Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / خانگی اسکولس میں من مانی فیس وصولی کی شکایتیں

خانگی اسکولس میں من مانی فیس وصولی کی شکایتیں

اولیائے طلبہ پر بوجھ ، طلبہ کو ہراسانی کا سامنا ، سینکڑوں افراد کی شکایت
حیدرآباد۔22اپریل(سیاست نیوز) خانگی اسکولس میںلاکھوں روپئے ڈونیشن کے نام پر حاصل کرنے اور من مانی فیس وصولی کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار اسکول فیس ریگولیشن نے قدیم پریس کلب بشیر باغ میں عوامی سماعت منعقد کیا ۔ سابق چیف جسٹس چندرا کمار کے علاوہ پروفیسر شانتہ سنہا‘ اور ڈاکٹر ایم بالیا کی نگرانی میں سینکڑوں اولیائے طلبہ نے حصہ لیتے ہوئے خانگی اسکول انتظامیہ کی من مانیوں کی تفصیلات بیان کی ۔ اور سماعت کے دوران مذکورہ جے اے سی کی جانب سے خانگی اسکول انتظامیہ کی من مانیوں کے خلاف مسڈ کال تحریک کا بھی آغاز عمل میںلایا اور تمام شعبہ حیات کے متاثرہ اولیائے طلبہ کو ا س تحریک میں حصہ لینے اور تحریک کو کامیا ب بنانے کے لئے فو ن نمبر 8686004050پر مسڈ کال کرنے کی اپیل بھی کی گئی ۔سماعت کے دوران خانگی اسکول انتظامیہ کی من مانیوں کا شکار اولیائے طلبہ نے بتایا کہ لاکھوں روپئے ڈونیشن حاصل کرنے والا اسکول انتظامیہ اسکول فیس کی ادائی میںایک یا دوروز کی تاخیر پر اسکول کے نوٹس بورڈ پر ان طلبہ کا نام چسپاں کرتے ہوئے انہیں ڈی فالڈر قراردیتے ہیں جس سے ایسے طلبہ میں احساس کمتری پیدا ہورہی ہے اور تعلیم بھی شدید متاثر ہورہی ہے ۔ اولیائے طلبہ نے کہاکہ خانگی اسکولس جہاں دو تاپانچ لاکھ روپئے ڈونیشن کی شکل میں لئے ہیںوہاںپر ایک اسٹوڈنٹ کی سالانہ فیس نوے سے 95ہزار مقرر کی گئی ہے اور اس میںہر سال اضافہ بھی کیاجارہا ہے اور دسویں جماعت تک ایک بچے کی تعلیم پر تیس سے پینتس لاکھ روپئے کاخرچ آرہا ہے جو ایک عام آدمی کی دسترس سے دور ہے ۔

اولیاء طلبہ نے اپنی شکایت میں اسکول انتظامیہ کی جانب سے اسکول ڈریس ‘ کتابیں ‘ نوٹ بکس ‘ اور ٹیویشن کیلئے متعلقہ اسکولس کی سروس استعمال کرنے کے اصرار پر بھی اعتراض کیا اور کہاکہ جو اشیاء جات اسکول کے باہر کم قیمت میںدستیاب ہیں انہیں چیزوں کو اسکول انتظامیہ دوگنی قیمت پر فروخت کرتے ہوئے اولیاء طلبہ کے ساتھ زیادتی کررہا ہے ۔ایک خانگی اسکول انتظامیہ کے متاثرہ شخص نے خانگی اسکول انتظامیہ کی من مانی کا ذمہ دارریاستی  حکومت اور محکمہ تعلیم کی خاموشی کو قراردیا او رکہاکہ ڈی ای او‘ ایم ای او‘ علاقائی سطح پر ڈائرکٹرس کے تقرر کے باوجود خانگی اسکول انتظامیہ کی من مانیوں پر کسی قسم کا کوئی کنٹرول نہیں ہے ۔انہو ں نے کہاکہ محکمہ تعلیم اس ضمن میںمفلوج دیکھائی دے رہا ہے ۔اس موقع پر متعدد مرتبہ شکایتوں کے باوجود بھی خانگی اسکول انتظامیہ کے خلاف کاروائی سے محکمہ تعلیم کو ناکام قراردیاگیا۔سماعت کے بعد اپنی رائے پیش کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس چندرا کمار نے کہاکہ موجودہ دور میں خانگی تعلیم ایک بہت بڑی انڈسٹری میںتبدیل ہوگئی ہے ۔انہوں نے مزید کہاکہ کوئی راتوں رات اگر کروڑ پتی بننا چاہ رہا ہے تو وہ یا تو ایک اسکول قائم کرلے یا پھر ملٹی اسپشالیٹی ہاسپٹل بنالے ۔

جسٹس چندرا کمار نے مزید کہاکہ سب سے آسان اور زیادہ منافع بخش تجارت خانگی اسکول اور دواخانہ کے قیام ہے۔جسٹس چندرا کمار نے کہاکہ چودہ ہزار سے زائد خانگی اسکولس ریاست میںکام کررہے ہیںجن کی تفصیلات ریاستی محکمہ تعلیم کے پاس موجود ہے۔انہوں نے کہاکہ خانگی اسکول انتظامیہ کی من مانیوں کے خلاف شروع کی گئی اس تحریک میںمزید شدت پیدا کرتے ہوئے عوامی سماعت پر مشتمل رپورٹ حکومت اور محکمہ تعلیم کو پہنچائی جائے گی ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ خانگی اسکول انتظامیہ کی من مانیوں کا شکار اولیاء طلبہ کو آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ریاست تلنگانہ میںخانگی اسکول انڈسٹری کا سالانہ ٹرن ایک اندازے کے مطابق دولاکھ کروڑ کا ہے ۔مگر مذکورہ اسکولس میں خدمات انجام دینے والے ٹیچرس اور نان ٹیچنگ اسٹاف بنیادی سہولتوں سے محروم ہے قابلیت کے باوجود انہیں معقول معاوضہ ادا کرنے کے بجائے اسکول انتظامیہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر انہیں برخواست کردیتا ہے ۔ جس کی شکایت جے اے سی کی مذکورہ سماعت میں کی گئی۔ خانگی اسکولوں کے قیام کے لئے درخواست داخل کرنے اور رجسٹریشن کے دوران انتظامیہ کی جانب سے سماج وفلاحی خدمات کے لئے اسکول قیام کرنے کا ارادہ ظاہر کیاجاتا ہے مگراسکول کے قیام کے بعد جب ڈونیشن اور من مانی فیس اولیائے طلبہ سے وصولی جاتی ہے تب متعلقہ محکموں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ من مانی کے مرتکب اسکولس پر اپنا شکنجہ کسیں۔

TOPPOPULARRECENT