Tuesday , September 19 2017
Home / شہر کی خبریں / خشک سالی سے نمٹنے مرکزی حکومت سے 3094 کروڑ منظور کرنے کیلئے نمائندگی : محمد محمود علی

خشک سالی سے نمٹنے مرکزی حکومت سے 3094 کروڑ منظور کرنے کیلئے نمائندگی : محمد محمود علی

زرعی ایمرجنسی کا نفاذ اور پینے کے پانی کی سربراہی کو یقینی بنانے کا مطالبہ : محمد علی شبیر
حیدرآباد ۔ 21 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : ریاست میں خشک سالی کی ابتر صورتحال کو دیکھتے ہوئے زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے اور کسانوں کو راحت پہنچانے کے ساتھ عوام کو صاف پینے کے پانی کی سربراہی یقینی بنائی جائے ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل جناب محمد علی شبیر نے آج خشک سالی پر قانون ساز کونسل میں ہوئے مختصر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے مطالبہ کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں خشک سالی سے نمٹنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نظر نہیں آرہا ہے لیکن صورتحال بتدریج ابتر ہوتی جارہی ہے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ریاست کو خشک سالی سے متاثر قرار دیتے ہوئے زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کرے ۔ جناب محمد علی شبیر نے کہا کہ زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کے ذریعہ حکومت تلنگانہ حالات سے نمٹنے کے اقدامات کرسکتی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں نہ صرف کسانوں کی حالت خراب ہورہی ہے بلکہ کئی علاقوں میں پینے کے پانی کے مسائل پیدا ہوچکے ہیں اور عوام آبی قلت کا سامنا کررہے ہیں ۔ مباحث کے دوران ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی نے بتایا کہ ریاست میں خشک سالی کا جائزہ لینے کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے مرکزی حکومت کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے 3094 کروڑ روپئے کی منظوری کے لیے نمائندگی کی گئی تاکہ خشک سالی سے نمٹنے کے اقدامات کئے جاسکیں۔ جناب محمد محمود علی نے مباحث کے دوران ایوان کو اس بات سے واقف کروایا کہ ریاست میں 231 منڈلوں کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا گیا ہے ۔ سب سے زیادہ ضلع محبوب نگر کے 64 منڈل خشک سالی کے متاثرہ منڈلوں کی فہرست میں شامل ہیں ۔ علاوہ ازیں میدک ، نظام آباد ، رنگاریڈی ، نلگنڈہ ، کریم نگر ، ورنگل کے اضلاع میں بھی کچھ منڈل خشک سالی سے متاثرہ قرار دئیے گئے ہیں ۔ خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی سربراہی کے لیے حکومت نے 55 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں ۔ خشک سالی پر منعقدہ مختصر مباحث کے دوران جناب محمد علی شبیر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر کسانوں کی باز آبادکاری کے اقدامات کا جامع منصوبہ پیش کرے ۔ انہوں نے ریاستی حکومت کو مشورہ دیا کہ ریاست میں جہاں کہیں زیر زمین پانی دستیاب ہے وہاں نئی بورویلس کی تنصیب یقینی بنائی جائیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اگر ضرورت ہے تو حکومت ارکان اسمبلی و قانون ساز کونسل کے بجٹ کا نصف حصہ خشک سالی سے راحت کے اقدامات میں استعمال کرنے پر غور کرے ۔۔

TOPPOPULARRECENT