Wednesday , June 28 2017
Home / Top Stories / خالدہ ضیاء کیخلاف 15 اگست کو ’’جعلی سالگرہ‘‘ منانے پر گرفتاری وارنٹ

خالدہ ضیاء کیخلاف 15 اگست کو ’’جعلی سالگرہ‘‘ منانے پر گرفتاری وارنٹ

اصلی پیدائش کا متضاد ریکارڈ، بنگابندھو کی شہادت کے دن کا قصداً انتخاب توہین کے مترادف
ڈھاکہ ۔ 17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم اور بی این پی سربراہ خالدہ ضیاء کے خلاف 15 اگست کو اپنی متنازعہ سالگرہ منائے جانے کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا گیا ہے۔ یاد رہیکہ 15 اگست 1975ء کو بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن اور ان کے تقریباً تمام ارکان خاندان کے قتل عام کا سانحہ رونما ہوا تھا جسے قومی سانحہ کے طو رپر منایا جاتا ہے۔ شکایت کنندہ نے مقامی عدالت میں خالدہ ضیاء کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے عرضداشت داخل کی تھی جس کے بعد عدالت نے بھی 71 سالہ سابق وزیراعظم کی گرفتاری کا حکم جاری کردیا۔ دریں اثناء عدالت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ خالدہ ضیاء کو عدالت کی جانب سے گذشتہ تین سماعتوں میں حاضر نہ رہنے پر سمن جاری کیا گیا تھا تاہم اب کی بار مجسٹریٹ نے ان کیخلاف قانونی تقاضہ کی تکمیل کرتے ہوئے گرفتاری وارنٹ جاری کردیا جبکہ پولیس کیلئے بھی ہدایت جاری کی گئی ہیکہ وہ آئندہ سال 2 مارچ تک اس پر عمل آوری نہ کرے۔ دوسری طرف قانونی ماہرین کا کہنا ہیکہ پولیس کے ذریعہ سابق وزیراعظم کی فوری گرفتاری کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ پولیس کو وارنٹ پر عمل آوری کیلئے چار ماہ کا وقت دیا گیا ہے اور اس وقت تک خالدہ ضیاء شخصی طور پر عدالت میں حاضر ہوتے ہوئے ضمانت حاصل کرلیں گی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگاکہ خالدہ ضیاء کا 15 اگست کو اپنی سالگرہ منانا حکمراں جماعت عوامی لیگ کیلئے مستقل درد سر بنا ہوا ہے۔

خالدہ ضیاء 1996ء سے اسی دن اپنی سالگرہ مناتی ہیں کیونکہ یہ وہی سال ہے جب عوامی لیگ جسکی قیادت خالدہ ضیاء کی سیاسی حریف اور شیخ مجیب الرحمن (بنگا بندھو) کی دختر شیخ حسینہ کرتی ہیں، 21 سال کی طویل سیاسی گمنامی کے بعد اقتدار پر واپس آئی تھی۔ جاریہ سال اگست میں ایک صحافی نے اس جانب نشاندہی کی تھی کہ خالدہ ضیاء نے اپنی سالگرہ کیلئے قصداً 15 اگست کے دن کا انتخاب کیا ہے تاکہ بنگلہ دیش کے بابائے قوم کی توہین کی جاسکے۔ شکایت کنندہ نے جاریہ سال اگست میں عدالت میں جو عرضداشت داخل کی تھی اس میں خالدہ ضیاء کی تاریخ پیدائش کے اصلی ہونے پر شبہات کا اظہار کیا تھا کیونکہ خالدہ ضیاء کی شادی کے سرٹیفکیٹ کے مطابق موصوفہ 9 اگست 1944ء کو پیدا ہوئی تھیں جبکہ خالدہ ضیاء نے سب سے پہلا جو پاسپورٹ حاصل کیا تھا اس میں تاریخ پیدائش 5 اگست درج ہے اور اسکول امتحانات کی مارکس شیٹ میں تاریخ پیدائش 5 ستمبر 1946ء درج ہے جبکہ 1991ء میں شائع ہوئی خالدہ ضیاء کی سوانح عمری میں تاریخ پیدائش 19 اگست 1945ء بتائی گئی ہے۔ شکایت کنندہ غازی ظہیر نے قبل ازیں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عدالت میں مندرجہ بالا تمام دستاویزات داخل کی ہیں کیونکہ کسی بھی دستاویز کے مطالعہ سے یہ توثیق نہیں ہوتی کہ خالدہ ضیاء 15 اگست کو پیدا ہوئی تھیں۔ اس موقع پر شیخ حسینہ کے بڑے فرزند نے بھی اپنے فیس بک پوسٹ پر خالدہ ضیاء کی جانب سے اپنی ’’جعلی سالگرہ‘‘ منانے کے خلاف اعتراضات اور ناپسندیدگی کااظہار کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ ایسا کام آخر بھلا کونسی ذہنیت والا شخص کرسکتا ہے ؍ کرسکتی ہے۔ 15 اگست 1975ء کو بنگلہ دیش کے بابائے قوم شیخ مجیب الرحمن اور ان کے تمام ارکان خاندان کو (سوائے شیخ حسینہ کے جو اس وقت ملک سے باہر تھیں) گولیوں سے بھون دیا گیا تھا اور اس واقعہ نے ساری دنیا کو دہلا کر رکھ دیا تھا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT