Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / خانگی عمارتوں میں سرکاری اسکولوں کے کرایوں میں دھاندلیاں

خانگی عمارتوں میں سرکاری اسکولوں کے کرایوں میں دھاندلیاں

عاجلانہ تحقیقات ناگزیر ، ضلع کلکٹر کو فوری توجہ دینے کی ضرورت
حیدرآباد ۔ 10مئی (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں خانگی عمارتوں کو کرائے پر حاصل کرتے ہوئے چلائے جانے والے سرکاری اسکولوں کے کرایوں کی ادائیگی میں ہونے والی دھاندلیوں کی عاجلانہ تحقیقات نا گزیر ہے لیکن اس سلسلہ میں کسی عہدیدار کو دلچسپی نہیں ہے۔ ضلع کلکٹر اس مسئلہ پر توجہ مبذول کرے تو ممکن ہے کہ مالکین جائیداد کے مسائل حل ہونے لگیں۔شہر حیدرآباد کے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کے کرائے کی اجرائی کے معاملات میں ہونے والی بدعنوانیوں کے خاتمہ کے لئے ضروری ہے کہ حکومت بالخصوص ضلع انتظامیہ محکمہ تعلیم کے متعلقہ شعبہ میں خدمات انجام دے رہے عہدیداروں کی تحقیقات کروائے۔اسکول عمارتوں کے مالکین کو یکمشت سالانہ کرایوں کی اجرائی کے سبب یہ دھاندلیوں کی گنجائش پیدا ہو رہی ہے اگر محکمہ تعلیم کی جانب سے ہر ماہ تنخواہوں کی طرح کرایوں کی اجرائی بھی یقینی بنائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں ان بدعنوانیوں کے خاتمہ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ شہر حیدرآباد میں جملہ 107پرائمری اسکول کرائے کی عمارتوں میں چلائے جا رہے ہیں جبکہ 25ہائی اسکول کرائے کی عمارتوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان اسکولوں کے مالکین کو اپنی عمارت کا کرایہ حاصل کرنے کے لئے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت و محکمہ تعلیم کی جانب سے کرائے ادا کرنے کے مد میں جو مالیہ فراہم کیا جا رہا ہے اس کی تفصیلات کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کے کرائے ادا کرنے میں کوئی تکلیف نہیں ہے لیکن محکمہ تعلیم کے متعلقہ شعبہ میں موجود بعض ما تحت عہدیدار اپنی حرکتوں کے ذریعہ حکومت کو بدنام کرنے میں مصروف ہیں۔ قانون حق آگہی کے تحت حاصل کردہ معلومات کے مطابق ریاست تلنگانہ میںخانگی عمارتوں میں خدمات انجام دے رہے سرکاری ہائی  اسکولوں کی عمارتوں کے کرائے ادا کرنے کیلئے  جملہ 1کروڑ 45لاکھ 4ہزار340روپئے درکار ہیں جبکہ پرائمری اسکولوں کے کرایوں کی ادا ئیگی کیلئے 1کروڑ 64لاکھ3ہزار 136روپئے درکار ہیں۔ضلع حیدرآباد میں ان کرایوں کی ادائیگی کیلئے پرائمری اسکول کیلئے 1کروڑ 27لاکھ 85ہزار 688روپئے درکار ہیں جبکہ ہائی اسکول کیلئے 1کروڑ 27لاکھ 76ہزار 928روپئے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی سال 2015-16کے دوران حیدرآباد کی پرائمری سرکاری اسکولوں کی عمارات کے کرائے کی ادائیگی کیلئے 1کروڑ 50لاکھ 37ہزار روپئے جاری کئے گئے ہیں۔ جبکہ ہائی اسکولوں کی عمارتوں کے کرائے کیلئے 1کروڑ 98لاکھ 67ہزار روپئے جاری کئے گئے ہیں۔اس کے باوجود بھی کئی جائیداد مالکین کو کرائے کی عدم وصولی کی شکایات ہیں جن کا حل کیا جانا ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT