Thursday , March 23 2017
Home / شہر کی خبریں / خانگی اسکولس میں زائد فیس وصولی کے خلاف پولیس میں شکایتوںکا اندراج

خانگی اسکولس میں زائد فیس وصولی کے خلاف پولیس میں شکایتوںکا اندراج

اسکول پیرینٹس اسوسی ایشن کا فیصلہ ۔ حکومت کی جانب سے بہت جلد تعلیمی فیس کو باقاعدہ بنانے منصوبے کا اعلان متوقع

حیدرآباد۔12جنوری (سیاست نیوز) اسکول فیس ادائیگی مسئلہ پر پرانے شہر کے طالب علم کی خودکشی بعد اولیائے طلبہ اسکولو ں کے رویہ سے عاجز آچکے ہیں اور اب اسکول انتظامیہ کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروانے سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔ اسکول انتظامیہ کی جانب سے سرکاری طور پر متعین فیس سے زیادہ فیس کی وصولی پر پولیس میں شکایت درج کروائی جا سکتی ہے لیکن کئی برسوں سے اولیائے طلبہ اپنے بچوں کے درخشاں مستقبل کی فکر میں خاموشی سے فیس کی ادائیگی کردیا کرتے تھے لیکن حافظ بابا نگر میں فیس کے مسئلہ پر معصوم کے انتہائی اقدام نے اولیائے طلبہ کوچوکسی اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ حیدرآباد اسکول پیرنٹس اسوسیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ جن اسکولوں میں حکومت کی جانب سے متعینہ فیس سے زائد فیس وصول کی جا رہی ہے ان اسکولوں کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی جائے کیونکہ حکومت کی جانب سے فیس کے تعین کے باوجود اضافی فیں کا وصول کیا جانا اولیائے طلبہ کو دھوکہ دہی کے مترادف ہے ۔ اسکول انتظامیہ کی جانب سے فیس کے لئے طلبہ کوہراسانی کے بڑھتے واقعات اور غیر معمولی فیس کی وصولی کے بعد اب کیپیٹیشن فیس کے نام پر رقومات وصول کئے جانے پر کیپیٹیشن فیس قوانین کی دفعہ 8کے تحت مقدمات کا اندراج کیا گیا ہے اور مستقبل میں کسی بھی اسکول میں من مانی فیس کی وصولی یا فیس کے لئے طلبہ کو ہراسانی کی صورت میں ان کے خلاف پولیس میں شکایت کا جواز موجود ہے ۔ اسکول میں تعلیم حاصل کررہے طلبہ کو فیس کی پابجائی کیلئے دباؤ ڈالنا قانونی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے درست نہیں ہے اسی لئے ضروری ہے کہ عوام میں اس کے متعلق شعور اجاگر کیا جائے۔ حیدرآباد اسکولس پیرنٹس اسوسیشن کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ اسکول فیس کو باقاعدہ بنانے کے مطالبہ کے باوجود حکومت کی جانب سے تاحال اقدامات نہ کئے جانے کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے اور اب اولیائے طلبہ اسکول انتظامیہ کے خلاف پولیس سے رجوع ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے بہت جلد تعلیمی فیس کو باقاعدہ بنانے کے منصوبہ کا اعلان کیا جائے گا کیونکہ حکومت نے محکمہ تعلیم کی جانب سے داخل کردہ نئی تعلیمی پالیسی پر غور کرنا شروع کردیا ہے ۔ نئی تعلیمی پالیسی پر عمل آوری کو یقینی بنانے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے تمام اسکولوں کے فیس اور جماعت واری اساس پر فیس کے تعین کے علاوہ اسکولوں میں موجود سہولتوں کے مطابق فیس کا تعین عمل میں لایا جائے گا۔ حکومت نے تمام اسکولوں کے لئے داخلہ فیس کے نام پر 5000روپئے کی حد مقرر کی ہے لیکن اس کے باوجود بعض اسکولوں کی جانب سے5000سے زائد داخلہ فیس وصول کرنے کی شکایات وصول ہو رہی ہیں جس کے سبب اولیائے طلبہ میں شدید برہمی پائی جاتی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT