Wednesday , August 23 2017
Home / جرائم و حادثات / خانگی اسکول کی لاپرواہی سے کمسن زینب لفٹ میں کچلی گئی

خانگی اسکول کی لاپرواہی سے کمسن زینب لفٹ میں کچلی گئی

متوفی طالبہ کے ارکان خاندان کا احتجاج، اسکول مہربند، پرنسپال ، ٹیچر گرفتار
حیدرآباد ۔ 17 ۔ نومبر (سیاست نیوز) دلسکھ نگر کے ایک خانگی اسکول میں آج پیش آئے ایک انتہائی المناک حادثہ میں ایک چار سالہ لڑکی لفٹ میں اس وقت کچلی گئی جب اس کا سر لفٹ کے دروازہ میں پھنس گیا، جس کے فوری بعد اسکول کے پرنسپال شالینی اور ٹیچر سروجا کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس خانگی اسکول  انتظامیہ کا زونل انچارج ستیش واقعہ کے فوری بعد فرار ہوگیا جس کی تلاش جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق رین بازار یاقوت پورہ ایک ساکن سید اعجاز مسٹر حسین جعفری اور مسرز تحسین حسین جعفری  کی 4 سالہ بیٹی سیدہ زینب فاطمہ ملک پیٹ ریونیو بورڈ کالونی میں واقع سری چیتنیہ انٹرنیشنل اسکول اسٹار کڈس میں زیر تعلیم تھی۔ یہ واقعہ آج صبح 9.15 پیش آیا جس کے بعد نہ صرف غم زدہ خاندان کے ارکان بلکہ دیگر طلبہ کے والدین اور مقامی عوام نے سخت احتجاج کا آغاز کردیا۔ ڈپٹی کمشنر پولیس (ایسٹ زون) اے رویندر نے پی ٹی آئی سے کہا کہ ’’اسکول پرنسپال شالینی اور ٹیچر سروجا کو غفلت و لاپرواہی کے تحت گرفتار کرلیا گیا ہے‘‘۔ ڈی سی پی نے مزید کہا کہ متوفی لڑکی کے والدین کی شکایت پر اسکول انتظامیہ ، پرنسپال اور ٹیچر کے خلاف ہندوستانی تعزیری ضابطہ کی دفعہ 304-A کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔ پرنسپال اور ٹیچر گرفتار کئے جاچکے ہیں ۔ 4 سالہ زینب کی موت کا سبب بننے والا یہ المناک حادثہ اس وقت پیش آیا جب زینب دیگر 7 طلبہ اور ایک ٹیچر کے ساتھ گراؤنڈ فلور سے تیسری منزل پر جانے والی لفٹ میں داخل ہوئی تھی۔ ملک پیٹ کے انسپکٹر اے گنگا ریڈی نے کہا کہ ’’لفٹ میں طلبہ جگہ کیلئے ایک دوسرے کو ڈھکیل رہے تھے اور ایک دوسرے کے بیاگس کھینچ رہے تھے، اس درمیان زینب کا ہاتھ لفٹ کے آہنی جال سے بنے ہوئے دروازہ میں پھنس گیا ، اس دوران کسی نے اوپر جانے کیلئے لفٹ کا بٹن دبادیا اور لفٹ چلنا شروع ہوگیا، جس کے نتیجہ میں کمسن زینب کا ایک ہاتھ اور سر لفٹ اور پہلے فلور کے چھت کے درمیان کچلا گیا‘‘۔ واقعہ کے فوری بعد پولیس نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشنل آفیسر (ڈی ای او) کو طلب کرلیا اور واقعہ کے بارے میں تفصیلات سے واقفیت حاصل کی اور اسکول انتظامیہ کی لاپرواہی سے کمسن طلبہ کی جانوں کو لاحق خطرات سے محفوظ رکھنے کیلئے اقدامات کی ہدایت کی۔  بتایا جاتا ہے کہ غیرقانونی طور پر چلائے جارہے اس اسکول کو محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے آج مہر بند کردیا اور اسکول میں تقریباً 150 طلبہ زیرتعلیم تھے جنہیں دیگر اسکولوں میں منتقل کیا جارہا ہے ۔ اس سلسلے میں چائیلڈ رائیٹس پروٹیکشن کمیشن نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور حیدرآباد ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر کو نوٹس جاری کی ۔ کمیشن کے رکن مسٹر اچوت راؤ نے بتایا کہ لڑکی کی موت اسکول انتظامیہ کی لاپرواہی سے واقع ہوئی ہے اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی جارہی ہے ۔ ڈی سی پی نے کہا کہ لڑکی کی نعش کو بغرض پوسٹ مارٹم عثمانیہ دواخانہ کے مردہ خانہ کو منتقل کردیا گیا ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ لڑکی کے والد اعجاز حسین ملازمت کیلئے دبئی میں مقیم ہے جنہیں اس واقعہ کی اطلاع دی گئی ہے۔ قبل ازیں لڑکی اچانک لفٹ میں پھنس جانے کے واقعہ کے بعد اسکول انتظامیہ نے لڑکی کے نانا کو فون پر اس بات کی اطلاع دی اور وہ کچھ ہی دیر میں اپنی بیٹی تحسین جعفری کے ہمراہ وہاں پہونچ گئے ۔ اسکول انتظامیہ نے تڑپتی ہوئی لڑکی پھنسی ہوئی لفٹ سے باہر نکالنے کے بجائے وہ خاموش تماشائی بنے رہے جبکہ لڑکی کی ماں اپنی بیٹی کو بچانے کیلئے مدد طلب کرتی رہی ۔ اس واقعہ کے بعد اسکول میں اچانک کشیدگی پیدا ہوگئی اور ملک پیٹ پولیس کی ٹیم وہاں پہونچ کر لفٹ میکانک کو طلب کرکے پھنسی ہوئی زینب فاطمہ کو باہر نکالا ۔

TOPPOPULARRECENT