔ لیکن خدا کے دشمنوں کو اس نے کبھی معاف نہیں کیا اور حق کا راستہ روکنے والوں کو ہمیشہ جہنم کی دھمکی دیتا اور عذاب الٰہی سے ڈراتا ہو ۔ عین اس وقت جب اس پر ایک تیغ زن سپاہی کا دھوکہ ہوتا ہو وہ ایک شب زندہ دار زاہد کی صورت میں جلوہ نما ہوجاتا ہے ، عین اس وقت جب اس پر کشورکشا فاتح کا شبہ ہو ، وہ پیغمبرانہ معصومیت کے ساتھ ہمارے سامنے آجاتا ہے۔ عین اس وقت جب ہم اس کو شاہ عرب کہہ کر پکارنا چاہتے ہیں وہ کھجور کی چھال کا تکیہ لگائے کھردری چٹائی پر بیٹھا درویش نظر آتا ہے ۔ عین اس وقت اس دن جب عرب کے اطراف سے آکر اس کے صحنِ مسجد میں مال و اسباب کاانبار لگا ہوتا ہو ، اس کے گھر میں فاقہ کی تیاری ہورہی ہے ۔ عین اس وقت جب آدھا عرب اس کے زیرنگیں ہوتا ہے حضرت عمرؓ حاضر دربار ہوتے ہیں اور اِدھر اُدھر نظر اُٹھاکر کاشانۂ نبوت کے سامان کا جائزہ لیتے ہیں۔ آپ ایک کھردری چارپائی یا چٹائی پر آرام فرمارہے ہیں، جسم مبارک پر بانوں کے نشان پڑگئے ہیں ، ایک طرف مٹھی بھر جو رکھے ہیں ، ایک کھونٹی میں خشک مشکیزہ لٹک رہا ہے ، سرورکائنات کے گھر کی یہ کُل کائنات دیکھ کر حضرت عمرؓ رو پڑتے ہیں ، سبب دریافت ہوتا ہے ، عرض کرتے ہیں یا رسول اﷲ ! اس سے بڑھ کر رونے کا اور کیا موقعہ ہوگا ؟ قیصر و کسری باغ و بہار کے مزے لوٹ رہے ہیں اور آپؐ پیغمبر ہوکر اس حالت میں ہیں ؟
ارشاد ہوتا ہے : ’’عمر ! کیا تم اس پر راضی نہیں کہ قیصر و کسریٰ دنیا کے مزے لوٹیں اور ہم آخرت کی سعادت ‘‘ ۔

عدی بن حاتم قبیلہ طےؔ کے رئیس مشہور حاتم طائی کے فرزند تھے اور مذہباً عیسائی تھے وہ حضورؐ کے دربار میں آتے ہیں ، صحابہؓ کی عقیدت مندیں اور جہاد کا ساز و سامان دیکھ کر ان کو اس فیصلہ میں دقت ہوتی ہے کہ محمد (ﷺ) بادشاہ ہیں یا پیغمبر۔ دفعۃً مدینہ کی ایک غریب لونڈی آکر کھڑی ہوتی ہے اور کہتی ہے کہ حضورؐ سے کچھ عرض کرنا ہے ، فرماتے ہیں ، دیکھو مدینہ کی جس گلی میں کہو میں تمہاری باتیں سن سکتا ہوں ۔ یہ کہہ کر اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اس کی حاجت پوری کردیتے ہیں ۔ اس ظاہری جاہ و جلال کے پردہ میں یہ عجز ، یہ خاکساری ، یہ تواضع دیکھ کر عدی کی آنکھوں کے سامنے سے پردہ ہٹ جاتا ہے اور وہ دل میں فیصلہ کرلیتے ہیں کہ یہ یقینا پیغمبرانہ شان ہے ، فوراً گلے سے صلیب اُتار دیتے ہیں اور محمد رسول اﷲ کا حلقۂ اطاعت اپنی گردن میں ڈال دیتے ہیں۔ (ماخود از خطبات مدراس)

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT