Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / خدارا ! ایک اللہ ایک رسولؐ کی اُمت میں دراڑیں نہ ڈالیں

خدارا ! ایک اللہ ایک رسولؐ کی اُمت میں دراڑیں نہ ڈالیں

حیدرآباد۔26مئی (سیاست نیوز)   اترپردیش میں جہاں مسلکی اختلافات ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت کچھ زیادہ پائے جاتے ہیں وہاں انتخابات سے قبل ایسا ماحول تیار کیا جا رہا ہے کہ اگر مسلمان بہار کی طرح مسلم سیاستدانوں کے چنگل سے بچ جائے تو مسلک کے جال میں ضرور پھنس جائے۔بی جے پی ان ہتھیاروں کے ساتھ ذرائع ابلاغ کے ہتھیار کو بھی استعمال کر رہی ہے اور اتر پردیش میں بہار کے طرز پرعظیم اتحاد کو بننے سے روکنے کیلئے بہوجن سماج کو مکمل اکثریت کی پیش قیاسی کروائی جا رہی ہے تاکہ بہوجن سماج و دیگر سیکولر جماعتوں کا اتحاد نہ ہونے پائے اور مسلم ووٹ مسلک و سیاست کی نذر ہوجائیں ۔ مہاراشٹرا ‘ آسام اور بہار کے تجربات کو یکجا کرتے ہوئے فرقہ پرست طاقتیں اتر پردیش کی حکمت عملی تیار کر رہی ہیں ۔مسلمان اگر کلمہ کی بنیاد پر متحد ہوتے ہیں تو ان ناپاک عزائم کو کامیاب ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ملک میں مسلمانوں کا شیرازہ بکھیرنے کیلئے کی جا رہی سازشوں کا شکار بننے والوں کو حاصل سیاسی سرپرستی ان کیلئے ڈھال بنی ہوئی ہے جبکہ امت کے تمام گوشوں میں ان عناصر کے خلاف نفرت کی لہر پائی جاتی ہے جو فرقہ پرستوں کی سازشوں کا شکار بنتے ہوئے امت میں رخنہ اندازی کے مرتکب بن رہے ہیں۔

مسلمانوں کو مسلک کی بنیادوں پر تقسیم کرتے ہوئے انہیں خانوں میں بانٹنے کی کوشش کرنے والوں کے آلہ کار بننے والوں میں ایسے عناصر بھی شامل ہیں جو بی جے پی کی درپردہ سیاسی حلیف کھلے عام بہت اچھے تعلقات رکھتے ہیں بلکہ ان کے حق میںرائے دہندوں سے اپیل بھی کرتے ہیں۔ ہندستان میں مسلمانوں کے درمیان موجود بعض فروعی مسائل پر اختلافات کو ہوا دینے کیلئے جو سازشیں تیار کی گئی ہیں ان پر ’’ صوفی کانفرنس‘‘ کے نام پر عملی جامہ پہنایا گیا اور اس کیلئے ملک کی بیشتر ریاستوں میں موجود ایک مخصوص مکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کو مودی نواز گروہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ ریاست تلنگانہ سے جن لوگوں نے اس کانفرنس میں شرکت کی ان کا ہمیشہ ہی سیاسی تعلق ایک مخصوص سیاسی جماعت سے رہا جوکہ فی الحال مشکوک نظر آتی ہے۔ مقامی سیاسی جماعت کے حق میں ووٹ کی اپیل کرنے اور ان کے اداروں سے وابستہ افراد کی صوفی کانفرنس میں شرکت کے باوجود جماعت سے تعلقات کی برقراری اس بات کا ثبوت ہے کہ جن لوگوں نے اس کانفرنس میں شرکت کی وہ بھی دراصل ہدایت کے حصول کے بعد ہی گئے تھے ۔ ملک بھر میں اس کانفرنس کو ملت اسلامیہ میںدراڑ پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا

لیکن ان کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے حضرت مولانا توقیر رضا خان نے جو قدم اٹھایا اس کی ہر اس گوشہ کی جانب سے ستائش کی جا رہی ہے جو ملی اتحاد کیلئے سرگرداں ہے۔ اس کے بر عکس بعض افرادکی جانب سے ان کی شدت کے ساتھ مخالفت کرتے ہوئے انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے جن میں بیشتر وہی لوگ ہیں جو نریندر مودی کے صوفی درس سے متاثر ہیں۔ حضرت مولانا اسعد مدنی  ؒ کے سانحہ ارتحال کے بعد جمعیۃعلماء کے معاملات پر مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود اسعد مدنی کے درمیان شدید اختلافات رونما ہو گئے تھے لیکن ملک میں موجودہ سازشوں کے جال کے درمیان ان لوگوں نے اپنے اختلافات کو فراموش کرتے ہوئے ملت میں اتحاد کی کوششوں کو عملی جامہ پہنایا۔ ان حالات میں جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی ملک میں بسنے والے مسلمانوں میں اختلافات کو پروان چڑھاتے ہوئے اپنے مفادات حاصل کرنے میں مصروف ہے وہیں مسلم سیاسی جماعتیں بھی درپردہ ان کوششوں کو مستحکم کرنے لگی ہیں۔ اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں امیت شاہ اپنے بغل بچوں کے ہمراہ کامیابی حاصل کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں اور ان کے خوابوں کی تعبیر سیاسی و مذہبی منافرت پھیلانے والی طاقتیں پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل ’’ گائے کا گوشت یا بھارت ماتا کی جئے ‘‘ جیسے موضوعات پر ہنگامہ آرائی نہیں ہوگی بلکہ ہندستان کے حساس ترین مسئلہ یعنی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے مسئلہ پر ہندو مسلم اتحاد میں رخنہ ڈالا جائے گا اور اس مسئلہ کو عدالتی رسہ کشی کے باوجود عوام کے درمیان موضوع بحث وہی لوگ بنائیں گے جو اپنے بھائی کی تقریر کے متعلق سوال کو مقدمہ زیر دوراں ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے ٹال جاتے ہیں۔ مندر۔مسجد ‘ مسلک ‘ مذہبی منافرت کی سیاست کے ذریعہ بی جے پی اتر پردیش میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے اپنے تمام حلیفوں کو استعمال کر رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT