Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / خانگی تعلیمی اداروں کی دھوکہ دہی اور من مانی پر قابو پانے حکومت ناکام

خانگی تعلیمی اداروں کی دھوکہ دہی اور من مانی پر قابو پانے حکومت ناکام

تشہیر سے عوام گمراہی کا شکار ، بھاری فیس وصولی ، جی کشن ریڈی کا اسمبلی میں بیان
حیدرآباد۔/23مارچ، ( سیاست نیوز) بی جے پی رکن ڈاکٹر لکشمن نے حکومت کی جانب سے خانگی تعلیمی اداروں کی دھوکہ دہی اور من مانی پر قابو پانے میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔ اسمبلی میں تعلیم کے مطالبات زر پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ حکومت کی عدم توجہ اور عہدیداروں کی غفلت کے نتیجہ میں خانگی ادارے عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے منظورہ نشستوں کی تعداد کے برخلاف زائد نشستوں پر داخلے دیئے جارہے ہیں اور اخبارات میں بڑے پیمانے پر تشہیر کے ذریعہ عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھاری فیس کی وصولی خانگی تعلیمی اداروں میں عام ہوچکی ہے اور حکومت ان پر قابو پانے سے قاصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں اگر بہتر تعلیم کا انتظام ہوتا تو عوام خانگی اداروں سے رجوع ہونے پر مجبور نہ ہوتے۔ انہوں نے بعض تعلیمی اداروں کی جانب سے اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس طرح کے اداروں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت بھی عوام کو بہتر تعلیم کی فراہمی کے سلسلہ میں مختلف اسکیمات رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی اسکیمات کا تلنگانہ میں موثر استعمال ہونا چاہیئے تاکہ زیادہ سے زیادہ خاندانوں کو فائدہ پہنچے ۔ بی جے پی فلور لیڈر کشن ریڈی نے تعلیم، اعلیٰ تعلیم، صحت اور روزگار کی فراہمی کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے موثر قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد حکومت کی عدم توجہی کے باعث عوام کو مایوسی ہوئی ہے۔ کشن ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ جدوجہد کے دوران عوام کو یہ امید تھی کہ حکومت اپنے وعدوں کی تکمیل کرے گی اور ہر شعبہ میں عوام کی مشکلات دور ہوں گی لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے عوام سے کئے گئے وعدوں کو فراموش کردیا ہے۔ انہوں نے بہتر تعلیمی پالیسی کے ذریعہ کے جی تا پی جی مفت تعلیم کے وعدہ کو عملی جامہ پہنانے کی مانگ کی۔ کشن ریڈی نے نریندر مودی حکومت کی مختلف پالیسیوں اور ریاستوں کو دی جارہی امداد کا بھی حوالہ دیا۔ کانگریس کے ومشی چندر ریڈی نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عوامی صحت کے شعبہ کو نظرانداز کردیا ہے جس کے نتیجہ میں امراض میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنہرا تلنگانہ اب وبائی تلنگانہ میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ومشی چندرریڈی نے بتایا کہ نیشنل ہیلت پالیسی کے تحت ریاست میں پرائمری ہیلت سنٹرس کی جو تعداد ہونی چاہیئے اس کے مطابق مراکز موجود نہیں ہیں۔ ریاست میں پرائمری ہیلت سنٹرس کی تعداد صرف 876 ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل اینڈ ہیلت ڈپارٹمنٹ میں جملہ جائیدادوں کی تعداد 13000 ہے لیکن ان میں صرف 4000 کا عملہ کام کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد سے ایک بھی نیا پرائمری ہیلت سنٹر قائم نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹر جے گیتا ریڈی نے صنعتی شعبہ میں ترقی سے متعلق حکومت کے دعوؤں کو مسترد کردیا اور کہا کہ 2007میں آندھرا پردیش کو ملک میں صنعتی شعبہ میں سرمایہ کاری کیلئے موزوں ریاست کا درجہ حاصل ہوچکا تھا۔ انہوں نے میڈیکل اینڈ ہیلت اور دیگر شعبہ جات کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کی مانگ کی۔ تلگودیشم کے آر کرشنیا نے کہا کہ تمام طبقات کی مذہبی عبادت گاہوں اور اس کے تحت موجود اراضیات کے تحفظ کے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محکمہ جات میں مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات میں تاخیر سے نوجوانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ کرشنیا نے محکمہ صحت اور دیگر محکمہ جات کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے وقت نوجوانوں سے روزگار کا جو وعدہ کیا گیا تھا اس پر عمل آوری کی جائے۔ انہوں نے محکمہ لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس ڈپارٹمنٹ کا نام روزگار سے جڑا ہے لیکن وہاں ایک شخص کو بھی روزگار فراہم نہیں کیا جاتا۔ ٹی آر ایس کے بی کشور اور راجندر ریڈی نے بھی مباحث میں حصہ لیا۔

TOPPOPULARRECENT