Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / خانگی اسکول فیس کو باقاعدہ بنانے حکومت کی پیشرفت

خانگی اسکول فیس کو باقاعدہ بنانے حکومت کی پیشرفت

چیف منسٹر کو رپورٹ کی پیشکشی ، اسکول انتظامیوں اور ذمہ داروں میں ہلچل
حیدرآباد۔25مئی (سیاست نیوز) محکمہ تعلیم تلنگانہ کی جانب سے ریاست کے خانگی اسکولو ںمیں فیس کو باقاعدہ بنانے کے لئے تیار کردہ رپورٹ چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کو تفویض کئے جانے کی اطلاع عام ہوتے ہی ریاست بھر کے خانگی اسکولوں کے ذمہ دارو ں اور ان کی تنظیموں میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ڈسٹرکٹ فیس ریگولیٹری اتھاریٹی کی رپورٹ یکطرفہ ہے اور اس رپورٹ کی تیاری کے دوران ریاست کے خانگی اسکولوں کے مسائل کا جائزہ نہیں لیا گیا بلکہ انہیں نظر انداز کرتے ہوئے رپورٹ تیار کی گئی ہے اور اس رپورٹ پر من و عن عمل آوری کی صورت میں خانگی اسکول انتظامیہ مسائل کا شکار بن سکتے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے طلب کردہ رپورٹ کی تیاری کے دوران محکمہ تعلیم نے بیشتر خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں کی رائے حاصل کی ہے لیکن اس کے باوجود چند اسکول کے ذمہ داروں نے اس عمل سے خود کو دور رکھا اور اب یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ان سے مشاورت نہیں کی گئی ہے۔محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کے مطابق حکومت کی جانب سے خانگی اسکولوں میں فیس کو باقاعدہ بنانے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے تحت گذشتہ سال ہی ضلع واری اساس پر رپورٹ تیار کرتے ہوئے پیش کرنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی اور محکمہ تعلیم کی جانب سے مختلف امور کا جائزہ لینے اور حالات سے آگہی حاصل کرنے کے بعد رپورٹ تیار کی گئی اور اس رپورٹ پر جاریہ تعلیمی سال سے ہی عمل آوری کو ممکن بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور توقع ہے کہ بیشتر خانگی اسکول جو محکمہ تعلیم کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کی حمایت کرتے ہیں وہ اس سلسلہ میں فوری رضامندی ظاہر کریں گے۔بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت نے اسکولوں میں من مانی فیس کی وصولی کے سلسلہ کو روکنے ضلع واری اساس پر کمیٹی کی تشکیل اور اس کمیٹی کے ذریعہ اسکولوں کی فیس کو باقاعدہ بنانے کے عمل کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کمیٹیوں کی نگرانی ڈائریکٹر ایجوکیشن کریں گے۔حکومت کو موصولہ رپورٹ کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ رپورٹ تیار کرنے والی کمیٹی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ریاست کے شہری علاقوںمیں چلائے جانے والے خانگی اسکولو ںمیں من مانی فیس وصولی کی شکایت عام ہوتی جا رہی ہے اور حکومت کو ان شکایات کے ازالہ کے لئے فوری اقدامات کرتے ہوئے ریگولیٹری کمیٹی کی تشکیل ضلع واری اساس پر عمل میں لانی چاہئے اور حصول عمل کوہر کسی کیلئے قابل دسترس بنانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔خانگی اسکولوں کے ذمہ دارو ںکا کہنا ہے کہ متوسط اسکولوں کو اس عمل میں کس زمرہ میں رکھا جائے گا اس کی وضاحت کی جانی چاہئے کیونکہ من مانی فیس کی وصولی کا مسئلہ اور ہر سال فیس میں کئے جانے والے اضافہ کے مسائل کارپوریٹ طرزپر چلائے جانے والے اسکولوں وادارہ جات کے مسائل ہیں لیکن اس کا شکار متوسط اسکولوں کو بنایاجائے گا جبکہ کارپوریٹ طرز پر چلائی جانے والے اسکولوں کو نظر انداز کئے جانے کا خدشہ ہے اسی لئے حکومت خانگی اسکول انتظامیہ کے ذمہ داروں سے مشاورت کے بغیر ایسی کسی پالیسی کے متعلق فیصلہ نہ کرے۔

TOPPOPULARRECENT