Sunday , June 25 2017
Home / مضامین / خدا توفیق دیتا ہے جنہیں وہ یہ سمجھتے ہیں

خدا توفیق دیتا ہے جنہیں وہ یہ سمجھتے ہیں

محمد مصطفیٰ علی سروری
ریاست تلنگانہ میں موسم گرما کی شدت کو ملحوظ رکھتے ہوئے حکومت نے 3 دن پہلے ہی گرمائی تعطیلات دینے کا 19 اپریل کو اعلان کردیا ۔ اسمارٹ فونس اور انٹرنیٹ کے سبب ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ جو خبریں اگلے دن کے اخبارات میں شائع ہونے والی ہے ، اس کا قبل از وقت ہی پتہ چل جاتا ہے ۔ ایسے ہی جب اسکول کو مقررہ وقت سے قبل ہی تعطیلات دینے کی اطلاع  ایک سرپرست کو ملی تو انہوں نے اخبار میں کام کرنے والے ایک شناسا سے دریافت کیا کہ وہ اس خبر کے بارے میں پتہ لگائے اور تصدیق کر کے انہیں اطلاع کرے ۔ خیر سے اخبار میں کام کرنے والے صاحب کو حکومت G.O بھی پڑھنے کو مل گیا تھا تو انہوں نے سرپرست کو بتلایا کہ یہ اطلاع درست ہے کہ تلنگانہ کی حکومت نے گرمائی تعطیلات کا 3 دن پہلے ہی اعلان کردیا ۔ یہ سن کر ان سرپر ست نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کہا کہ اگر حکومت تین دن اور ٹھہر جاتی تو کیا جاتا ، اب تین دنوں تک بچوں کو گھر پر ہی برداشت کرنا پڑے گا ۔
یہ کسی ایک اکیلے سرپرست کی بات نہیں ہے بلکہ بہت سارے اولیائے طلباء اس بات کو لیکر فکر مند تھے کہ جب بچوں کی چھٹیاں تین چار دن پہلے ہی شروع ہورہی ہیں تو اب اس دوران بچوں کا کیا کیا جائے۔ یہ بچے کسی اور کے نہیں بلکہ ان کے اپنے ہیں اور والدین کی اس طرح کی سوچ ہو تو پھر ان بچوں کی تربیت کیسی مشکل ہوگی ، اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ کئی ایک سرپرست برملا اس بات کا اظہار کر رہے تھے کہ شہر میں سمر کیمپ اور دینی گرمائی کلاسس کا باضابطہ آغاز 3 دن بعدہی ہونے جارہا تھا اور اب یہ تین دن کیسے گزریںگے ۔ آخر والدین اپنے ہی بچوں سے اتنے پریشان کیوں ہیں؟ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں نو جوان لڑکے لڑکیوں کو شادی کیلئے تو ذہنی طور پر تیار کروایا جاتا ہے ۔ کیا یہ نوجوان لڑکے لڑکیاں شادی کے بعد ماں باپ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کیلئے تیار ہیں ؟ شائد نہیں تبھی تو اکثر والدین  بچوں کی عادات و اطوار سے لیکر ان کی تعلیم ان کے کھیل کود اور ان کی تربیت کے حوالے سے خالی الذہن رہتے ہیں۔
پرانے شہر حیدرآباد کے ایک اسکول کے کرسپانڈنٹ سے تعطیلات شروع ہونے کے دوسرے ہی دن ایک ماں رجوع ہوتی ہے ۔ ان کی فرمائش ہوتی ہے کہ اس اسکول میں بھی گرما کے دوران بچوں کیلئے کچھ نہ کچھ کلاسس یا کھیل کود کا پروگرام ہونا چاہئے۔ اسکول کرسپانڈنٹ بتلاتے ہیں کہ محترمہ ہمارے ا سکول میں تو ایسا کوئی سسٹم یا پروگرام طئے نہیں ہے لیکن شہر کے دیگر علاقوں اور مقامات پر تو ایسے پروگرام چلائے جاتے ہیں جہاں  پر وہ اپنے بچوں کو داخلہ دلواسکتے ہیں۔ تب اس ماں کا کہنا تھا کہ ہاں اور بھی اسکولس ایسے پروگرام چلا رہے ہیں ۔ مگر وہاں پر بھی تین دن بعد ہی سمر اسکول شروع ہونے والا ہے ۔ جب اسکول کے ذمہ دار نے اس ماں کی بے چینی کا سبب جاننا چاہا تو ماں نے بتلایا کہ ان کو دو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں، سب سے چھوٹا لڑکا ہے جو ابھی گود میں ہے ، اصل مسئلہ دوسرے لڑ کے سے ہے جو انتہائی شریر ہے ، اپنی بہنوں سے مار دھاڑ لڑائی جھگڑا کرتے رہتا ہے ۔ اس کو خاص توجہ کی ضرورت ہے ۔ ہمیشہ اس کو کھیلنے کیلئے کچھ نہ کچھ دینا ہوتا ہے ۔ گھر کی دیگر ذمہ داریوں اور پھر چھوٹے بچے کے رہتے وہ اس پر مکمل توجہ نہیں دے سکتی ہیں۔ ایسے میں مسائل پیدا ہوجاتے ہیں ۔ ڈاکٹر دیوانگ پاریکھ نے اخبار ٹائمز آف انڈیا کو ایک انٹرویو دیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ تین سال سے لیکر 12 سال کے غیر معمولی متحرک اور تیز بچوں میں اس طرح کے مسائل دراصل ان کے والدین کی غیر ذمہ د اری نہیں بلکہ ان کی لاعلمی ہے کہ یہ بچوں سے جڑی ہوئی ایک نفسیاتی بیماری ہے جس کو بچوں کا Hyperactive ہونا کہا گیا ہے ۔ بچوں کی نفسیات کے ماہر کا کہنا ہے کہ بچوں کی اس  غیر معمولی چستی پھرتی اور اچھل کود کا باضابطہ طورپر علاج ممکن ہے جس میں غذا سے لیکر بچوں کی کونسلنگ شامل ہے۔
کتنے والدین اس بات سے واقف ہیں کہ ان کے بچوں کو جس طرح صحت مند رکھنے ٹیکے ضروری ہیں ۔ ویسے ہی عصر حا ضر کے نت نئے مسائل کا سامنا کرنے اور ان سے بچے رہنے کیلئے بھی علاج کی ضرورت ہے ۔ کیا امراض صرف جسمانی ہوتے ہیں؟ کیا بچوں کو بھی نفسیاتی امراض لاحق نہیں ہوتے؟ یہ تو بچوں کی نفسیات سے جڑے مسائل کی بات تھی۔ تعطیلات کے دوران بچوں کے ساتھ والدین کا ایک اور معاہدہ بھی ہوتا ہے جہاں پر والدین بچوں کے ہاتھوں میں اسمارٹ فونس ، انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن کے ریموٹ کے علاوہ گاڑیاں چلا نے کا مواقع فراہم کرتے ہوئے اپنے لئے سکون اور چین حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کیا یہ والدین کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اس بات کی نگرانی کرتے رہیں کہ ان کے بچے موبائیل ہو یا انٹرنیٹ اس کے ذریعہ کیا چیزیں دیکھ رہے ہیں اور کیا سیکھ رہے ہیں۔ HSBC ایک عالمی مالیاتی ادارہ ہے ۔ اس ادارے نے دنیا کے 16 ملکوں میں 5 ہزار 5 سو والدین / سرپرستوں سے انٹرویو کرنے کے بعد ایک رپورٹ مرتب کی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستانی سرپرستوں کی ا کثریت اپنے بچوں کو ان کے کیریئر میں کامیاب بنانا چاہتی ہے جبکہ کینیڈا میں والدین کی اکثریت چاہتی ہے کہ ان کے بچے خوش رہیں۔ چین میں والدین کی اکثریت کی خواہش ہے کہ ان کے بچے صحت مند رہیں جبکہ ہانگ کانگ میں سرپرستوں کی اکثریت چاہتی ہے کہ ان کے بچے اتنا کمالیں کہ آسانی سے زندگی گزار سکیں۔
16 ملکوں کے سروے میں ہندوستان کے سرپرست نویں مقام پر ہیں جو اپنے بچوں کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل نے HSBC کے اس سروے کے حوالے سے ایک رپو رٹ شائع کی جس کے مطابق ہندوستانی سرپرستوں کیلئے صحت اور دولت  نہیں بلکہ خوشی بھی نہیں صرف اپنے بچوں کا ان کے کیریئر میں کامیاب ہونا ہی اصل خواہش ہے۔
راجستھان کے کلپت ویروال نے (JEE)  کے امتحان میں آل انڈیا فرسٹ رینک حاصل کیا۔ اودے پور کے ایک کمپاؤنڈر کا یہ لڑکا اخبار ہندوستان ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتلاتا ہے کہ میں نے اسمارٹ فونس کا اسمارٹ طریقے سے استعمال کیا ، میں صرف سوشیل ویب سائیٹس استعمال نہیں کرتا تھا بلکہ میری اسٹیڈیز سے متعلق بہت ساری انفارمیشن میں انٹرنیٹ سے ہی معلوم کرتا تھا ۔ (بحوالہ HT 28 اپریل 2017 ء) کیا والدین اور سرپرستوں کیلئے اتنا سوچنا کافی ہے کہ ان کے بچے اچھا پڑھ لیں ۔ ڈگریاں حاصل کرلیں جو لوگ ایسی سوچ رکھتے ہیں ان کیلئے عرض کرنا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی قابلیت اور تو اور گولڈ میڈل بھی اب جیل میں رہنے والے قیدی بھی حاصل کر رہے ہیں۔ بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے سیتاراما راؤ کے مطابق یونیورسٹی نے (3) برسوں کے وقفہ کے بعد اس برس اپنا جلسہ تقسیم اسنادات یکم مئی کو منعقد کی تھی جس میں 381 قیدیوں نے بھی ڈگری اور اسنادات حاصل کئے۔ ان میں 361 مرد قیدی ہیں اور 20 خاتون قیدی ہیں، جو تلنگانہ اور آندھرا کی مختلف جیلوں میں مقید ہیں۔ یہی نہیں گریجویشن میں بہترین مارکس لانے پر ایک قیدی کو گولڈ میڈل سے بھی نوازا جائے گا ۔ (بحوالہ تلنگانہ ٹوڈے 30 اپریل 2017 ء)
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت کے تیئں اپنا نقطہ نظر بدلیں۔ نہ صرف والدین کو ان کی ذمہ داریوں سے واقف کروائیں بلکہ بدلتے ہوئے حالات میں بچوں کو درپیش مسائل اور چیالنجس سے آگاہ کریں۔ جس طرح شادی سے پہلے لڑکیوں کی ذہنی تربیت کا سامان کیا جاتا ہے ویسے ہی ہر دو لڑکا اور لڑ کی کو شادی کے بعد اولاد کی تربیت کی ذمہ داری کا بھی احساس دلایا جائے اور خاص کر یہ نکتہ واضح کردیں کہ اولاد کی تربیت اسکول اور کالجس میں نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ والدین کی ذمہ داری ہے اور انہی کو پورا کرنا ہے ۔ جیسا کہ JEE کے امتحان میں ٹاپ آنے والے طالب علم نے کہا کہ اسمارٹ فون کا رکھنا کسی کو ا سمارٹ نہیں بناتا بلکہ فون کا اسمارٹ استعمال ضرور فائدہ دے سکتا ہے ۔ کامیابی کبھی اتفاقی نہیں ہوتی بلکہ بچوں کی کامیابی کیلئے والدین کا بہت بڑا رول ہوتا ہے ۔ کامیابی محنت کا ہی نتیجہ ہوتی ہے ۔ اس کا ایک اور ثبوت آگسٹیا جیسوال ہے ۔ نینا جیسوال کا چھوٹا بھائی جس کی عمر صرف (11) برس ہے ، آگسٹا جیسوال نے اس برس انٹرمیڈیٹ کا امتحان لکھا ہے۔ نینا جیسوال نے بھی کم عمری میں یعنی 13 برس کی عمر میں سینٹ میری کالج سے گریجویشن مکمل کرلیا تھا۔ ٹیبل ٹینس کی اس کھلاڑی کو God Gifted کہا گیا لیکن نینا کے وا لدین نے اپنے چھوٹے لڑکے آگسٹیا جیسوال کو انٹرمیڈیٹ میں کامیابی دلواتے ہوئے ثابت کیا کہ God Gift تو عقل کی شکل میں ہر ایک کے پاس ہوتا ہے ۔ اب اس کا استعمال ہم کیسے کرتے ہیں ۔ یہ ہم ہی پر منحصر ہے۔ نینا جیسوال کی کامیابی اتفاقی نہیں بلکہ محنت کا نتیجہ ہے ۔ آگسٹیا کی کامیابی نے بھی یہی سبق دوہرایا ہے ۔ کیا ہم اب اپنے بچوں کے تئیں اپنے نقطہ نظر کو بدلنے تیار ہیں ۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ کاش کہ کوئی بتلایئے
خدا توفیق دیتا ہے جنہیں وہ یہ سمجھتے ہیں
کہ خود اپنے ہی ہاتھوں سے بناکرتی ہیں تقدیریں
[email protected]

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT