Thursday , April 27 2017
Home / مضامین / خبردار، ہشیار!! ڈاٹا برورکرس سے بچیئے نجی تفصیلات کا سرقہ

خبردار، ہشیار!! ڈاٹا برورکرس سے بچیئے نجی تفصیلات کا سرقہ

فیض محمد اصغر
ہندوستان میں زندگی کے ہر شعبہ کو آدھار کارڈ سے جوڑے جانے کے بعد کوئی بھی کسی کے بھی بارے میں تمام تفصیلات بآسانی حاصل کرسکتاہے۔ اس کے لئے اسے ہزاروں یا لاکھوں روپے دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ کسی شخص کی عمر، پیشہ اس کے گھر کا پتہ، رنگ، قد، ای میل اڈریس، اس نے کس بینک یا کونسی بینکوں میں اکاؤنٹس رکھا ہے اس کے پاس کونسی بینکوں کے کریڈٹ کارڈس ہیں اور اس نے آن لائن کن چیزوں کی کتنے میں خریداری کی ہے جیسی معلومات حاصل کرناچاہتے ہیں تو اس کے لئے آپ کو دوڑ دھوپ کرنے یا کسی جاسوسی ایجنسی کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ڈاٹا بروکرس، (لوگوں کے شخصی ڈاٹا فروخت کرنے والے دلال) یہ تمام تفصیلات آپ کو فراہم کردیں گے۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ ہمارے حد سے زیادہ اسمارٹ وزیر اعظم نریندر مودی نے 1000 اور 500 کی کرنسی نوٹوں پر پابندی عائد کرکے ملک میں ایک عجیب و غریب صورتحال پیدا کردی اس کے بعد سے ڈاٹا بروکرس کا کام اس قدر آسان ہوگیا ہے کہ وہ اپنے دفتر میں کمپیوٹر سسٹم پر بیٹھے بیٹھے بڑی آسانی کے ساتھ کسی کی بھی نجی تفصیلات حاصل کرکے اسے سرکاری ایجنسیوں بشمول انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ، محکمہ انکم ٹیکس، کسٹمز اور پولیس کے علاوہ اس کے سائبر جرائم سے نمٹنے والی ٹیموں کو فراہم کرسکتے ہیں۔ حال ہی میں ہمیں انٹرنینٹ پر مطالعہ کے دوران لوگوں کے شخصی معلومات فروخت کئے جانے کے بارے میں جانکاری حاصل ہوئی جس کے ساتھ ہی ہم نے اس معاملہ کی گہرائی میں جانے کا فیصلہ کیا۔ ہمارا یہ فیصلہ اس لئے درست ثابت ہوا کہ کئی ایک تلخ حقائق کا انکشاف ہوا اور یہ بات واضح ہوگئی کہ ہم تمام ہندوستانیوں کی باضابطہ نگرانی بلکہ جاسوسی کی جارہی ہے اور اس جاسوسی میں آدھار کارڈ اہم ذریعہ بناہوا ہے۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو کسی پر نظر رکھنا اس کے بارے میں خفیہ طور پر معلومات حاصل کرنا قانوناً اور اخلاقاً ایک جرم ہی ہے، لیکن ہمارے وطن عزیز میں یہ جرم بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ کیا جارہا ہے اور ڈاٹا بروکرس مختلف افراد اور ایجنسیوں کو کسی کی بھی عمر، پتہ، پیشہ ، وہ شادی شدہ ہے یا غیر شادی شدہ اور آمدنی سے متعلق تفصیلات بنا کسی پریشانی اور ہچکچاہٹ کے فروخت کررہے ہیں۔ یہی نہیں وہ یہ بھی بتا رہے ہیں کہ کس نے آن لائن کیا خریدی کی ہے۔ ان تمام تفصیلات کی قیمت صرف ایک روپے وصول کی جارہی ہے۔ اگر ان اہم تفصیلات کی قیمت کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ملک میں ایک روپیہ سے صرف خط غربت سے نیچے زندگی گذارنے والے یعنی  انتہائی غربت کا شکار خاندانوں کے بچے ایک غیر معیاری چاکلیٹ یا چیونگم خرید سکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈاٹا بروکرس نامی یہ کمپنیاں آن لائن اپنی خدمات فراہم کررہی ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اکنامک ٹائمز نے اس ڈاٹا کے خریدار کی شکل میں ان ڈاٹا بروکرس سے رجوع ہوا جہاں اسے صرف 10 تا 15 ہزار روپے کے عوض بنگلورو، حیدرآباد اور دہلی میں ایک لاکھ سے زائد افراد کے پرسنل ڈاٹا (شخصی تفصیلات) فراہم کی گئی۔ ان ڈاٹا بروکرس کی رسائی کا آپ اور ہم اندازہ نہیں لگاسکتے اس لئے کہ ان کے پاس غریب متوسط دولت مند اور انتہائی متمول افراد سے لے کر تنخواہ پانے والے ملازمین کریڈٹ کارڈس کے حامل مرد و خواتین، کار مالکین کی نجی تفصیلات موجود ہیں جو صرف ایک روپے میں چاہے وہ ہندوستان کے کسی بھی علاقہ میں کیوں نہ رہیں وہ کسی کو بھی فراہم کرسکتے ہیں۔ بعض بروکرس تو پرسنل ڈاٹا پر مشتمل EXCEL SHEET تک مفت بھیج رہے ہیں۔ ان ڈاٹا بروکرس سے زیادہ تر ایسے مردو خواتین کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں مختلف بینکوں میں جن کے اکاؤنٹس ہیں جو کریڈٹ کارڈس بھی رکھتے ہوں۔ مثال کے طور پر دہلی کے قریب سے کام کرنے والے ایک ڈاٹا بروکر نے ای ٹی کو ایکسس بینک اور ایچ ڈی ایف سی کے اکاؤنٹ ہولڈرس بلکہ کریڈٹ کارڈس حاصل کرنے والے ایکسو دو سو نہیں بلکہ 3000 لوگوں کی نجی تفصیلات صرف 1000 روپے میں فراہم کردیئے اور اس نے ایک نمونہ کے طور پر یہ تفصیلات فراہم کئے ہیں۔ حیدرآباد، بنگلورو اور دوسرے مقامات کے بعض پیشہ وارانہ ماہرین کو ڈاٹا بروکرس کی جانب سے اپنی نجی تفصیلات فروخت کئے جانے کا علم ہوا تو وہ سکتہ میں آگئے اور دریافت کرنے لگے کہ آخر کس نے ان ڈاٹا بروکرس کو یہ اختیار دیا کہ وہ بناء اجازت اور مرضی کے لوگوں کی نجی تفصیلات فروخت کرتے پھریں۔ حد تو یہ ہے کہ یہ ڈاٹا برورکرس اپنے صارفین کو نہ صرف دوسرے لوگوں کی نجی تفصیلات فراہم کررہے ہیں بلکہ یہ بھی بتا رہے ہیں کہ لوگوں کے پاس دبیٹ، کریڈٹ یا پریمیم کونسا کارڈ ہے۔ ایک ڈاٹا بروکر کے حوالے سے اکنامک ٹائمز کا کہنا تھا کہ دہلی، نیشنل کیپٹل ریجن (قومی دارالحکومت کا علاقہ NCR اور بنگلور سے تعلق رکھنے والے تقریباً دو لاکھ افراد کی نجی تفصیلات صرف 7000 روپے میں دستیاب کروائی جاسکتی ہے۔ آپ کو بتادیں کہ اگر آپ آن لائن ایک معمولی گھڑی بھی خریدیں گے تو اس خریداری کی تفصیلات فوری ڈیٹا بروکرس کے پاس پہنچ جائے گی۔
ڈاٹا برورکرس کس طرح ہندوستانی شہریوں کے معلومات فروخت کررہے ہیں اس کا اندازہ حال ہی میں پیش آئے ایک واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ بنگلور کے رہنے والے ایک شخص نے eBay پر ایک گیس اسٹو کی خریدی کی ڈاٹا بروکرس نے اس خریداری کے بارے میں بھی معلومات فراہم کردی۔ اس طرح بنگلورو کی رہنے والی ایک خاتون نے امیزان پر کچھ سامان خریدا اس نے امیزان سے جو کچھ بھی خریدا اس کی تفصیلات بھی ڈاٹا بروکروں نے فراہم کردی جس کے نتیجہ میں خاتون سکتہ میں آگئی اور سوال کرنے لگی کہ ان ڈاٹا بروکروں کو لوگوں کی زندگیوں میں جھانکنے کی اجازت آخر کس نے دی؟ اب تو امیزان جیسی کمپنی کو بھی حیرت ہونے لگی ہے کہ وہ اپنے صارفین (خریداروں) کے ڈاٹا سیکوریٹی اور پرائیویسی کا خاص خیال رکھتی ہے اس کے باوجود ڈاٹا بروکرس کی جانب سے خریداری کا انکشاف بڑی تشویش کی بات ہے۔ امیزان کے ذمہ داروں کا دعویٰ ہے کہ اس طرح کی اعتماد شکنی کے واقعات ان کے علم میں لائے جائیں تو وہ کسٹمرس کے ڈاٹا پروٹیکشن کے لئے سخت اقدامات کو یقینی بنائیں گے۔ ایکسس اور ایچ ڈی ایف سی بینکس کے ذمہ دار بھی کچھ اسی طرح کے خیالات ظاہر کرتے ہیں۔ بہرحال اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈاٹا کے تحفظ کے لئے سخت اقدامات کئے جانے کے باوجود ان ڈاٹا برورکرس کو لوگوں کی نجی تفصیلات کہاں سے حاصل ہو رہی ہیں؟ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ زیادہ تر ڈاٹا موبائل سرویس پرووائیڈرس کے ذریعہ فروخت کیا جارہا ہے اس کے علاوہ اسٹاکس اور بینکوں کے ایجنٹس، قرض دلانے والے ایجنٹس، کارڈیلروں وغیرہ سے حاصل کی جارہی ہیں۔ اگرچہ امریکہ میں ڈاٹا بروکرس کو کمپنیوں میں شمار کیا گیا ہے، لیکن ہندوستان میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا ڈاٹا بروکرس غیر قانونی کام نہیں کررہے ہیں کیونکہ کسی کی اجازت کے بناء اس کی تفصیلات کا انکشاف کرنا قانونی اور اخلاقی طور پر ایک جرم ہی ہے۔ ڈاٹا بروکنگ سے جڑے ایک سینئر عہدہ دار کے مطابق عالمی سطح پر فی الوقت یہ 200 ارب ڈالرس مالیتی صنعت ہے۔ ویسے بھی ہندوستان میں حالیہ عرصہ کے دوران مالیاتی دھوکہ دہی کے بے شمار واقعات پیش آچکے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا نے حال ہی میں مالیاتی دھوکہ دہی کے تقریباً 9000 مقدمات درج کروائے ہیں جس میں کریڈٹ کارڈ، اے ٹی ایم کارڈ، ڈیبٹ کارڈس اور انٹرنیٹ بینکنگ کے ذریعہ کی گئی دھوکہ دہی شامل ہے جبکہ 2015-16 میں مالیاتی دھوکہ دہی کے 16468 واقعات کے ضمن میں مقدمات درج کروائے گئے تھے اور یہ سب کچھ صارفین کے نجی ڈاٹا سے حاصل کردہ معلومات کی بناء پر کئے گئے ان حالات میں صارفین کو چاہئے کہ وہ فون پر آنے والے ایسے کالس کا جواب نہ دے جن میں آپ کے بینک اکاؤنٹس اور اے ٹی ایم کارڈ و دیگر کارڈس کی تفصیلات طلب کی جاتی ہوں۔ نوٹ بندی کے بعد تو عوام کو ایسے کالس وصول ہو رہے ہیں جس میں دھوکہ باز خود کو آر بی آئی عہدہ دار ظاہر کرتے ہوئے مختلف بہانوں سے اے ٹی ایم کارڈ کے کوڈ نمبرس اور بینک اکاونٹس نمبر وغیرہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ لاٹریوں کے بہانے بھی لوگوں کو لوٹا جارہا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT