Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / خاتون آٹو ڈرائیور سرویس کا آندھرا میں آغاز

خاتون آٹو ڈرائیور سرویس کا آندھرا میں آغاز

حیدرآباد 16 مارچ (سیاست نیوز) آندھراپردیش ریاست میں سطح غربت کے خاتمہ کے لئے اقدامات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ اس سلسلہ کے تحت چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو کا ایقان ہے کہ معاشی استحکام کے لئے سیلف ہیلپ گروپ سماج میں بہت ہی کارآمد ثابت ہوں گے۔ اسی نظریہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے چندرابابو نائیڈو نے خواتین کو روزگار سے جوڑنے کے مقصد کے تحت اننت پور ضلع میں خاتون آٹو ڈرائیورس کی اسکیم کا آغاز کیا جس کے تحت اب اس ضلع کی خواتین آٹو چلانے کے لئے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ چیف منسٹر ریاست آندھرپردیش کا خیال ہے کہ کسی بھی خاندان کو مستحکم بنانے میں خواتین کا اہم کردار رہتا ہے۔ بکورایا سمدرم اننت پور منڈل کی 18 ایسی خواتین کو آٹوز کی چابیاں دی گئیں جوکہ ساتویں تا دسویں جماعت تک تعلیم یافتہ ہیں۔ جن کے شوہر چھوٹے کاشتکار یا پھر اگریکلچر لیبر یا پھر دیگر موسمی اعتبار سے محنت مزدوری کرتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ رورل ڈیولپمنٹ ایجنسی (ڈی آر ڈی اے) بہ تعاون RUDE-SETI اننت پور نے 15 اگسٹ 2015 ء کو ان 15 خواتین کو آٹو ڈرائیونگ کی تربیت فراہم کی تھی۔ اس کام کے لئے رورل ڈیولپمنٹ ٹرسٹ (آر ڈی ٹی) این جی او نے بھی ابتداء میں سی ایس آر کمپنی کے تحت بجاج آٹو اسپیر پارٹس اور ڈرائیونگ اسکول کے ذریعہ حصول ڈرائیونگ میں کافی مدد کی۔ ڈسٹرکٹ کلکٹر نے اس ضمن میں آٹو ڈرائیونگ سیکھنے کے خواہشمندوں سے درخواستوں کی طلبی کا اعلامیہ جاری کرکے درخواستیں طلب کیں تو 30 درخواستیں وصول ہوئیں جس سے 25 امیدواروں کا انتخاب کیا گیا تھا۔ دوران تربیت انھیں لرننگ لائسنس دیا گیا۔ بعدازاں 40 یوم کی تکمیل کے بعد باضابطہ لائسنس جاری کیا گیا۔ اس سلسلہ میں بجاج آٹو نے 4 نشستی آٹوز فراہم کرنے کے لئے آگے آیا جس کے بعد 1.50 لاکھ جبکہ 7 سیٹر آٹوز کو 1.70 لاکھ روپیوں فراہم کیا۔ دوران تربیت ان خواتین کو یومیہ 200 روپئے فراہم کرنے کے علاوہ انھیں خود حفاظتی اقدامات کے تحت مارشل آرٹ کی بھی تربیت دی گئی۔ تربیت کی تکمیل کے بعد آر ٹی او کے روبرو اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا گیا تو وہ اس سے کافی متاثر ہوئے اور ضلع نظم و نسق کی خوب ستائش کی۔ تربیت یافتہ خواتین کی ہمت افزائی کے لئے 25 ہزار روپئے فراہم کرکے مابقی رقم قرض میں شامل کیا گیا۔ اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آج مردوں کے شانہ بہ شانہ خواتین بھی محنت کرنے کے لئے کسی سے کم نہیں ہیں۔ خواتین کی ہمت اور محنت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مقامی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے ان کو اپنا موبائیل نمبر دیا اور اس بات کی ہدایت دی کہ اگر انھیں کسی قسم کی پریشانی یا پھر ہراسانی کی صورت میں وہ فوری ربط کریں تاکہ ان کی حفاظت کے لئے پولیس بروقت مدد کرسکے۔ ایک اندازہ کے مطابق یہ خواتین ڈیزل خرچ کے ساتھ یومیہ کم از کم 500 تا 600 روپئے کماسکتی ہیں جبکہ ان پر آسان قسط کے تحت 400 روپئے مقرر کیا گیا جبکہ ان خواتین نے پہلے ہی چار قسط ادا کرچکی ہیں۔ واضح رہے کہ ویلیج آرگنائزیشن نے انھیں 25 ہزار روپیوں کا قرض دیا ہے۔ اننت پور میں خواتین کے آٹو چلانے پر مرد آٹو ڈرائیورس اس بات کا خیال ظاہر کیاکہ ان کے پیشہ کو خواتین نے حاصل کرلیا ہے۔ یہ خواتین اپنے آٹوز کی رفتار 40 تا 50 کیلو رکھیں گی۔ اس طرح حکومت آندھراپردیش کے اس اقدام پر ہر طرف سے ستائش کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ خواتین میں اس بات کی نئی لہر شروع ہوگئی ہے کہ وہ بھی کچھ کر گزریں گی کیوں کہ گھر کے ایک فرد کی کمائی پر ان کا خاندان گذر بسر، پڑھائی اور دیگر ضروریات زندگی کی تکمیل کے لئے ناکافی ہوتے ہیں۔ اس جذبہ کے بعد کئی خواتین نے خود روزمگار کے لئے حوصلہ بڑھ گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT