Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / خانگی دواخانوں میں آروگیہ شری کے تحت علاج بند ہونے کا امکان

خانگی دواخانوں میں آروگیہ شری کے تحت علاج بند ہونے کا امکان

حکومت کی جانب سے بقایا جات ادا کرنے میں تاخیر پر 12 سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کا ہنگامی اجلاس
حیدرآباد 15 نومبر (سیاست نیوز) خانگی دواخانوں کو آروگیہ شری کے تحت بقایہ جات کی ادائیگی اور مسئلہ کی یکسوئی 21 نومبر تک نہ ہونے کی صورت میں خانگی دواخانوں کی جانب سے آروگیہ شری کے تحت غریب مریضوں کا داخلہ بند کردیا جائے گا۔ شہر میں موجود تقریباً 12 سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کے ذمہ داروں نے 15 نومبر سے آروگیہ شری کے تحت مریضوں کو شریک کرنا بند کردینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن گزشتہ یوم سی ای او آروگیہ شری کے ہمراہ بیشتر دواخانوں کے ذمہ داران کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اس بات کی یقین دہانی کروائی گئی کہ 21 نومبر تک دواخانوں کے مسائل و بقایہ جات کے معاملہ کی یکسوئی یقینی بنائی جائے گی۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی موجودگی میں 21 نومبر کو دواخانوں کے ذمہ داران کے ہمراہ یہ اجلاس منعقد ہوگا اور اس اجلاس میں آروگیہ شری اسکیم کے تحت غریب مریضوں کے علاج کے متعلق فیصلہ کو قطعیت دی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے آروگیہ شری اسکیم کے تحت علاج کروانے والے مریضوں کے اخراجات کی ادائیگی میں حکومت کی جانب سے اختیار کردہ تساہل سے برہم دواخانوں کے انتظامیوں نے مریضوں کو شریک کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس سلسلہ میں تلنگانہ سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس اسوسی ایشن کے ذمہ داران نے 15 نومبر تک کی مہلت فراہم کی تھی جس پر چیف ایگزیکٹیو آفیسر آروگیہ شری اسکیم نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے 21 نومبر تک مہلت میں توسیع کروانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آروگیہ شری اسکیم کے تحت سوپر اسپیشالیٹی دواخانوں میں علاج کروانے والے مریضوں کی تعداد میں ہورہے اضافہ اور حکومت کی جانب سے اخراجات کی عدم ادائیگی کے سبب ہاسپٹلس انتظامیہ کا یہ کہنا ہے کہ اُن کے اخراجات کی بازادائیگی میں حکومت کی تاخیر کے سبب دواخانوں پر مالی بوجھ عائد ہورہا ہے اور بیشتر دواخانوں مالی بحران کی صورتحال کا سامنا کررہے ہیں۔ اسی لئے بحالت مجبوری دواخانوں کو اس بات کا فیصلہ کرنا پڑا ہے کہ حکومت اگر مسئلہ کو حل نہیں کرتی ہے تو وہ علاج و معالجہ کا سلسلہ ترک کریں گے۔ سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کی جانب سے کئے گئے اس فیصلہ کی مختلف گوشوں سے شدید مخالفت بھی کی جارہی تھی اور یہ کہا جارہا تھا کہ ڈاکٹرس مریضوں کے علاج سے انکار کرتے ہوئے پیشہ کی حرمت کو پامال کررہے ہیں لیکن ڈاکٹرس کا یہ استدلال ہے کہ حکومت نے جب علاج کے اخراجات کی ادائیگی کا علاج کیا ہے تو اُس میں تاخیر دواخانوں کے لئے تکلیف کا باعث بن رہی ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب 21 نومبر کو چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ سے ملاقات اور مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے تو ایسی صورت میں ریاست کے بیشتر سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس آروگیہ شری کے تحت دواخانہ سے رجوع ہونے والے مریضوں کو شریک نہ کرنے کے فیصلہ پر اب بھی قائم ہیں۔

TOPPOPULARRECENT