Friday , July 28 2017
Home / شہر کی خبریں / خراب ریکارڈ والے عہدیداروں کو وزراء کی پیشی سے برخاست کرنے کی ہدایت

خراب ریکارڈ والے عہدیداروں کو وزراء کی پیشی سے برخاست کرنے کی ہدایت

اراضی اسکام پر اپوزیشن کی حکومت پر تنقیدوں کے بعد چیف منسٹر کا اجلاس
حیدرآباد۔/15جون، (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے وزراء کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی پیشیوں سے ایسے عہدیداروں کی خدمات کو ختم کردیں جن کا ریکارڈ ٹھیک نہیں ہے۔ حالیہ اراضی اسکام میں متعلقہ وزراء کو لاعلم رکھتے ہوئے محکمہ کے عہدیداروں کی لینڈ مافیا سے ملی بھگت کا معاملہ منظر عام پر آیا ہے۔ چیف منسٹر اس معاملہ میں کسی بھی وزیر کو ذمہ دار قرار دینے سے گریز کررہے ہیں اور ان کا احساس ہے کہ وزراء کو لاعلم رکھتے ہوئے یہ غیرقانونی سرگرمیاں انجام دی گئیں لہذا وزراء کو مستقبل میں اپنی نیک نامی برقرار رکھنے کیلئے پیشیوں کی صفائی کرنی چاہیئے اور بدعنوان عہدیداروں کو علحدہ کردیا جائے۔باوثوق ذرائع کے مطابق حالیہ عرصہ میں میاں پور اراضی اسکام کو بنیاد بناکر اپوزیشن جماعتوں نے جس طرح حکومت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اس پر چیف منسٹر نے اپنے قریبی اور بااعتماد وزراء اور قائدین کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ چیف منسٹر کو بتایا گیا کہ نچلی سطح پر ملازمین کی بے قاعدگیوں اور بعض وزراء کی پیشی میں موجود عہدیداروں کی ملی بھگت کے نتیجہ میں یہ اسکام منظر عام پر آیا ہے۔ چیف منسٹر کو بتایا گیا کہ اراضی پر ناجائز قبضہ کی سرگرمیاں کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ کئی برسوں سے لینڈ مافیا اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث تھا لیکن ٹی آر ایس حکومت نے ان سرگرمیوں پر روک لگانے کی کوشش کی ہے۔ کانگریس اور تلگودیشم دور حکومت میں بھی لینڈ مافیا نے کئی سرکاری اراضیات کو خانگی ظاہر کرتے ہوئے رجسٹریشن کروائے لیکن اسوقت کی حکومتوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے وزراء کو ہدایت دی کہ وہ کانگریس دور حکومت میں وزراء کے ساتھ کام کرنے والے ملازمین اور عہدیداروں کو اپنی پیشی میں تعینات کرنے سے گریز کریں تاکہ حکومت کو بدنامی سے بچایا جاسکے۔ چیف منسٹر کا یہ احساس تھا کہ وزراء کو تاریکی میں رکھ کر نچلی سطح کے اسٹاف نے اپنے مالی مفادات کی تکمیل کیلئے اس طرح کی سرگرمیوں کی تائید کی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے پارٹی قائدین کو مشورہ دیا کہ ہر کوئی اراضی معاملت میں تبصرہ کرنے سے گریز کرے کیونکہ اس سے اپوزیشن جماعتوں کو حکومت کے خلاف مزید بیان بازی کا موقع ہاتھ لگ جائے گا۔ اسکام کے سلسلہ میں جو کچھ بھی کہنا ہے وہ حکومت کی سطح پر کہا جائے گا اور سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کی تکمیل کے بعد حقائق منظر عام پر آجائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے اراضی معاملات کی سی بی آئی تحقیقات کے مطالبہ کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بی جے پی مرکز میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے سی بی آئی تحقیقات کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے حالیہ اسکام کے سلسلہ میں ریاستی حکومت سے رپورٹ طلب کئے جانے کی اطلاع ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے چیف سکریٹری اور دیگر عہدیداروں کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ وزارت داخلہ کے مکتوب کا جائزہ لیتے ہوئے اس کا جواب دیں۔

TOPPOPULARRECENT