Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / خاتون عہدیدار کی موجودگی میں پوچھ تاچھ کی جائے

خاتون عہدیدار کی موجودگی میں پوچھ تاچھ کی جائے

زبردستی خون کا نمونہ حاصل نہیں کیا جاسکتا، چارمی کی درخواست پر ہائیکورٹ کی ہدایت

حیدرآباد ۔ 25 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : سنسنی خیز منشیات کے معاملے میں ہائی کورٹ نے فلم ہیروئن چارمی کی جانب سے وکیل کی موجودگی میں پوچھ تاچھ کرنے کی اپیل کو مسترد کردیا ہے ۔ تاہم خاتون عہدیدار کی موجودگی میں صبح 10 تا شام 5 بجے پوچھ تاچھ کرنے کی ایس آئی ٹی کو احکامات جاری کئے ۔ زبردستی خون کے نمونے بھی حاصل نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ واضح رہے کہ منشیات کے معاملے میں تلگو فلم انڈسٹری کی 12 شخصیتوں کو اکسائز کے عہدیداروں نے نوٹس جاری کی تھی جس میں فلم ہیروئن چارمی کو 26 جولائی کو ایس آئی ٹی سے رجوع ہونے کی ہدایت دی تھی ۔ جس پر چارمی نے منشیات لینے کی تردید کی تھی تاہم پوچھ تاچھ کے لیے رجوع ہونے سے انکار نہیں کیا تھا انھوں نے ہائی کورٹ سے رجوع ہو کر تین شرائط رکھی تھی جس میں پوچھ تاچھ کے دوران وکیل کو ساتھ رکھنے کی اجازت دینے ، زبردستی خون کے نمونے ، پیر کے ناخن اور سر کے بال حاصل کرنے پر اعتراض کیا تھا اور ساتھ ہی ان سے پوچھ تاچھ کرنے والی ایس آئی ٹی ٹیم میں ایک خاتون آفیسر کی موجودگی کو بھی یقینی بنانے کی درخواست کی تھی ۔ چارمی کی رٹ پٹیشن کا جائزہ لینے کے بعد دوپہر ڈھائی بجے ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے چارمی کی مرضی کے بغیر زبردستی خون کے نمونے ، بال اور ناخن حاصل نہ کرنے کی ایس آئی ٹی کو ہدایت دی ۔ اور ساتھ ہی خاتون عہدیداروں کی موجودگی میں پوچھ تاچھ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ فلم ہیروئن چارمی کے وکیل وشنوردھن ریڈی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ نے اس معاملے میں تین اہم فیصلے کیے ہیں پوچھ تاچھ کے لیے حاضر ہونا یا نہ ہونا یہ چارمی کا اختیار ہے ۔ ان کی مرضی کے بغیر خون وغیرہ کے نمونے حاصل نہ کرنے کی ہدایت دی ۔ انہوں نے کہا کہ پوچھ تاچھ کے لیے چارمی نے کل ایس آئی ٹی سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ایڈوکیٹ نے بتایا کہ چارمی منشیات کے معاملے میں ملزم نہیں ہے صرف گواہ ہے ۔ اس کا نوٹس میں ہی تذکرہ کیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT