Wednesday , September 20 2017
Home / فیچر نیوز / خاموش تھے تو بات یہاں تک پہنچ گئی

خاموش تھے تو بات یہاں تک پہنچ گئی

جنتا پریوار… ملائم سنگھ کس کے آلۂ کار
حامد انصاری کی حق گوئی پر واویلا کیوں ؟
مودی سرکار… آر ایس ایس کے دربار میں

رشیدالدین
جنتا پریوار کا بننا اور بکھرنا ، اتحاد اور پھوٹ کوئی نئی بات نہیں۔ قائدین آپسی اتحاد کی قسمیں کھاتے ہوئے تھکتے نہیں لیکن وہ قسمیں کبھی بھی دیرپا ثابت نہیں ہوئیں۔ ٹوٹنے بکھرنے کے اس کھیل میں ہمیشہ کسی ایک پارٹی نے اہم رول ادا کیا۔ ظاہر ہے کہ سیکولر طاقتوں کے اتحاد کا دیرپا ثابت ہونا کبھی بھی کامیاب نہ ہوسکا۔ اس کی وجہ شائد سیکولرازم کے دعوے میں قائدین کی کمزوری ہے۔ اقتدار اور کرسی کیلئے کسی ایک پارٹی نے بغاوت کرتے ہوئے محاذ کو کمزور کرنے کا کام کیا ہے۔ بہار اسمبلی انتخابات سے عین قبل سماج وادی پارٹی نے جنتا پریوار کو اتحاد سے پہلے ہی بکھیرنے کا کام کیا ہے۔ جنتا پریوار میں شامل تمام جماعتوں نے انضمام کا فیصلہ کیا تھا اور بہار چناؤ میں کانگریس کے ساتھ مل کر عظیم اتحاد تشکیل دیا گیا جو سیکولر جماعتوں کو متحد کرنے کی پہلی کوشش تھی۔ سماج وادی پارٹی جس کا بہار میں کوئی اثر نہیں ہے، اچانک تنہا مقابلہ کرنے کا اعلان کردیا جو بظاہر اس اتحاد کیلئے ایک دھکا ہے لیکن ملائم سنگھ یادو کی سیاسی قلا بازیوں سے واقف افراد کیلئے یہ اعلان توقع کے عین مطابق ہے۔ نشستوں کی تقسیم سے ناراض ہوکر نہ صرف تنہا مقابلہ کا اعلان کیا گیا بلکہ سماج وادی پارٹی نے بہار میں کامیابی کا دعویٰ بھی کیا ہے جو کسی لطیفہ سے کم نہیں۔ یہ دعویٰ تو ایسا ہی ہے جیسے عام آدمی پارٹی تلنگانہ اور آندھراپردیش میں تشکیل حکومت کی بات کرے۔ ملائم سنگھ یادو نے ایسے وقت سیکولر اتحاد کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے جب بی جے پی بہار میں عظیم اتحاد سے خائف ہے۔ آخر ملائم سنگھ نے کس کے اشارہ پر یہ حرکت کی ہے اور کہیں وہ بی جے پی کے آلۂ کار تو نہیں؟ انتخابات سے عین قبل جس طرح سیکولر جماعتوں کو کمزور کرتے ہوئے بی جے پی کے اطمینان قلب اور راحت کا سامان فراہم کیا گیا، اس سے ملائم سنگھ کی نیت میں کھوٹ صاف جھلک رہی ہے۔ مرکز میں 16 ماہ کی کارکردگی سے عوام مایوس ہیں اور بہار میں مودی کی 4 ریالیاں حوصلہ افزاء ثابت نہیں ہوئیں۔

ایسے میں بی جے پی کے پاس اپوزیشن میں پھوٹ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ سماج وادی پارٹی اگر تنہا مقابلہ کرتی ہے تو سیکولر ووٹ کی تقسیم کا راست فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ کیا ملائم سنگھ نے اترپردیش میں اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے کوئی خفیہ سمجھوتہ تو نہیں کرلیا؟ کیا اترپردیش کے چناؤ میں آر جے ڈی اور جنتا دل یونائٹیڈ کو سماج وادی پارٹی نشستوںکی تقسیم میں برابری کا حصہ دے گی؟ اگرچہ ملائم سنگھ کو اتحاد میں برقرار رکھنے اور انہیں منانے کی کوششیں جاری ہیں اور بالفرض وہ مان بھی جائیں تب بھی ان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ ملائم سنگھ یادو کا ٹریک ریکارڈ خود پکار کر کہہ رہا ہے کہ وہ سیاسی مقصد براری کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ الغرض ملائم سنگھ نے بہار میں نتیش ، لالو اتحاد سے پریشان بی جے پی کی مدد کی ہے۔ اس اتحاد میں کانگریس اور لالو پرساد نے کبھی بھی بی جے پی سے سمجھوتہ نہیں کیا جبکہ ملائم سنگھ اور نتیش کمار کو بی جے پی سے دوستی کا تجربہ ہے۔ جنتا پریوار میں شامل پارٹیوں کے انضمام سے قبل کی صورتحال نے انضمام کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بہار میں بی جے پی کو ایک کٹھ پتلی اور آلۂ کار کی ضرورت تھی جو ملائم سنگھ کی صورت میں اسے مل گیا۔ عظیم اتحاد میں ملائم سنگھ نے پارلیمنٹ سیشن کے دوران ہی رخنہ اندازی کا بیج بویا تھا، جب انہوں نے پارلیمنٹ کے بائیکاٹ کی مخالفت کی۔ دوسری مرتبہ وہ بہار میں عظیم اتحاد کی ریالی سے غیر حاضر رہے۔ ملائم سنگھ یادو عمر کے اس حصہ میں قومی سیاست کو اپنے اطراف گھمانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ بہار میں ان کی پارٹی کا کوئی وجود نہیں۔ وہاں تو لالو پرساد اور نتیش کمار کا سکہ چلتا ہے اور عوامی مقبولیت کے باوجود فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار سے دور رکھنے کیلئے لالو پرساد نے نتیش کمار کے حق میں قربانی دی۔ بہار کا الیکشن فرقہ پرست اور سیکولر طاقتوں میں اصل مقابلہ ہے اور ملائم سنگھ یادو نے پھر ایک بار بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ کم نشستوں کا الاٹمنٹ تو محض ایک بہانہ ہے۔ ملائم سنگھ یادو بھلے ہی محاذ میں واپس آجائیں پھر بھی جو نقصان سیکولر طاقتوں کو ہونا تھا، وہ تو ہوچکا۔ بی جے پی سے ملائم سنگھ کی ہمدردی کوئی نئی بات نہیں۔ اترپردیش میں بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت چلانے کا انہیں تجربہ ہے۔ بابری مسجد شہادت کے اصل ملزم کلیان سنگھ کو انہوں نے گلے لگایا تھا۔ جب کبھی بھی سیکولر طاقتوں کو متحد ہونے کا موقع ملا ، سیکولرازم کا مکھوٹا پہنے ملائم سنگھ یادو نے اتحاد کو کمزور کرنے میں اہم رول ادا کیا۔

سنگھ پریوار نے ایک طرف بہار میں جنتا پریوار کو کمزور کرنے کی کوشش کی تو دوسری طرف آر ایس ایس کی آنکھوں میں نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کھٹکنے لگے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس پریوار کو مسلم حکمرانوں کے نام پر سڑک برداشت نہیں ، وہ نائب صدر کے عہدہ پر ایک مسلمان کو کس طرح برداشت کرپائیں گے۔ نائب صدر کے دستوری عہدہ پر دوسری میعاد کرنے والے حامد انصاری کا آخر قصور کیا ہے کہ بی جے پی اور سنگھ پریوار انہیں فرقہ پرست کہنے لگے ہیں۔ ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کا خواب دیکھنے والے سنگھ پریوار نے بی جے پی حکومت کو جو ایجنڈہ حوالے کیا ہے ، اس میں مسلمانوں ، ان کی یادگاروں کے تحفظ اور مسلمانوں کی ترقی کیلئے کوئی جگہ نہیں۔ حامد انصاری نے ملک میں مسلمانوںکی ہمہ جہتی ترقی کیلئے مثبت اور ٹھوس اقدامات کی تجویز پیش کی۔ مسلم مجلس مشاورت کے ایک اجلاس میں شرکت کے دوران انہوںنے کہا تھا کہ سچر کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں سرکاری اسکیمات کے فوائد مسلمانوں تک پہنچنے چاہئے۔ سنگھ پریوار کو یہ بات بڑی ناگوار گزری اور نائب صدر جمہوریہ کے خیالات کو فرقہ پرستی سے جوڑنے لگے۔ اب تو ملک میں نائب صدر کو بھی اظہار خیال کی آزادی نہیں ہے۔ ڈاکٹر حامد انصاری پر مسلم تحفظات کی تائید کا الزام ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ انہوں نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ ہاں اگر وہ تحفظات کا ذکر کرتے بھی ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ کیا مسلمانوں کو حق دینے اور انصاف رسانی کی بات کرنا جرم ہے؟ کیا ملک میں صرف ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات کے حقوق کی بات کی جائے گی۔ کیا مسلمان ملک کے مساوی شہری اور ترقی میں حصہ دار نہیں ہیں۔ ؟ سنگھ پریوار کی سرگرمیوں کو دیکھ کر حامد انصاری نے شائد مسلمانوں کی سلامتی اور شناخت کو خطرہ کی بات کہی ہوگی۔ وہ ایک جہاں دیدہ اور باصلاحیت شخص ہی نہیں بلکہ ملک و قوم سے ان کی وفاداری شبہ سے بالاتر ہے۔ کسی سیاسی وابستگی کے بغیر حامد انصاری نے دستوری عہدہ کی آن بان اور شان کو برقرار رکھا۔  وہ ملک میں ڈاکٹر ذاکر حسین ، فخر الدین علی احمد ، اور ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے وارث ہیں ، اور ان پر کوئی بھی نہلا دہلا منہ اٹھاکر تنقید نہیں کرسکتا۔ کیا آر ایس ایس ملک کے دستوری عہدوں کو اپنے اشاروں پر چلانا چاہتی ہے ، جس طرح نریندر مودی حکومت کو ریموٹ سے چلایا جارہا ہے۔ اگر سنگھ پریوار کو مسلمانوں کی ترقی کے بارے میں بات کرنے پر اعتراض ہے تو پھر اسے چاہئے کہ وہ مرکزی وزارت اقلیتی امور اور قومی اقلیتی کمیشن کی برخواستگی کی سفارش کردے۔ بی جے پی کو مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے مذکورہ اداروں کی ضرورت ہے لیکن اگر کوئی ان کے تحفظ اور سلامتی کی بات کرے تو اس پر ناراضگی ناقابل فہم ہے۔ آر ایس ایس اورمرکزی حکومت کے درمیان اجلاس اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ حکومت آر ایس ایس کے اشارہ پر اور اس کے تحت کام کر رہی ہے۔

آر ایس ایس اور اس کی ملحقہ 15 تنظیموں بشمول وی ایچ پی قائدین کے روبرو وزیراعظم نریندر مودی مرکزی وزراء پیش ہوئے اور اپنا رپورٹ کارڈ داخل کیا۔ آر ایس ایس نے جو ایجنڈہ پیش کیا تھا، اس پر عمل آوری کا جائزہ لیا گیا ۔ آر ایس ایس اور سنگھ پریوار کے دربار میں وزیراعظم ، وزیر دفاع ، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کی حاضری ملک کی سالمیت او ر اقتدار اعلیٰ پر بدنما داغ ہے۔ حکومت دراصل پارلیمنٹ اور عوام کو جوابدہ ہے، آر ایس ایس کو نہیں ۔ یہ رجحان جمہوریت کیلئے خطرہ اور ہندو راشٹر کی سمت پیش قدمی کا اظہار ہے۔ سنگھ پریوار کو مسلمانوں سے نفرت کا یہ عالم ہے  کہ اورنگ زیب کے نام سے دہلی میں ایک سڑک بھی برداشت نہیں۔ تاریخ کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اورنگ زیب ہندوستان پر برطانوی سامراج کی حکمرانی سے پہلے حکمراں تھے۔ اس طرح وہ کوئی بیرونی حملہ آور نہیں بلکہ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ رہے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ان کے اقتدار کے خاتمہ کے بعد ہی انگریزوں کو ہندوستان میں داخلہ کا راستہ کھل گیا۔ ایسے حکمراں پر فرقہ پرستی کا الزام جن کی مذہبی رواداری کی مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ رعایا پروری اور مساوی سلوک کے ساتھ 50 سال حکمرانی کرنے والے بادشاہ کے نام سے سڑک کو برداشت نہیں کیا گیا ۔ دراصل ہر مسلمان سنگھ پریوار کی نظر میں فرقہ پرست ہے۔ اگر مسلم حکمرانوں سے اتنی نفرت ہے تو ان کی یادگاروں پر فخر کیوں؟ مغلیہ حکمراں سے نفرت لیکن مغلیہ حکمرانوںکی علامت لال قلعہ سے پرچم کشائی اور خطاب کیلئے تڑپ کیوں؟ نریندر مودی حکومت یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کی تقریب کسی اور مقام پر کیوں نہیں کرتی ؟ نادر اور منفرد یادگاروں کے سبب دنیا بھر میں ہندوستان کی شناخت ہے اور وہ یادگاریں مسلم حکمرانوں کی تعمیر کردہ ہیں۔ اگر ان تاریخی عمارتوں کو ہٹادیا جائے تو ہندوستان میں مٹی اور چونے کے سواء باقی کیا رہے گا۔ جن مسلمانوں کے نام سے نفرت ہے ، وہی ملک کا سر فخر سے بلند کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ملک کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں مسلمانوں نے اپنی تعمیرات اور فن تعمیر کے ثبوت نہیں چھوڑے ہیں۔ پھر مسلمانوں سے نفرت کیوں ؟ بقول منور رانا
اس خوف سے کہ ملک کا نقشہ بدل نہ جائے
خاموش تھے تو بات یہاں تک پہنچ گئی
[email protected]

TOPPOPULARRECENT