Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / خانگی اسکولس میں ڈونیشن کلچر، حکومت کے احکامات کی خلاف ورزی

خانگی اسکولس میں ڈونیشن کلچر، حکومت کے احکامات کی خلاف ورزی

بغیر رسید کے رقم کی طلبی، محکمہ تعلیمات کی سخت کارروائی کی تیاری

حیدرآباد۔26فروری(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے خانگی اسکولوں میں فروغ پا رہے ڈونیشن کلچرکے خاتمہ کیلئے حکومت کی جانب سے داخلہ فیس کے لئے 5000 روپئے کی حد متعین کئے جانے کے بعد اب اسکول انتظامیہ مختلف طریقوں کو اختیار کرتے ہوئے لاکھوں روپئے وصول کر رہے ہیں۔ اسکول انتظامیہ کو 5000روپئے سے زیادہ داخلہ فیس وصول نہ کرنے کی واضح ہدایات کی اجرائی کے بعد اسکول کے ذمہ داروں نے خانگی پروفیشنل کالجس کے طرز پر بغیر رسید کے ڈونیشن طلب کرنا شروع کردیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ تعلیم کو اس سلسلہ میں متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں اور محکمہ تعلیم کی جانب سے ان شکایات پر کاروائی کے متعلق غور کیا جا رہا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاقوں میں چلائے جانے والے خانگی و کارپوریٹ اسکول جو داخلہ کے لئے 10000تا ایک لاکھ روپئے وصول کرتے ہیں جس میں تعلیمی فیس بھی شامل ہوتی ہے ان اسکولو ںکو داخلہ کیلئے صرف 5ہزار روپئے وصول کرنے اور معینہ فیس سے زائد کوئی رقومات وصول نہ کرنے کی ہدایات دیئے جانے کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس سے نکلنے کے لئے خانگی اسکولوں کے ذمہ داروںنے بغیر رسید ڈونیشن کلچر کو عام کرنا شروع کردیا ہے اور 5ہزار روپئے کے رسائد کے علاوہ تعلیمی فیس کے رسائد حوالہ کئے جا رہے ہیں جبکہ مابقی وصول کی جانے والی رقومات کے متعلق کوئی رسید نہیں دی جا رہی ہے اور اولیائے طلبہ کو یہ کہا جانے لگا ہے نشستیں موجود نہ ہونے کے سبب ان کے اسکولو ں میں بلڈنگ فنڈ اور دیگر طلبہ کی امداد کیلئے یہ اضافی ڈونیشن حاصل کیا جا رہا ہے ۔ اتنا ہی نہیں بعض اسکولوں میں تو یہ تک کہا جا رہا ہے کہ اسکولوں پر قوانین مسلط کرنے کا حکومت کو اختیار نہیں ہے اسی لئے داخلہ کے خواہشمندوں کو حکومت کے بجائے اسکول کے قوانین کو ماننا پڑے گا بصورت دیگر انہیں داخلہ نہیں دیا جائے گا۔ شہر میں موجود کئی اسکولوں میں وصول کی جارہی بے تحاشہ فیس کے خلاف اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی مہم جاری ہے اور اس مہم کے دوران حکومت نے تمام مسلمہ اسکولوں کو داخلہ کے موقع پر 5ہزار روپئے سے زیادہ نہ لینے کی ہدایت دیتے ہوئے احکام جاری کئے ہیں لیکن ان احکامات پر عدم عمل آوری کے سبب اولیائے طلبہ میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے بتایا کہ جس کسی اسکول میں داخلہ کیلئے ڈونیشن طلب کیاجائے اس کے خلاف اولیائے طلبہ اور سرپرست راست ضلع ایجوکیشنل آفیسر سے رابطہ قائم کرتے ہوئے شکایت کر سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT