Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / خانگی اسکولس تجارتی مراکز میں تبدیل، کارپوریٹ اسکولس کا استحکام

خانگی اسکولس تجارتی مراکز میں تبدیل، کارپوریٹ اسکولس کا استحکام

کم فیس والے اسکولس سرکاری و امدادی مدارس کیلئے نقصان دہ ، رپورٹ میں انکشاف
حیدرآباد 17 جولائی (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں موجود خانگی اسکولوں کی صورتحال پر آئی ایک رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ خانگی اسکولس تجارتی مراکز میں بتدریج تبدیل ہوتے جارہے ہیں اور اِن اسکولوں میں معیار تعلیم میں آرہی گراوٹ کارپوریٹ اسکولوں کو مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر کے سرکاری اور امدادی اسکولوں کے معیار میں بہتری نہ ہونے کے علاوہ بنیادی سہولتوں کی عدم موجودگی کے سبب اولیائے طلبہ اپنے بچوں کو کم فیس والے اسکولوں میں داخلہ دلانے پر مجبور ہیں لیکن اِن تعلیمی اداروں میں کم تعلیم یافتہ اور معمولی تنخواہ پر خدمات انجام دینے والے اساتذہ طلبہ کے مستقبل کے لئے خطرناک ثابت ہورہے ہیں جوکہ طلبہ کو باصلاحیت بنانے کے بجائے اپنی ذمہ داری سے پہلوتہی کررہے ہیں۔ مختلف تنظیموں کے ذمہ داران و ماہرین کی جانب سے تیار کردہ اِس مطالعاتی رپورٹ میں اِس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ کم فیس والے تعلیمی ادارے جات سرکاری و امدادی اسکولوں کے خاتمہ کا سبب بھی تصور کئے جارہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کم فیس میں چلائے جانے والے تعلیمی ادارہ جات درحقیقت تعلیمی خدمت انجام دے رہے ہیں اُن کی کسی حد تک انجام دی جانے والی اِن خدمات سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اسکول میں جو ماحول فراہم کیا جانا چاہئے اور اسکول چلانے کے لئے جو قواعد و ضوابط کے ساتھ رہنمایانہ خطوط مرتب کئے گئے ہیں اُن پر عدم عمل آوری طلبہ کے تحفظ اور مستقبل کو تابناک بنانے پر سوالیہ نشان لگارہے ہیں۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالہ سے اِس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ شہر حیدرآباد میں چلائے جانے والے کئی اسکولس میں ایسے اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں جو خود بڑی مشکل سے ایس ایس سی کامیاب کئے ہیں اور اب وہ ساتویں تا دسویں جماعت کے طلبہ کو پڑھارہے ہیں۔ اس صورتحال کے سبب طلبہ کے معیار تعلیم کو شدید نقصان پہونچ رہا ہے۔ اِسی طرح حکومت کی جانب سے تیار کردہ رہنمایانہ خطوط کے مطابق پیشہ تدریس سے وابستگی کے لئے تیار کئے گئے کورسیس میں مہارت حاصل کئے بغیر پرائمری طلبہ کو بھی پڑھایا نہیں جاسکتا لیکن کئی ایسے اسکولس ہیں جہاں اِن اساتذہ کا تقرر عمل میں لایا جارہا ہے جو خود ابھی تعلیم حاصل کررہے ہیں بلکہ کئی ایسے اساتذہ بھی خدمات انجام دے رہے ہیں جن کی تعلیمی لیاقت بسا اوقات طلبہ سے کم ثابت ہورہی ہے۔ ماہرین تعلیم کے بموجب بچوں کی نشوونما میں باصلاحیت اساتذہ کا اہم کردار ہوتا ہے لیکن شہر حیدرآباد کے 3 منڈلوں بہادر پورہ، چارمینار اور بنڈلہ گوڑہ میں جو خانگی اسکول خدمات انجام دے رہے ہیں اُن کی صورتحال یکسر مختلف ہے کیوں کہ اِن منڈلوں میں چلائے جانے والے اسکولوں پر کوئی کنٹرول نظر نہیں آرہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ منڈلوں میں 254 سرکاری اسکولس اور 61 امدادی اسکولس چلائے جاتے ہیں۔ اِس کے برعکس 550 خانگی اسکولس چلائے جارہے ہیں۔ کم فیس میں اسکول چلانے والے خانگی اسکولوں کے ذمہ داران کا ماننا ہے کہ وہ تعلیمی خدمت انجام دے رہے ہیں جبکہ مطالعاتی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ایسے اسکولس طلبہ کے مستقبل کو تابناک بنانے کے بجائے تاریک کرنے کے موجب بن رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT