Tuesday , August 22 2017
Home / اضلاع کی خبریں / خانگی مدارس کے مسائل کی یکسوئی کا مطالبہ

خانگی مدارس کے مسائل کی یکسوئی کا مطالبہ

مسلمہ اسکولس کے عہدیداران کی مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل سے نمائندگی
کریم نگر /10 ستمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) تلنگانہ ریاست میں کچھ عرصہ سے خانگی اسکولس مسائل کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہیں ۔ ان کی یکسوئی کیلئے اقدامات کی کوشش کی جانے کی ضرورت ہے ۔ خانگی مسلمہ اسکولس کے صدر اور سکریٹری نے مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل اوپیندرہ کوٹیشور راؤ سے ملاقات کرتے ہوئے درخواست کی اور ایک مکتوب حوالے کیا ۔ انہوں نے وزیر کو واقف کروایا کہ تلنگانہ اضلاع میں دس ہزار سے زائد خانگی مسلمہ اسکولس ہیں ۔ اس میں تقریباً 30 لاکھ طلباء و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ سابقہ حکومت نے خانگی اسکولس کے قیام کے سلسلہ میں بہت کچھ سہولتیں فراہم کیں تھیں ۔ فی الحال خانگی اسکولس کو نقصان کا خدشہ لاحق ہوچکا ہے ۔ اس لئے کہ موجودہ حکومت کی پالیسی میں کافی حد تک تبدیلی پیدا کی گئی ہے ۔ خانگی اسکولس میں کھیل کا میدان ہونا لازمی قرار دیاگیا ہے ۔ اس پر دوبارہ غور کئے جانے کی ضرورت ہے۔ 80 فیصد اسکولس شہری مقامات پر ہیں جس کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے حکومت کو چاہئے کہ کھیل کے میدان کی شرط منسوخ کردی جائے ۔ ہر حال میں ٹرینڈ ٹیچرس کا تقرر کیا جائے ۔ اس شرط سے مستثنی قرار دیا جائے ۔ قانونی تعلیم کا حصول ہر ایک کا بنیادی حق ہے اور اس کی عمل آوری میں لاپرواہی ہو رہی ہے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے تعلیمی شعبہ میں لائی جارہے اصلاحی اقدامات کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں ۔ خانگی اسکولس میں ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی ، سماجی طبقات کو دوپہر کے کھانے کی اسکیم سے استفادہ کا موقع فراہم کریں اور خانگی اسکولس کو درپیش سبھی مسائل کی فوری یکسوئی کریں ۔ تلنگانہ ریاست کے منظورہ اسکولس انتظامیہ اسوسی ایشن کے زیر اہتمام مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے انہوں نے خواہش کی ۔

TOPPOPULARRECENT